نقلی جواہرات

 

آج کل جدید سائنس کی بدولت نقل کے کام نے بہت ترقی کر لی ہے۔ اصل سے بہتر نقل دستیاب ہے۔ جو قیمت میں بھی کم ہوتا ہے۔ تاہم میرا مشورہ یہ ہے کہ ان نقلی پتھروں کے استعمال سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ سو زیادہ پیسے نہیں ہیں تو سستا پتھر خرید لیں لیکن ہو اصل،اگر اصل ہو گا تو اس کا فائدہ ہو گاورنہ نہیں۔ نقلی پتھر ایسے ہی ہے جیسے آپ نے رنگ دار شیشہ یاپلاسٹک پہن رکھا ہو۔

            وہ پتھر جو عام پتھروں کی نسبت خاص خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں اور خوش قسمتی یا بدقسمتی یا حصول صحت یا روحانی اور طبی اُمور میں استعمال ہوتے ہیں حرف عام میں نگینے یا جواہر کہلاتے ہیں۔ یہ جواہر بلحاظ قیمت، مہنگے ہوتے ہیں۔ کمیاب‘ خوبصورت اور خاص کوالٹی کے جواہر عام آدمی ہی کیا بعض حالتوں میں اچھے خاصے دولت مندوں کی قوت خرید سے باہر ہوتے ہیں۔ تاہم جواہرات کی ایک بڑی تعداد کی قیمت اتنی ہوتی ہے کہ عام آدمی بھی ان کو خرید سکتا ہے۔

نقلی و اصلی جواہر

            جواہر یا پتھر لیتے ہوئے اس کا خاص خیال رکھیں کہ اصل ہو۔ گو نقلی پتھر ہمیشہ سے ہی بنتے چلے آ رہے ہیں لیکن آج کل جدید سائنس کی بدولت نقل کے کام نے بہت ترقی کر لی ہے۔ اصل سے بہتر نقل دستیاب ہے۔ جو قیمت میں بھی کم ہوتی ہے  اور دیکھنے میں زیادہ خوشنما اور دل موہ لینی والی ہوتی ہے۔ تاہم میرا مشورہ یہ ہے کہ ان نقلی پتھروں کے استعمال سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ سو زیادہ پیسے نہیں ہیں تو سستا پتھر خرید لیں لیکن ہو اصل۔ اگر اصل ہو گا تو اس کا فائدہ ہو گا ورنہ نہیں۔ نقلی پتھر ایسے ہی ہے جیسے آپ نے رنگ دار شیشہ یا پلاسٹک پہن رکھا ہو۔

             دو نمبر پتھر انتہائی سستی قیمت کے ساتھ ساتھ انتہائی مہنگی قیمت پر بھی خریدار کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ یعنی رقم بھی خرچ کی اور حاصل بھی کچھ نہیں ہوا۔ حاصل ہوا تو صرف اور صرف پلاسٹک یا مصالحہ دار پتھر۔

            کلر تھر اپی کے حوالے سے بعض لوگ اس بات کے حامل ہیں کہ نگ چاہے نقلی ہو لیکن اس کا رنگ اگر مطلوبہ جواہر جیسا ہوں تو اس کے اثرات ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ جواہرات کو صرف رنگوں کی بنیاد پر استعمال نہیں کیا جاتابلکہ اِن کی خصوصیات اِن کے استعمال کا باعث ہوتی ہیں۔ ہاں اگر آپ کلر تھراپی یعنی رنگوں کے خواص سے مفیدہونے کے خواہشمند ہوں تو پھر بھی رنگ دار پتھر مفید ثابت نہ ہوںگے اور رنگ اس حوالے سے زیادہ اثرات نہ دے سکیں گے جن کی آپ توقع کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب علم نجوم میں کلر تھراپی یا رنگوں کے خواص سے مستفید ہونے کی بات کی جاتی ہے تو نقلی جواہرات کی بجائے اس مقصد کے لیے رنگ دار کپڑے کا کسی بھی طرح سے استعمال یا رنگ دار شعاعوں سے یا ثانوی طور پر کسی بھی رنگ دار شہ کا استعمال موثر مانا جاتا ہے۔ برائے بحث آپ کلر تھراپی کے لیے اس کو بھی موزوں قرار دے سکتے ہیں لیکن نقلی یا دو نمبر جواہرانسانی ہاتھ کو وہ عزت و توقیر نہیں دیتا جو اصل کا خاصہ ہے اور نہ ہی یہ اصلی جواہرات کے اثرت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔