عمومی مضامین˛Mixed essay

یاداشت کی درستگی کیوں, کیسے کس لیے

Posted On اپریل 13, 2020 at 12:01 صبح by / No Comments

یاداشت کی درستگی کیوں‘ کیسے کس لیے

حافظہ تیز کرنے کے لیے کن باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے

ذہن کی کاکردگی کوجاننے کے لیے سب سے اہم پیمانہ قوت حافظہ ہے ہم روانہ مختلف تجربات و واقعات سے گزرتے ہیںان میںبہت سے باتوںکوفراموش کرجاتے ہیں اور کچھ واقعات وتجربات ہروقت ہماری نظروںکے سامنے رہتے ہیںیاوقت ضرورت ہم انہیںیاد کرتے ہیںاوراکثر اوقات ایسابھی ہوتاہے کہ چاہے جانے کے باوجود یاداشت ساتھ نہیںدیتی اور پھراچانک بغیر کسی کوشش کے وہ بات خود بخود ہمارے ذہن میںآجاتی ہے۔ ان تمام باتوںکی روشنی میںہم یہ کہہ سکتے ہیںکہ حافظہ اور فراموشی میںچولی دامن کاساتھ ہے۔
عام الفاظ میںاگر حافظے کی تعریف کی جائے تو اسے ذہن کی فطری قوت کہہ سکتے ہیںاور اگر یہی قوت ہماراساتھ نہ دے تو ہم زندگی کے کسی شعبے میںکامیابی حاصل نہیںکرسکتے اور اگر ذہن کے کسی گوشے میںفراموشی کا عنصر نہ ہوتوہم بری طرح ذہنی انتشارکاشکار ہوجائیں۔
قدرتی طورپر اﷲتعالیٰ نے ہر انسان کوحافظے کی قوت کے ساتھ ساتھ فراموشی کی صلاحیت بھی عطاکی ہے اور اگریہ صلاحیت ہ چھن جاتی توذہن اتنے سارے خیالات کی آماجگاہ بن جاتا کہ انسان میںاس کابوجھ اٹھانے کی سکت باقی نہ رہتی۔ یہ گزرے ہوئے واقعات کے حامل خیالات ذہن کو بری طرح مجروح کرتے اور ہرشخص کے لب پر ایک ہی دعاہوتی کہ۔
؎ یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھن لے مجھ سے حافظ میرا
اسی لیے جہاںبہترین حافظہ ایک اچھی علامت ہے وہاںفراموشی بھی ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ہم خود بھی چاہتے ہیںکہ ناپسندیدہ واقعات سے راہ فرار اختیار کرلیںاوران کوذہن سے کھرچ ڈالیں‘ اسی لیے ہم مختلف سرگرمیوںمیںاپنے آپ کو مصروف کرلیتے ہیںاورآہستہ آہستہ پھر سے ایک نئی توانائی کے ساتھ زندگی کی دوڑ میںشامل ہوجاتے ہیںاس کے سب سے عمدہ مثال وہ معصوم بچہ ہے جو اپنے جذبات کا اظہار ہنساکریاروکرکرتاہے‘ اگر وہ جھولے سے گرجائے یاکسی اجنبی کالمس محسوس کرکے رونا شروع کردے تو اس کو مختلف کھلونے یا کھانے پینے کے اشیاء دے کر یامختلف سرگرمیوںکی طرف چند لمحوںکے لیے دھیان بٹاکر اس کے ذہن کودوسری طرف موڑاجاتا ہے تاکہ وہ غیر معمول واقعہ فراموش کردے۔ اس میں99فیصد کامیابی حاصل ہوجاتی ہے کیونکہ ابتدائی عمر میںبچوںمیںقوت حافظہ تیز ہونے کے ساتھ ساتھ بھول جانے کی صلاحیت بھی تیز ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ابتدائی دو ڈھائی سال تک جاری رکھی گئی حرکات وسکنات کو عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچہ فراموشی کرتاجاتا ہے اور وہ غیر شعوری طور پر انہی عادات و سرگرمیوں کوذہن نشین کرتاہے جس کی تقلید میںوہ شعور کی منزلیںطے کرتا ہے۔
لیکن بچوںکی نسبت بڑوںمیںفراموشی کامعاملہ بالکل اس کے برعکس ہے ایک عاقل وبالغ شخص کے ذہن سے نقوش کو بہلاکر پھسلاکرنہیںمٹایاجاسکتا۔ بچوںکے دھیان کوبٹاکر دوسری طرف آمادگی پیداکی جاسکتی ہے جبکہ ایک بالغ ذہن کے کینوس سے ناپسند یدہ حالات کومٹانے کے لیے خود اپنے آپ کودیگر مشاغل میںمصروف رکھنے کے لیے آمادہ کرنا پڑتاہے ۔
ماہرین کے مطابق جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہن کاصحت مند ہونابھی بہت ضروری ہے کیونکہ ذہنی صحت کاتعلق ہماری جسمانی کارکردگی سے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فن پاروںکودیکھ کر اس کی ذہنی کیفیات کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔
جہاںبھول جانا ہمارے لیے مفید ثابت ہوتاہے وہاںیہی بھول چوک خاصے نقصان بھی پہنچاتی ہے جیسے اشیاء کوکسی مقام پررکھ کربھول جانا ۔ کسی تقریب میںجانی پہچانی شخصیت کاسامناہوجائے اوروہ بڑی گرم جوشی کااظہارکرتے ہوئے قدم بڑھائے مگر ہر بڑھنے والے قدم کے ساتھ ساتھ ذہن پر زور ڈالنا کہ ان کو پہلے کہاں دیکھا ہے؟ اس قسم کے رویے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروںکے لیے بھی شرمندگی اور تکلیف کا باعث بنتے ہیںاس قسم کی علامات خاص کران لوگوںمیںپائی جاتی ہیںجواکثر اوقات کام کوسرسری انداز میںکرتے ہیں۔ جیسے کم وقت میں مختلف نوعیت کے کا کرنا چلتے پھرتے جلدبازی میںضروری پیغام سننا‘ پیسے رکھ دیناکہ بعد میں اٹھالیںگے پھربھول جاناوغیرہ ۔
عام مشاہدے میںیہ بات سامنے آئی ہے کہ اس قسم کے انسانی رویے بڑے بڑے نقصانات کاپیش خیمہ بنتے ہیں۔ لہذا رویے اگر فراموشی حافظہ کی ضد ہے توانھی باتوں کونظرانداز کریںجوعنصر غیر اہم ہے اس طرح توانھی باتوں کونظرانداز کریںجوعنصر غیر اہم ہے۔ اس طرح نہ توفراموشی کی نفی ہوگی بلکہ قوت حافظہ کوبھی تقویت ملتی رہے گی مگراس کے لیے چند ذہنی صلاحیتوں کاہوناضروری ہے۔
بہترین ذہن وہ ہے جوکم وقت میں زیادہ سے زیادہ باتوں کومخفوظ کرلے اور اس میںکم سے کم وقت میں فوری طورپریاداشت کے استعمال کی صلاحیت موجود ہو۔
غیراہم واقعات وحالات کے بجائے ضروری معلومات ذہن فوری قبول اور محفوظ کرلیتاہواور سب سے بڑی خوبی بہترین حافظہ رکھنے والوںمیںقوت مشاہدہ کا تیز ہونا ہے یعنی بغیرکسی کے کچھ بتائے ماحول کی کشیدگی یامعمول سے ہٹ کر کسی گرمی کومحسوس کرلیاجائے ۔
ان تمام علامات کاپایاجانا ایک اچھے حافظے کے حامل شخص کی پہچان ہے۔ اسی ثرح جافؓے کی قوت کو ہن دو مختلف حصوں میںتقسیم کرکے بھی جانچ سکتے ہیں۔

سمعی حافظہ Audio Memory
بصری حافظہ Visual Memory

معمولی ذہانت کے حامل افراد کا بھی مشاہدہ کیاجائے تو ان کاسمعی حافظہ حیرت انگیز طور پر بہت تیز ہوتاہے جیسے نام‘ مقام ٹیلی فون نمبر یاکوئی ضروری پیغام زبانی داجائے تو وہ پہلی دفعہ میںہی اچھی طرح ذہن نشین کرلیتے ہیںاسی طرح بعض افراد کے سامنے بار بار یادہابی کے لیے دہرایاجاتا ہے جس سے وہ پیغام اچھی طرح ذہن نشین کرلیتے ہیںجبکہ بہت سے افرادیسے بھی ہیںجن کے آگے باربار دھرانے کے باوجود بھی ذہن ذخیرہ نہیں کرسکتااس طرح ہم عام لوگوںکا مشاہدہ کرکے نتیجہ اخذ کرلیتے ہیں۔
یہی صورتحال بصری حافظہ Visual Memoryکی بھی ہے کہ بعض افراد مقامات‘ تصاویر‘ تحریری معلومات کو دیکھ کرہی ذہ میںنقش کرلیتے ہیںاور اگردوبارہ ایک محدود عرصے کے بعد بھی شناخت کرائی جائیتواسن کاذہن باآسانی پہچان سکتا ہے جبکہ بعض افراد کوباربار راہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے اور اکثر اوقات ہردفعہ راہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے چاہے وہ تھوڑے بہت اشاروںکی صورت میںہی کیوں نہ ہوایسی صورت حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک کتابچے کے صورت میں مکمل معلومات مخفوظ کرلی جائیںتاکہ طویل عرصے کے بعد بھی اشیاء سے استفادہ کیاجاسکے اور راہنمائی میںبھی آسانی ہو۔
ماہرین کے مطابق بہترین یاداشت کے ساتھ ساتھ فراموشی بھی کم اہمیت کے حامل نہیں اگر ہم پرسکون زندگی گزناچاہتے ہیں تو ناخوشگوار پیش آنے والے حالات سے درگزرضرروی ہے کیونکہ گزرے ہوئے ناخوشگوار لمحات ہماری زندگی میںمسائل پیداکرتے ہیںاس لیے جب تک ان سے فراموشی حاصل کرنے کے لیے کوئی نئی راہ اختیار نہ کی جائے نارمل انداز میںگزر بسر نہیںکی جاسکتی۔ اس کے لیے چند اقدامات کرنا بہت ضروری ہیں۔
٭ ذہنی تندرستی لے لیے جسمانی تندرستی لازمی ہے اس لیے اتنی ہی جسمانی مشقت کریںجس سے ذہن تھکاوٹ کاشکار نہ ہو۔
٭ ہرکام کوسوچ سمجھ کر انجام دیںاور معمولی سے معمولی بات کوبھی سرسری انداز میںنہ لیں۔ ہوسکتاہے کہ اس میںکوئی اہم پہلو نکل آئے جس کوذہن اپنے اندرسمولے اور وقت ضرورت کام آسکے ۔
٭ اپنے ذہن کوغیرضروری خیالات ‘حالات و واقعات میںالجھائے رکھنے کے بجائے ایسے کاموںکی طرف متوجہ کریںجن سے مثبت سوچ جنم لیتی ہو۔
٭ بے جاتفکرات حافظے کودیمک کی طرح چاٹ لیتے ہیں لہذا اس سے بچائو کے لیے ان کامومیںشمولیت اختیار کریںجن میںتخلیقی عمل کا پہلو نکلتاہواور ذہن بھی تندرست و توانارہے۔
٭ حافظے کی تربیت کے لیے خوف سے چھٹکاراحاصل کرنابہت ضروری ہے ۔ خوف یا داشت کومتاثر کرتاہے اس سے نہ صرف حافظہ کونقصان پہنچتا ہے بلکہ یہ ذہنی بیماریوں ٰآ بھی سبب بنتاہے۔
٭ تخیل ایک ایسے قوت ہے جو ذہن میںموجود معلومات کوتخفظ فراہم کرتی ہے لہذاپنے تخیل میںضروری اور مثبت خیالات کوجگہ فراہم کریں۔
ہم جس چیز کی جتنی تکرار کرتے ہیںاس کااثر طراہ راست ہمارے ذہنوںپر پڑتا ہے اگر تکرار مثبت ہے تو ذہن خوشگوار اور پرسکون رہتا ہے اور حافظے کوقرت بخشتاہے اور اگر یہی تکرار منفی خیالات ورجحانات پرمبنی ہوں توقوت یادداشت متاثر ہوتی ہے لہذا ذہن کو منفی خیالات ورجحانات کی تکرار سے بچائیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے