طب اسلامی˛Tib e Islami

اسلامک طبislamic tibb,

Posted On اپریل 21, 2020 at 2:04 شام by / No Comments

قسط نمبر:1

اسلامک طب

تحریر: حکیم صمارت خان نوشاہی، شیخوپورہ

حصہ اول

خداوند کریم نے قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبانی کہلوایاہے کہ واذامرضت فھو یشفین (اور جب میں بیمار ہوتا ہوں پس وہی شفا دیتا ہے)۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ انسان جب بادی اثرات (کیفیاتی و آفاتی اور نفسیاتی) اور مادی اثرات (ماکولات و مشروبات)سے بیمار ہو جاتا ہے تو خداوند کریم ہی اس کو شفا دیتا ہے۔ گویا جب انسانی جسم کا اعتدال قائم نہیںرہتا تو وہ بیمار ہو جاتا ہے یعنی مرض اس وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب انسان کی صحت قائم نہیں رہتی۔ اس سے ثابت ہوا کہ صحت کا قیام انسانی جسم کے اعتدال پر قائم رہنے کا نام ہے یا اس طرح سمجھ لیں کہ انسان جن اعضاء سے مرکب ہے ان کے افعال کا اعتدال ہی صحت ہے اور یہ یقینی امر ہے کہ یہ افعال الاعضاء کسی قانون کے تحت عمل کر رہے ہیں یہ قانون یقیناًقانون فطرت ہے جو دو حالات سے خالی نہیں ہے۔ اول قانون آفاق دوسرے قانون النفس اور دونوں قانون قدرت کے تحت کام کرتے ہیں دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ قانون فطرت ہی قانون قدرت کے تحت ہے۔ ان اللہ علی کل شیء قدیر سے ثابت ہوا کہ شفا اللہ کے اختیار میں ہے گویا زندگی اور کائنات میںجو تغیرات پیدا ہوتے ہیں ان میںتدبیرصرف قانون قدرت کے اختیار میں ہے۔ قانون قدرت اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اور اسی کے اختیار میں ہیں انہی قوانین قدرت میں ایک قانون شفا بھی ہے جو فطرت کے تحت کام کرتا ہے۔

قدرت اور فطرت کا فرق

جاننا چاہیے کہ قدرت وہ طاقت ہے جس سے اللہ تعالیٰ زندگی و کائنات اور تمام عالمین پر قادر ہیں ان کی یہ قدرت بھی اصول کے تحت ہے جو قانون بن گیا ہے فطرت وہ طاقت ہے جس پر یہ زندگی و کائنات اور تمام عالم رواں دواں ہے یہ بھی اصول و قاعدہ اور ترتیب کے ماتحت ہے اس لیے قانون کی حیثیت رکھتی ہے بہرحال ذہن نشین کرانے کے لیے قانون فطرت کہہ دیا جاتا ہے لیکن فطرت خود قدرت کے تحت ہے۔

قانون

قانون کا لفظ جب بولا جاتا ہے تو عوام اس کو سن کر عمومی لفظ کی طرح نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ لفظ قانون اپنے اندر بہت بڑی طاقت رکھتا ہے۔ یعنی ایسے قاعدے اور طریق جو کسی اصول و ترتیب اور صحیح بنیادوں پر قائم ہوں یا یوں سمجھ لیں کہ روزانہ زندگی میںمسلسل تجربات و مشاہدات کسی عمل یا شے کے نتائج ایک ہی صورت میں پیدا ہوں تو بس اس کو قانون کہتے ہیں جیسے آگ جلا تی ہے اور پانی کوگرم کرتی ہے اسی طرح پانی سردی پیدا کرتا ہے اور آگ بجھا دیتی ہے جب بھی یہ اعمال کئے جائیں گے ایسا ہی ہوگا۔ انگریزی میں اس کو (لاء) کہتے ہیں اور یہ بالکل سائنس کے معنوںمیں آتا ہے بلکہ مزید زور پیدا کرنے کے لیے سائنٹفک لاء یعنی سائنسی قوانین کہتے ہیں۔

القانون

قانون کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امر پر غور کریں کہ تقریباً سات سو سال پہلے شیخ الرئیس بو علی سینا نے علم و فن طب پر جو کتاب لکھی ہے اس کا نام القانون رکھا ہے جس کا مقصد اور اظہار یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے اصول و قاعدوں کے تحت ترتیب دی گئی ہے جو روزانہ زندگی میں مسلسل تجربات ومشاہدات کے بعد قائم کئے گئے ہیں۔ جن میں کہیں بھی نقص اورخلا نہیں ہیں جو لوگ لفظ سائنس کو اہمیت دیتے ہیں وہ لفظ قانون پر غور کریں جس کے بغیر سائنس بھی مکمل نہیں ہے۔ یاد رکھیں علم و فن طب کی بنیاد یہی قوانین ہیں پھر یاد رکھیں کہ قدرت اور فطرت قانون ہیں جوبالکل اصول و قاعدوں اور ترتیب کے مطابق عمل کرتے ہیں قرآن حکیم نے فطرت کا لفظ بھی استعمال کیا ہے جیسے فطرت اللہ الذی فطرت الناس علیہ اللہ تعالیٰ کی یہ فطرت ہے کہ جس قانون پر انسان پیدا کیا گیا ہے اور فطرت کے معنوںمیں سنت کا لفظ استعمال کیا ہے جیسے لن تجد لسنت اللہ تبدیلا (ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کے قانون میں تبدیلی نہ پائو گئے)۔

ترتیب

قدرت و فطرت اورقانون کی تشریح کی ضرورت اس لیے پیدا ہوئی کہ یہ سب کسی ترتیب پر کام کرتے ہیں اور یہ ترتیب خود کار اصولوں اور طریق پر قائم ہے یعنی ایک صورت کے بعد دوسری صورت اور ایک عمل کے بعد دوسرا عمل پیداہو جاتا ہے جس کو انگریزی میں سسٹو میٹک (باقاعدہ) کہتے ہیں۔

مرض کا تصور

غور کریں کہ قانون قدرت و قانون فطرت اور سنت الہیہ کے تحت مرض کا تصور کیا ہے اس حقیقت سے تو انکار نہیں ہے کہ مرض جس طرح بھی پیدا ہو بہرحال وہ کسی نہ کسی قانون صحت کی خلاف ورزی ہو گا یاد رکھیں کہ برائی کبھی قانون کے تحت نہیں ہوتی بلکہ برائی وہ شے یا عمل ہے جو نیکی اوربھلائی کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہے تو مرض بھی کسی قانون کے تحت پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب صحت کے قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ دنیا میں جس قدر طریق علاج ہیں سب نے مرض کی پیدائش کو صحت کے قوانین کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔ اس کتاب میں چند طریقہ ہائے علاج کے اصولِ مرض پربھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

قرآن حکیم اور پیدائش مرض

آج ہم دنیا میں ایک نئی حقیقت پیش کرتے ہیں آج کی دنیا سائنس کی دنیا ہے جس کو اپنے علوم و مشاہدات اور تجربات پرناز ہے مگروہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر ہے حکما اوراطباء نے بھی اس حقیقت کا ذکرنہیں کیا اور ان کے علاوہ علمائے عظام او صوفیاء کرام نے بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ تک نہیں کیا کہ قرآن حکیم بھی پیدائش مرض کے متعلق اپنا قانون رکھتا ہے۔ قرآن حکیم کے نزول کو تقریباً چودہ سو سال ہو گئے مگر اس حقیقت کو ہم دنیا کے سامنے پہلی بار پیش کر رہے ہیں البتہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثوں میں اس طرف پورے طور پر اشارات ملتے ہیں مسلسل تیس سال تک کے مطالعہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت مجھ پر روشن کر دی ہے کہ جو موجودہ سائنسی دور میں صحت میڈیکل سائنس اور طب قدیم کی غلطیوں پر اظہار کیا گیا ہے۔
قرآن حکیم کا دعویٰ ہے کہ وہ کتاب فطرت ہے وہ اپنا ایک قانون رکھتا ہے اس کی بھی ایک سائنس ہے جو اپنے اندر علوم واعمال اور مشاہدات وتجربات کا ایک لا متناہی سلسلہ رکھتا ہے جو تقریباً چودہ سو سال سے ان خزانوں کو بکھیر رہا ہے۔ یہ حقیقت بھی اس کے خزانے کا ایک بیش بہا ہوتی ہے قرآن حکیم کے اس دعوایٰ کے ساتھ کہ وہ فطرت ہے اس کے ساتھ اس دعوے کو بھی ذہن نشین رکھیں کہ اس میں ہر صغیر و کبیر اور رطب یا بس کا ذکر ہے پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ اس میں پیدائش مرض کا ذکر نہ ہوتا حقیقت یہ ہے کہ اس میں امراض کا ذکر بھی ہے اور یقینی شفا کا بیان بھی ہے اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی تو قرآن حکیم کے اس طبی خزانے کی ایک ایک شے کو بیان کروں گا یہی صحیح طریقہ علاج ہو گا۔ انشاء اللہ۔
قرآن حکیم پیدائش مرض کے متعلق بیان کرتا ہے فی قلوبہم مرض (ان کے دلوں میں بیماری ہے) اس چھوٹے سے جملے نے کتنی بڑی حقیقت بیان کر دی ہے کہ انسانوں میںجب مرض پیدا ہوتا ہے تو وہ دل میں پیدا ہوتا ہے اس حقیقت سے تین صورتیں سامنے آتی ہیں۔ (1)۔ مقام پیدائش مرض (2)۔ ابتداء پیدائش مرض (3)۔ اسباب بادی ہوں یا مادی پیدائش مرض دل ہی میں ہوگا گویا مرض کا پہلے دل میں اثر انداز ہوگا پھر جسم اور خون میں اپنے اثرات ظاہر کرے گا جس کی تشریح درجہ ذیل ہے۔
اول جانا چاہیے کہ انسان تین چیزوں کا مرکب ہے۔ (1)۔ جسم ( 2)۔ نفس (3)۔ روح ۔تینوں کا مرکز دل ہی تسلیم کیا گیا ہے اور اگر جسم کے ساتھ خون کا ذکر بھی کر دیں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ خون کامرکز دل ہی ہے اس سے ثابت ہوا کہ جسم و خون اور نفس و روح پر اندرونی و بیرونی طور پر کوئی شے اثر انداز ہو تو اس کا اظہار دل پر ہوگا یہ ایک ظاہرہ تشریح اور دلیل ہے۔اس کی باطنی تشریح اور دلیل یہ ہے کہ کسی بات یا شے کے لیے کوئی ظرف بھی ہوناچاہیے ہم مرض کی پیدائش دوش و اخلاط سے تسلیم کریں یا عناصر و نمکیات کی کمی بیشی جانیں یا روح و نفس کی خرابی کو مانیں تو لازمی امر ہے کہ ان کے لیے کوئی مقام بھی تسلیم کرنا پڑے گا اورر جسم انسان میں جب ہم غوروفکر کرتے ہیں تو قلب ہی میں چار مقام نظر آتے ہیں۔ان میںسے دو عدد دل کے بطن کہلاتے ہیں او ر دو عدد اس کے اذن کہلاتے ہیں جن میں خون اور اس کے مادی و روحانی اجزاء اثرات سے اس طرح بھرے ہوئے ہوتے ہیں کہ اس طرح سارے جسم میں کہیں نظر نہیں آتے۔ البتہ کہا جا سکتا ہے کہ شریانوں اور وریدوں میں خون دوڑتا ہے لیکن جاننا چاہیے کہ جسم کی تمام شریانیں دل ہی کی طرف سے آتی ہیں اور تمام وریدیں دل ہی میں واپس لوٹ جاتی ہیں وہ بھی دل کا حصہ تسلیم کئے گئے ہیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ جسم میں دل کے سوا جتنے بھی اعضاء ہیں ان میں خون صرف شریانوں اور وریدوں میں رہتا ہے۔ دل کی طرح ان سے جدا ہو کر اعضاء میںکہیں اکٹھا نہیںہوتا ہے ایک اور بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ خون جب جسم پر ترشح پاتا ہے تو وہاں پر اکٹھا ہوتا ہے جاننا چاہیے کہ جہاں پر خون ترشح پاتا ہے اور جذب ہو کر جزو بدن بنتا ہے وہ تمام عضلات میں اور یہ عضلات دل کے تحت ہیں لیکن یہ بھی یادرکھیں کہ خون جو ترشح پاتا ہے وہ صرف خون کی رطوبت ہوتی ہے اصل خون نہیں ہوتا اصل خون تو صرف دل ہی میں نظر آ سکتا ہے۔
تیسری تشریح و دلیل قرآن حکیم کے اس خزانے کا علم ہوا ہے مجھے یقین ہے کہ جب دنیا میں مرض صرف دل میں کی روشنی پھیلی تودنیا بھر کے علوم و فنون میں ایک انقلاب آ جائے گا اور ان کی نئی نئی صورتیں سامنے آئیں گی اور یہی ان کی حقیقت کاتجزیہ ہوگا جاننا چاہیے کہ یہاں تک قلب کی ذاتی ساخت کا تعلق ہے وہ عضلاتی انسجہ کابنا ہوا وہ زندگی بھر حرکت میں رہتا ہے یہ امرمسلمہ ہے کہ عضلات و قلب میں ایک ذاتی حرکت ہے بلکہ یوں سمجھ لیں کہ عضلات کے معنی حرکت کے ہیں جس طرح اعصاب کے معنی احساس کے ہیں یہی وجہ ہے کہ دل ہر وقت حرکت میں رہتا ہے اس حرکت کو تسلسل میں رکھنے اور اس میں کمی بیشی کرنے کے لیے تحریکات او ر اغذیہ کی ضرورت ہے اس مقصد کے لیے دو عدد خلاف ہیں جن میں یکے بعد دیگرے قلب ملفوف ہے ان میں پہلا غلاف جو قلب پر لپیٹا ہوا ہے وہ غشائے مخاطی(اسجہ غدی۔ایپی تھل ٹشوز)کا ہے اس کے اوپر دوسرا غلاف اعصابی نسیج (نروز ٹشوز) کا ہے پہلے غلاف کا تعلق جگر کے ساتھ ہے جہاں سے غذا ملتی رہتی ہے اور دوسرے غلاف کا تعلق دماغ سے ہے جہاں سے تحریکات پہنچتی رہتی ہیں یہ بات یاد رکھیں کہ یہ فالتو غلاف صرف قلب کے اوپر ہی نہیں لپٹے ہوئے بلکہ قلب کی ہر گہرائی اور تہہ تک چلے گئے ہیں گویا قلب اگرچہ نسیج عضلاتی کابنا ہوا ہے لیکن اس کی ساخت اور بافت میں عصبی (دماغی) اور جگری انسجہ سے گندھے ہوئے ہیں جس کے ساتھ ان خلائوں کو الحاقی ساخت نے پر کیا ہے ان حقائق سے ثابت ہو ا کہ قلب جو ذاتی طور عضلاتی نسیج کابنا ہوا ہے اس میں دیگر تمام انسجہ پوری طرح شریک ہیں جس سے اس کا دیگر اعضاء سے گہرا تعلق ہے یعنی اعضائوں کا اور ان کے مطعلقات میں جو کیفیت و تحریکات اور اعمال و صورتیں پیدا ہوتی ہیں ان کا نہ صرف اثر قلب پر پیدا ہوتا ہے بلکہ اس کے فعل میںکمی بیشی اور ضعف بھی پیدا کر دیتے ہیں یہاں تک کہ انسان کے ذہن میںکوئی جذبہ پیدا ہو یا بیدار ہو تو معاًیعنی ایک سیکنڈ سے بھی پہلے دل پر اس کااثر ہوجاتا ہے گویا سب سے پہلے جسم پر کوئی بات اثر اندا ز ہو سکتی ہے تو وہ جذبہ ہی ہو سکتا ہے جونفسیاتی اثر ہے مادی شے دیرمیںاثر انداز ہوگی جوبذریعہ خون ہوگی۔
یہ بات یاد رکھیں کہ ہرمادے کے عمل کے ساتھ اس نفسیاتی اور کیفیاتی اثرات بھی ہوتے ہیں جو مادے کے اثر سے پہلے پہنچ جاتے ہیں اسی لیے تسلیم کیا گیا ہے کہ انسان میں جو امراض پیدا ہوتے ہیں ان میں نفسیاتی اور کیفیاتی اثرات 99فیصد پائے جاتے ہیں۔ امراض کے علاج میں ان کو مد نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے قرآن حکیم نے نہ صرف ان نفسیاتی و کیفیاتی اور اثرات کا ذکر تفصیل سے کیا ہے بلکہ ان غلافوں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جن میں قلب ملفوف ہے اور ان کی طرف یہ تاثر پہنچتے ہیں جو قلب کے افعال میں تغیر پیدا کر کے مرض پیدا کر دیتے ہیں قرآن حکیم بیان کرتا ہے تحقیق ہم نے ان کے دلوں پر پردہ بنایا ہے تا کہ سمجھ سکیں اس پردے کا بڑا مقصدہی یہ ہے کہ وہ ان اثرات کوسمجھ جائے جو اس کی طرف پہنچتے ہیں کئی جگہ (دل کا پردہ) کا ذکر آیا ہے اور اس کے علاوہ (ہمارے دلوں پر پردے ہیں)غلاف کا لفظ اسی غلف سے بنا ہے ایسا پردہ جو کسی شے کے اوپر بالکل غلاف کی طرح چڑھا کر ڈھانپ دیا جائے قرآن حکیم میں پردے کے معنوں میں حجاب و کشف اور غشا بھی آتے ہیں دل پر جن پردوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا کے عام طریقہ ہائے علاج اور قرآن حکیم کے پیدائش مرض کو پیش کرنے کے بعد ہم ماہیت مرض کی طرف لوٹتے ہیں ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ مرض حقیقت میں مثبت شے نہیں ہے بلکہ خراب اور منفی شے ہے۔ حقیقت اور مثبت شے صحت ہے جو قدرت اور فطرت کے قوانین پر قائم ہے۔ اس لیے صحت کے قیام میں انہی قوانین کا سمجھنا ہے اور یہی زندگی اور کائنات کا ما حاصل ہے۔ جہاں تک ماہیت امراض کی تشریح کا تعلق ہے اس کی انتہائی اختص کے ساتھ تین صورتیں ہیں۔
عضوئے قلب کے فعل میں کمی یا اس کے فعل میں تیزی یا اس کے فعل میں ضعف واقع ہو جائے قلب کی ان حالتوں سے دیگر اعضائِ بدن پر اور خون و تمام جسم پر کیا اثرات ہوتے ہیں اس کتاب میں ہم نے ماہیت امراض پر بحث کی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ مرض کی ابتدا قلب و عضلات میں شروع ہوتی ہے۔ جس سے اس کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں ۔ مزید امراض و علامات سمجھنے کے لیے قارورہ براز سے تشخیص کرنے نبض اور رموز نبض پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور مزید حکیم مطلق سے رہنمائی کے لیے اسم باری اور قرآنی مدد حاصل کی گئی ہے امید ہے کہ فنِ طب میںطالب علم اس سے پوری طرح دسترس حاصل کرکے بہتر انسانی خدمت کر سکیں گے۔

انشاء اللہ!

جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔

islamic tib,
marz ka tasawwur,
quran hakeem aur paidaiesh marz,
islami ilaaj,
tibbi ilaaj,

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے