یاداشت کی درستگی کیوں, کیسے کس لیے

عام الفاظ میںاگر حافظے کی تعریف کی جائے تو اسے ذہن کی فطری قوت کہہ سکتے ہیںاور اگر یہی قوت ہماراساتھ نہ دے تو ہم زندگی کے کسی شعبے میںکامیابی حاصل نہیںکرسکتے اور اگر ذہن کے کسی گوشے میںفراموشی کا عنصر نہ ہوتوہم بری طرح ذہنی انتشارکاشکار ہوجائیں۔
قدرتی طورپر اﷲتعالیٰ نے ہر انسان کوحافظے کی قوت کے ساتھ ساتھ فراموشی کی صلاحیت بھی عطاکی ہے اور اگریہ صلاحیت ہ چھن جاتی توذہن اتنے سارے خیالات کی آماجگاہ بن جاتا کہ انسان میںاس کابوجھ اٹھانے کی سکت باقی نہ رہتی۔ یہ گزرے ہوئے واقعات کے حامل خیالات ذہن کو بری طرح مجروح کرتے اور ہرشخص کے لب پر ایک ہی دعاہوتی کہ۔

Read More
Menu