اسلام˛Islam

نظام مصطفیٰ ﷺ کاحسین پہلو اخوت و بھائی چارہ,nizaam mustafa ka haseen pehlu akhuwat o bhai charah,

Posted On اپریل 21, 2020 at 1:51 شام by / No Comments

نظام مصطفیٰ ﷺ کاحسین پہلو اخوت و بھائی چارہ

تحریر:علامہ ابو یاسر اظہر حسین فاروقی

 

حضور پر نور، شافع محشر، نبی محتشم ﷺ کی ولادت باسعادت بے شک اللہ تعالیٰ کے احسانات عالم میںسے ایک بہت بڑا احسان ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا‘‘ ’’انسانیت کی ہدایت و راہنمائی کے لیے دو عظیم تحفے عطا فرمائے گئے ہیں‘‘۔
ایک تحفہ اللہ رب العزت کی طرف سے عطا ہوا۔ ایک تحفہ رحمت اللعالمین ﷺ کی طرف سے عطا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تحفہ ملا وہ ہے میلاد مصطفیؐاور نبی کائنات کی جانت سے جو تحفہ ملا ہے وہ ہے سیرت مصطفیؐ۔ تو اگربارہ ربیع الاول شریف بروز پیر کو وادی مکہ میںسیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رحمت کائنات ؐ کا میلاد (ولادت) نہ ہوتا تو آج نہ سیرت ہوتی نہ شریعت ہوتی۔ سیرت و شریعت دونوں امامالانبیاءؐ کے میلاد کے صدقے ملیں۔ سیرت نام ہے اقوال و افعال مصطفی کا اور شریعت قرآن و حدیث کامجموعہ کہلاتی ہے۔ قرآن حکیم کانزول نبی آخر الزماں پر ہوا۔
تو ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’نزلنا علی عبدنا‘‘۔
’’اسے ہم نے اپنے بندے پرنازل فرمایا‘‘۔
قرآن پاک کے اسرار و رموز کو آشکار فرمانے کانام حدیث ہے۔ جو قولی بھی ہے اور فعلی بھی ۔ قرآن پاک نے اصول بیان فرمائے ہیں۔ مثلاً نماز پڑھو۔ کسی طرح پڑھیں زکوٰۃ و نکاح کرو وغیرہ،اس کا طریقہ اور تفصیل حضور پر نور ﷺ کے اقوال و افعال سے ملے گی۔ یعنی نبی کریم رئوف الرحیمؐ نے جو فرما دیا اور جو کر کے دکھا دیاوہ شریعت ہے اور یہی نظام مصطفی ﷺ ہے۔ جوضابطہ حیات اور دستور العمل سرور دین و جاںؐ لے کرمبعوث ہوئے اس ضابطۂ حیات کو سرکار دو عالم، نور مجسمؐ نے نظام مصطفیؐ کے ذریعے انسانیت کے سامنے بطور آئیڈیل، رول ماڈل پیش کیا۔ تا کہ بھٹکی ہوئی انسانیت کومنزل حقیقی مل جائے۔
نظام مصطفی ﷺ کا حسین پہلو اخوت و بھائی چارہ ہے۔ نظام مصطفی ﷺ میں حکمرانی سے لے کر معاشرتی، معاشی اورسماجی زندگی اور انسانی حقوق کاتحفظ جیسے تمام اہم پہلو اور رہنما اصول اور ضمانت موجود ہے۔ انسانی زندگی میں نکھار پیدا کرنے اور بکھرے ہوئے دانوں کو یکجا کر کے ایک تسبیح کی شکل دینے میںنبی علیہ السلام کانظام اخوت و محبت ہی اصل میںاسلامی معاشرہ کی تشکیل نو کی اساس ہے۔
بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب معاشرہ انتہائی بگڑا ہوا تھا۔ ذرا ذرا سی بات پر فسادات قتل و غارت اور سلسلہ نفاق نسل درنسل چلتاتھا۔ خون کی ندیاں بہتیں لیکن افراد معاشرہ کی انتقامی آگ نہ بجھتی تھی۔ کفر وشرک، عدوان و افتراق کا بازار ہمیشہ گرم رہتا تھا۔ ایسے ماحول میں اخوت و مساوات، شرافت و انسانیت کا چراغ تو کجا، ایک چنگاری بھی نظر نہیں آتی تھی۔ ہر طرف تاریکی ہی تاریکی تھی۔ ہاتھوں کے تراشے صنم کعبہ میںبھگوان بنے بیٹھے تھے۔ گویا!
ناریوں کا دور تھا اور دل جل رہا تھا نور کا
آپ ﷺ کو دیکھایا نبی ﷺہو گیا ٹھنڈا کلیجہ نورکا
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ آمد مصطفی ﷺ سے قبل تم کس گمراہی میںتھے۔

لقد من اللہ علی المومنین اذبعث فیھم رسولاً من انفسھم یتلو علیھم ایتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتب و الحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبینo (سورۃ آل عمران آیت ۱۶۴)

ترجمہ: بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا۔ مسلمانوں پرکہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے۔انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے گمراہی میںتھے۔ اب اس ایک آیت مبارکہ میں میلاد النبی ﷺ بعثت نبوی ؐ رسالت نبویؐ تعلیم نبویؐ معاشرہ میں تطہیر نبوی ﷺعلم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرب کی معاشرتی جہالت کا ذکر ہے۔
سیدہ العالمین ﷺ کی ولادت ہونا آپ کا مبارک قدم زمین پر پڑنا تھا کہ اس کی برکت سے عرب کا جاہلانہ ماحول اور نقشہ ہی بدل گیا۔ کفر وشرک کی آندھیاں ختم ہوگئیں اور قتل و غارت کابازار ٹھنڈا پڑ گیا۔ معلم کائنات نے اپنے حسن تدبیر اور اخلاق حسنہ سے پہلے عرب کے بگڑے ہوئے لوگوں کی اخلاقی اصلاح فرمائی۔ انکے دل ایک دوسرے کے لیے نرم فرمائے۔ ان میں اخوت وبھائی چارے کوفروغ دیا۔ وہ سر جوبتوں کے آگے جھکتے تھے۔ وہ خدائے وحدہ لا شریک کے حضور سر بسجود ہو گئے۔ ایمانی رشتہ نے انہیں بھائی بھائی بنادیا۔ جو کہ نسلی اور نسبی رشتہ سے بھی زیادہ مضبوط اور نہ ختم ہونے والا رشتہ ہے۔ یہی قرآنی تعلیم ہے کہ انما المومنون اخوۃ، تعلیم مصطفی ﷺ نے انہیں عملاً بھائی، بھائی بنا دیا۔ ان کے دلوں کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے سیسہ پلائی دیوار بنا دیا۔ چنانچہ ایک دوسرے سے مربوط کر کے سیسہ پلائی دیوار بنا دیا۔ چنانچہ سورۃ آل عمران میں اللہ رب العالمین نے فرمایا۔ ’’اور اللہ رسی کومضبوط تھام لو، سب مل کر آپس میںپھٹ نہ جانا اور اللہ کا اپنے اوپر احسان یاد کرو۔ جب تم میںدشمنی تھی تو اس نے تمہارے دلوں کو قریب کر دیا۔ تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے، یوں تونبی آخر الزمان نے مکہ مکرمہ میں ہی اپنے جانثاروں کے لیے مواخات، بھائی چارہ قائم فرما دیا تھا۔ لیکن ہجرت مدینہ منورہ کے بعد مہاجرین مکہ او ر انصار مدینہ میںجومواخات پیدا فرمائی۔ تاریخ عالم میں اس کی مثال نہیںملتی، تعمیر مسجد نبوی شریف کے بعد ایک روز سرور کون و مکاںؐ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان پر تمام مہاجرین و انصار کو جمع فرمایا۔ مہاجرین کی تعداد پچاس کے قریب تھی۔ آپؐ نے انصار رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں۔ یہ اپنا ماہ و متاع مکہ مکرمہ میں چھوڑ کر رضائے الٰہی کے لیے ہجرت کر کے مدینہ میںتمہارے پاس آئے ہیں۔ پھر حضورؐ نے ان میںمواخات پیدا فرمائی۔ ایک مہاجر، ایک انصار کوآپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔ اس کے بعد انصار مدینہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہماری تمام جائیداد اشیاء میں سے نصف ہمارے بھائی مہاجر کے لیے ہے۔
حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ جو کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بھائی قرار دئیے گئے تھے۔ انہوں نے ایک تاریخی مثال کی عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میری دو بیویاں ہیں۔ میرا بھائی جسے پسند کرے میں اسے طلاق دے دوں گا تاکہ میرا مہاجر بھائی اس سے نکاح کر لے یہ سن کر حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا آپ کا شکریہ۔ پس آپ ہمیں بازار کا رستہ دکھا دیں۔ اس کے بعد مہاجرین مکہ نے مدینہ منورہ کے مشہور سوق قتیقاع میں کپڑے اورکھجور کی تجارت شروع کر دی۔
اب حضور نبی رحمت ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کوکیا تعلیم دی کہ ایک مومن کواپنے دوسرے مومن بھائی سے کیا سلوک کرنا چاہیے۔ فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے اسے اپنے بھائی سے اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ مسلمان اپنے حق عبد کوسمجھے، مسلمان پر ظلم نہ کرے اور نہ اس کو ذلیل کرے۔ جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی ضروریات پوری فرمائے گا۔ جو کوئی کسی مسلمان سے مصیبت دور کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کی مصیبتوں میں سے اس کی کوئی ایک مصیبت دور فرمائے گا۔ جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرو ظالم ہو خواہ مظلوم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ ہم اپنے مظلوم بھائی کی تو مدد کرتے ہیں۔ اپنے ظالم بھائی کی مدد کس طرح کریں۔ تو روح قلب وجاںؐ نے فرمایا کہ ظالم کی مدد یہ ہے کہ اس کا ہاتھ پکڑ لو تا کہ وہ ظلم سے باز آئے۔ (بخاری ج ۔ا)
مسلمانوں کو کس درجہ انصاف پسند، مساوات کا خوگر اور حقوق کا محافظ دیکھنا چاہتا ہے۔وہ کتنی مفید ہے؟ اور ریاست مدینہ کا نظام عدل کتنا متضانہ ہے۔ حضرت جریر بن عبد اللہ فرماتے ہیں:۔
کہ بارگاہ مصطفویٰ ﷺ میں حاضر ہوا۔ اور عرض کی یا رسول اللہؐ میں آپ سے اسلام پر بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ تو تاجدار کائناتؐ نے اسلام کے ساتھ، ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی شرط عائد فرمادی۔ (بخاری شریف)
ایک اور حدیث میں ہے کہ دین ہر مسلمان کی خیر خواہی چاہتا ہے۔ لیکن مذکورہ بالا حدیث میں ہر مسلمان کی خیر خواہی، بھلائی کو شرط دین اسلام قرار دیا۔ تاکہ واضح ہو کہ اس کے بغیر دین و ایمان مکمل نہیں ہوتا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں۔ کہ آقا دو جہاں ﷺ نے فرمایا کہ ایک تاجر لوگوں سے لین دین کرتا تو اپنے خادموں سے کہتا کہ قرض داروں کو مہلت دیا کرو۔ اس امید پر کہ شاید اللہ تعالیٰ ہم سے در گزر فرمائے۔ اس کے اس عمل پر اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا۔ معلوم ہوا کہ قرض دار اگر تنگ دست ہو تو اسے معاف کر دینا یا مہلت دے دینا باعث رحمت و مغفرت ہے۔
حدیث پاک میں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی آخر الزماں ﷺ نے سودے پر سودا۔بیع پر بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام بھیجنے سے بھی منع فرمایا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور دوسرے مسلمان بھائی کی حق تلفی بھی ہے۔ ایک حدیث پاک میں ہے کہ سرور کائناتؐ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے کہ دوسرے مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ رہیں۔ زبان اور ہاتھ پر ، کنٹرول اگر ہو جائے اور اس کا غلط نہ ہو تو انسان کتنے کبیرہ گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ کیونکہ مومن کی نشانی یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ وہی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ ایک نوجوان بارگاہ مصطفویٰؐ میںحاضر ہوا تو اس نے حضور علیہ السلام سے زنا کرنے کی اجازت مانگی۔ حضور پر نورؐ نے اس کی گفتگو سنی، تو شفقت بھرے انداز میں فرمایا کہ تو یہ چاہتا ہے کہ تیری ماں بہن کے ساتھ کوئی ایسا کرے۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہؐ میں ہرگز ایسا نہیں چاہتا تو معلم کائناتؐ نے فرمایا جب تو اپنوں کے لیے یہ پسند نہیں کرتا تو پھر تجھے دوسروں کے ساتھ ایسا کرنے کا کیا حق ہے۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہؐ میںکبھی ایسا نہیںکروں گا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ ﷺ نے فرمایا۔ گمان سے بچو، بدگمانی بہت بری اور جھوٹی بات ہے۔ لوگوں کی پوشیدہ باتوں کا کھوج مت لگائو۔ ان کے خفیہ احوال کی تفتیش میں نہ پڑو، آپس میں بغض نہ رکھو، بھائی بھائی ہو جائو اور کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی منگنی پرمنگنی نہ کرے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے۔ (بخاری شریف)
مفاد مذکورہ حدیث پر غور کریں اور بیان کردہ باتوں سے پہلے انسان یہ سوچے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اوپر بھی کراماً کاتبین کومقرر کر رکھا ہے۔ جو دن بھر کی میری ڈائری بھی تیار کرتے ہیں۔بستر پر سونے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچئے کہ آج کے دن میں نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے۔ اس پر غور کریں شاید کہ تیرے دل میں اترجائے میری بات۔
مسجد نبوی ﷺ شریف میں ایک اعرابی آیا اس نے نماز پڑھی تو نماز کے بعد اس نے دعا مانگی اللھم ارحمنی و محمدا، یعنی اے اللہ مجھ پر رحم کر اور محمد مصطفی ﷺ پررحمت، عالم حضور پرنور ﷺ نے جب اس اعرابی کی دعا کے یہ الفاظ سنے تو آپ ﷺ نے فرمایا تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کومحدود کر دیا ہے۔ ’’سنو جب دعا مانگو تو اپنے مسلمان بھائیوں کو بھی اس میںشامل کرو‘‘۔ نوٹ : ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :۔
’’ربنا غفرلی والوالدی وللمومنین یوم یقوم الحساب‘‘
’’اے اللہ مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور قیامت تک آنے والے مومنین کوبھی یہ وہ مومنین ہیں جو ابھی عالم ارواح میں ہیں کچھ باپوں کی پشتوں میں اورکچھ ماں کے شکموں میں وہ تو ابھی دنیا میں آئے بھی نہیں ہیں۔ لیکن حکم الٰہی یہ ہے کہ اپنی دعائوں میں ان مومنین کوبھی شامل کر لیا کرو اور دعا مانگتے وقت اللہ تعالیٰ سے مفید ترین چیز مانگو جو اپنے لیے بھی دوسروں کے لیے بھی نفع بخش ہو۔
حدیث پاک میں آتا ہے کہ بیوائوں اور مسکینوں کی مدد کرنے والا اللہ تعالیٰ کے رستے میں جہاد کرنے والے کی مثل ہے۔گویا جس نے غربا و مساکین اور بیوائوں کی مدد کی اس نے جہاد میں شامل ہونے والے مجاہدین اسلام جتنا ثواب پایا۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہے جب ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو سارے بدن کو بیمار کر دیتا ہے۔ گویا بدن کا ہر حصہ اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔
اپنے پڑوسی کا ہر حال میں خیال رکھو۔ اس کے دئیے ہوئے ہدیے کی قدر کرو۔ خواہ وہ بکر ے کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے خلوص کو پیش نظررکھتے ہوئے ’’جزاک اللہ‘‘ کہو اس کا شکریہ ادا کرو۔ حضور علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جو بندے کی قدر نہیں کرتا وہ اپنے رب کی قدر کیا کرے گا۔ تمہارا پڑوسی تمہارے دروازے پر آکر تم سے ایک حقیر سا برتن ہی مانگتا ہے تو اسے فوراً دے دو۔ کیونکہ تمہارا انکا حقیقت میں دین کو جھٹلانا ہے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ آپس میںایک دوسرے کو تحفہ، ہدیہ دیا کرو۔ اس سے محبت بڑھتی اور نفرت ختم ہوتی ہے۔ دل ایک دوسرے کے لیے نرم ہوتے ہیں۔ آپس میںبھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔انسانی قدریں اجاگر ہوتی اور انسانی عظمت میں اضافہ ہوتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا۔
’’بے شک تم میں ایک مسلمان اپنے بھائی کا آئینہ ہے۔ اس میں کوئی برائی یا تکلیف دیکھے تو چاہیے کہ دور کر دے‘‘۔ (ترمذی)
حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور پر نور ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنے بھائی کی عزت کو واپس لائے۔ تواللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ دور فرمائے گا۔ (ترمذی)
نوٹ: اپنے مسلمان بھائی کی کھوئی ہوئی عزت واپس لوٹانے کے عوض قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ سے محفوط فرمائے گا۔ اس لیے کسی کی غیبت کرنا۔ اس کی عزت پر ڈاکہ ڈالنا۔ فرمودات خداوندی اورتعلیمات نبوی ﷺ کے منافی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار کائنات نے فرمایا۔ آپس میں قطع تعلق نہ کرو۔ اور نہ ایک دوسرے کو پیٹھ دکھائو اور نہ آپس میں بغض و حسد رکھو۔ سب خدا کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن جائو اور کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے (ترمذی) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سید العالمین ﷺ نے فرمایا۔ ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملے اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں ڈال دے نیز مسلمان کو گالی دینا فسق (گناہ) ہے اور اس سے قتال کفر ہے۔
نوٹ: نظام مصطفی ﷺ میں اخوت و بھائی چارے کے فروغ سے معاشرتی برائیوں اور ناہمواریوں کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ انسان دنیاوی کامیابی و کامرانی کے ساتھ آخرت بارگارہ الوہیت میں بھی سرخرو ہو جاتا ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ اخوت و بھائی چارہ اور برادرانہ حقوق کے بارے کیسی کیسی جزئبات کو فرمودات نبوی نے سمیٹ لیا ہے۔ صحابہ کرام اور اولیاء عظام نے اسی طریق کو اختیار فرمایا تو دنیا و آخرت میں سرخرو ہوئے۔ آج دینی مدارس، سکولوں، کالجوں اور یو نیورسٹیوں میں اگر اس نظام اخوت و بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے نصاب تعلیم میںشامل کر لیا جائے تو ملت کا ہر فرد روشن ستارہ بن کر ابھرتا ہے اور دوسروں کے لیے مینارہ نور بن سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے