عمومی مضامین˛Mixed essay

کلونجی، زیتون، سرسوں، ناریل،، بادام اور دیگر تیلوں کے فوائد

Posted On اپریل 2, 2020 at 1:17 صبح by / No Comments

کلونجی، زیتون، سرسوں، ناریل،، بادام اور دیگر تیلوں کے فوائد

قدت نے زمین میں ایسی مفید جڑی بوٹیاں پیدا کی ہیں جن سے انسانی بیماریوں کا علاج و معالجہ ہوتا ہے۔ وہ انسانی صحت کے لیے بہت مفیدو موزوں ہیں اور ان کے تیل بھی بہت شفاء بخش ہیں۔ ہمیں جو بیماریاں ہوتی ہیں ان کے علاج کے لیے صدیوں سے نسخے تجویز ہو رہے ہیںاور میڈیکل سائنس بھی نت نئے تجربات کر کے نئی ادویات کی ایجادات میں مصروف ہے تاہم ہربل پروڈکٹ یعنی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ اشیاء و ادویات کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آج ہم مختلف اقسام کے تیل اور اُن کی افادیت کے بارے میں ذکر کریں گے۔ آپ ان سے لاتعداد فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

کلونجی کا تیل

حدیث شریف میں ہے کہ کلونجی سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج ہے۔ طبی نقطہ نظر سے روغن کلونجی امراض قلب‘ جگر‘ فالج‘ دمہ‘ گیس‘ شوگر‘ پتھر‘ دانت‘ کان‘ سانس‘ جلدی بیماریوں‘ گرتے کمزور بال‘ خشکی سکری‘ گنٹھیا‘ قبض وغیرہ کے لیے انتہائی مفید ہے۔ روغن کلونجی سادہ یا چائے‘ دودھ‘ شہد اور پانی وغیرہ میں ملا کر روازنہ استعمال کرنے سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

زیتون کا تیل

حدیث شریف میں ہے کہ زیتون کے تیل کو کھائو اور اس سے جسم کی مالش کرو کیونکہ یہ صاف اور مبارک ہے۔ زیتون کے بارے میں قرآن پاک میں ذکر بھی ہے اللہ تعالی نے 30ویں پارے کی سورہ میں انجیر و زیتون کا خصوصی ذکر فرمایا ہے۔ زیتون کا تیل خشک جلد کو ملائم بناتا ہے‘ چہرے کی رنگت کو نکھارتا ہے‘ بدن کو مضبوط و توانا بناتا ہے۔ لاغر کمزور بچوں اور اشخاص کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے بہت مفید ہے کہ باقاعدگی سے اس کی مالش و مساج کیا جائے‘ اسے پینے کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔مقدار خوراک آدھے سے ایک چائے کا چمچہ ہو یہ فالج‘ عرق الناسء‘ گھنٹیا کے علاوہ خارش‘ چنبل‘ خشکی‘ گنج کے لیے بھی موزوں ہے۔ کئی ممالک میں زیتون کا تیل کھانا پکانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کے ذائقے سے بہت لذیذ پکوان بنتا ہے۔

سرسوں کا تیل

سرسوں کا تیل خاصا مشہور و معروف ہے۔ نہ صرف کھانا پکانے کے لیے استعمال ہوتا ہے بلکہ جسم میں کولیسٹرول بھی بڑھنے نہیں دیتا۔ گھی کے برعکس یہ چربی اور وزن میں اضافے کا سبب بھی نہیں بنتا‘ امراض قلب سے بچاتا ہے اچار میں بکثرت ڈالا جاتا ہے۔ ذائقے دار ہوتا ہے‘ سر اور بالوں میں ڈالا جاتا ہے‘ اس کی مالش کی جاتی ہے۔سر کے بالوں کے لیے بہت اچھا ہے۔ خشکی ‘ سکری کا خاتمہ کر کے بال لمبے‘ گھنے‘ سیاہ چمک دار بناتا ہے اگر کان میں درد ہو تو تھوڑا سا سرسروں کا تیل گرم کریں‘ ایک دو لہسن کے جوے بھی اس میں ڈال کر جلا لیں‘ پھر اس تیل کو ٹھنڈا کر لیں یعنی جب نیم گرم سا رہ جائے تو کان میں ڈالیں ‘ کان کے درد اور کان کے امراض میں مفید ہے۔

ناریل کا تیل

ناریل کا تیل اکثر ممالک میں کھانا پکانے کے لیے استعما ل ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں ناریل کا تیل عموماً سر کے بالوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔یہ گرتے بالوں کو روکتا‘ سر درد کا خاتمہ کرتا‘ بالوں کو ملائم‘ چمکیلا‘ لمبا اور مضبوط بناتا ہے اس کی قدرتی خوشگوار خوشبو تازگی کا احساس دیتی ہے۔ بے خوابی کے مرض میں افاقہ کرتا ہے۔

روغن بادام

رغن بادام میں گوشت اور مچھلی سے زیادہ پروٹین ہے اور دودھ سے زیادہ مقدار میں کیلشیم اور وٹامنز پائے جاتے ہیں۔ جسم کی تعمیر‘ خون کی پیدائش‘ ہڈیوں اور دانتوں کی نشو و نما کے لیے اکسیر ہے۔ اسے شہد یا دودھ میں ملا کر پیتے ہیں۔ تقویت دماغ اور خشکی دور کرنے کے لیے لگاتے ہیں۔ گرم دودھ میں ملا کر پینے سے دائمی قبض کو دور کرتا ہے۔

روغن بادام تلخ

بادم کا کڑوا‘ تلخ روغن چہرے کا رنگ نکھارنے‘ داد‘ جھائیاں‘ داغ دھبے دور کرنے کے لیے چہرے پر ملتے ہیں۔ بہراپن‘ کان کا درد‘ کان بجنا اور دیگر امراض کان میں استعمال ہوتا ہے۔ جوئوں کو مارنے کے لیے مفید ہے۔ کھانسی اور دمے میںسینے پر اس کی مالش کرتے ہیں۔ روغن بادام تلخ کسی مستند حکیم یا معالج کے مشورے سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

انڈے کا تیل

انڈے کا تیل حکماء اور معالجین کے نزدیک بالوں کے مختلف امراض میں مثلاً گنج‘ گرتے بال‘ بالخورہ‘ بالوں کی سفید‘ ہلکے اور پتلے بال اور بالوں کی خشکی کے لیے ایک بے نظیر تیل تصور کیا جاتا ہے۔ بہتر نتائج کے لیے انڈے کا تیل سادہ یا پھر کلونجی کا تیل یا کالے تل کے تیل کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

میتھی کا تیل

حدیث پاک میں ہے کہ حلبہ (میتھی) سے شفاء حاصل کرو۔ طبی نقطہ نظر سے میتھی شوگر کے لیے بہت مفید ہے۔ فولاد پائے جانے کی باعث خون کی کمی کو دور کرتی ہے۔ میتھی کا مسلسل استعمال خونی بواسیر‘ معدہ کے السر‘ آنتوں کی جلن‘ گیس‘ دمعہ‘ بلغمی کھانسی‘ پرانی پیچش‘ جسمانی درد کی مالش کے لیے بہت مفید ہے۔ میتھی روغن مچھلی کا قدرتی نعم البدل بھی ہے۔

کدو کا تیل

حدیث شریف میں ارشاد پاک ہے کہ کدو دماغ کو بڑھاتا اور عقل میں اضافہ کرتا ہے۔ سر پر ملنے سے دماغ کو قوت‘ تراوٹ‘ اور تقویت ملتی ہے۔خشکی ‘ سر درد‘ بے خوابی دور ہوتی ہے۔ پانی کے ساتھ پینے سے ہائی بلڈ پریشر کم ہوتا ہے۔

خشخاش کا تیل

نیند نہ آنے کی صورت میں ایک چمچ خشخاش کا تیل ایک گلاس دودھ میں ملا کر پیتے ہیں۔ خشخاش‘ بادام اور کدو تینوں ہم وزن ملا کر سر پر مالش کرنے سے خشکی ختم ہوتی ہے اور دماغ کو طاقت ملتی ہے۔ خشک جلد اور خارش پر عرق لیموں ملا کر لگاتے ہیں۔ خشخاش نزلہ پیدا نہیں کرتا‘ اسی لیے سرد موسم میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔

السی کا تیل

السی کا تیل چہرے پر لگانے سے داغ دھبے ختم ہو جاتے ہیں۔ چونے کے پانی میں ملا کرجسم کے جلے ہوئے حصے اور جلدی امراض مثلاً ایگزیما‘ داد وغیرہ میں لگائیں تو فائدہ ہوتا ہے۔ ہڈیوں اور پٹھوں کے درد میں مالش مفید ہے۔ نزلہ‘ زکام‘ دمہ اور قبض کی صورت میں نیم گرم پانی میں ملا کر پئیں۔ نیم گرم تیل کان کے درد میں افاقہ دیتا ہے۔

ارنڈی کا تیل

ارنڈی کا تیل یا کسٹر آئل بھی خاصا مقبول ہے۔ متواتر استعمال سے سر کی دائمی خشکی دور ہوتی ہے پلکوں اور بھنوئوں پر لگانے سے پلکیں گھنی اور خوبصورت ہوتی ہیں۔ دودھ میں ملا کر پینے سے دائمی قبض دور ہوتا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے ارنڈی کا تیل چہرے ‘ہاتھ‘ پیر پر لگانے سے اسکن نرم و ملائم ہوتی ہے۔

دھلی سفید‘ سیاہ تل کا تیل

خالص گھی کی طرح تل کے تیل سے بہت لذیذ کھانے پکتے ہیں۔ چونکہ یہ گھی جمتا نہیں ہے اس لیے اچار میں بھی ڈالا جاتا ہے۔ سر پر لگانے سے بالوں کو مضبوط کرتا ہے۔ بالوں کو بڑھاتا ہے‘ بدن کی خشکی کو دور کرتا ہے۔ علاوہ ازیں جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔ صرف روغن سیاہ تل اپنی تلخی کے باعث کھانا پکانے میں استعمال نہیں ہوتا۔

مونگ پھلی کا تیل

اپنی غذائیت اور لذت کے حوالے سے مونگ پھلی کا تیل بھی کاجو اخروٹ کی مانند ہوتا ہے۔ اسی لیے گھروں میں حلوے اور مٹھایاں عام بازاری تیل کے بجائے مونگ پھلی کے تیل میں بنائی جاتی ہیں۔ کیلشیئم‘ وٹامنز‘ فاسفورس اور نشاستہ پائے جانے کی وجہ سے اسے زیتون کے تیل کا نعم البدل بھی کہا جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ میلڈ آئل بھی کہلاتا ہے۔

دھنیا کا تیل

یہ پانی میں اُبال کر پئیں تو کولیسٹرول کم ہوتا ہے‘ اس کے ساتھ ہی گردوں کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ آنکھوں کو جلن اور سوجن کو کم کرتا ہے۔ بدہضمی‘ دست اور معدے کی تیزابیت میں آرام دیتا ہے۔ پیاس بجھاتا ہے ‘ بھوک لگاتا ہے۔

زیرے کا تیل

یہ تیل گیس‘ معدہ‘ پائلز اور نزلہ زکام کی حالتوں میںنیم گرم پانی میں ملا کر پیتے ہیں۔ بچھو کے ڈنگ سے زخمی ہونے والی جگہ پر عرق پیاز میں ملا کر لگاتے ہیں۔ پانی میں ملا کر پھوڑے پھنسی پر لگاتے ہیں۔ یاداشت تیز کرنے کے لیے شہد میں ملا کر کھاتے ہیں۔ یہ تیل غذا ہضم کرتا ہے ‘ ہچکی روکتا ہے چہرے پر لگائیں تو رنگت نکھرتی ہے۔

رائی کا تیل

رائی کا تیل اچار میں ڈالا جاتا ہے۔ رائتہ کو لذیذ اور ہاضم بناتا ہے۔ عرق النساء ‘ فالج‘ جوڑوں کے درد میں اکسیر ہے۔ برص کو ٹھیک کرتا ہے۔ روئی میں تر کرکے حلق میں لگائیں تو حلق کی خراش کو ٹھیک کرتا ہے۔

سونف کا تیل

آنکھوں کی بینائی ‘ موتیا‘ دمہ‘ بے خوابی‘ جگر و پیٹ کے امراض ‘ درد‘ بدہضمی کی حالتوں میں نیم گرم پانی میں ملا کر پیتے ہیں۔ جوئیں مارتا ہے۔ ماں کا دودھ بڑھانے کے لیے گائے کے دودھ میں ملا کر استعمال کرتے ہیں۔

اجوائن کا تیل

کالی کھانسی‘ نزلہ‘ زکام‘ بدہضمی‘ گیس اور موشن میں آرام کے لیے نیم گرم پانی میں ملا کر استعمال کرتے ہیں۔ اعصابی درد میں بھی یہ آرام پہنچاتاہے۔ آدھے سر کے درد کے لیے ابلتے ہوئے پانی میں ملا کر بھاپ لیتے ہیں۔ برص‘ مہاسے‘ زیر جلد جمے ہوئے خون پر ملتے ہیں۔ آواز کا بیٹھنا‘ حلق کی سوزش میں نیم گرم پانی میں غرارہ کرتے ہیں۔

آملہ کا تیل

مضوعی خوشبواور کیمیکل سبز رنگ سے پاک قدرتی طریقے سے نکالے جانے کے باعث بالوں کی جڑوں تک پہنچ کر بالوں کو طاقت‘ توانائی اورغذا بخشتا ہے۔ خشکی‘ سکری‘ گنج دور کرتا ہے۔ صدیوں سے آزمودہ اور بہت مشہور ہے۔

سکا کائی کا تیل

یہ تیل بالوں اور سر کے امراض میں موزوں و مفید ہے۔ اس لیے بال نرم و ملائم ہوتے ہیں۔

ریٹھے کا تیل

ریٹھے کا تیل بالوں کو نرم و ملائم کرتا ہے۔ بالوں کی جڑوں کو تقویت دیتا ہے دراصل آملہ‘ سکا کائی اور ریٹھے تینوں ہی خصوصی طور پر بالوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اس ضمن میں خصوصی افادیت پہنچاتے ہیں۔

تخم مولی کا تیل

چہرے کی سیاہی‘ جھائیاں‘ برص‘ رنگ کے نکھارنے کے لیے بہت مفید ہے۔ دوائوں کے ہمراہ استعمال کرتے ہیں گیس کے لیے مفید ہے۔ بلغمی امراض میں پانی میں اُبال کر پیتے ہیں۔

مالکنگنی کا تیل

تلوئوں اور ہتھیلی میں ملنے سے بینائی تیز ہوتی ہے۔ فالج ‘ دردجسم کے کمزور حصوں پر بکثرت مالش کرنے اور پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔ مصفیِ خون ہونے کے باعث جذام اور برص میں لگاتے اور پیتے ہیں۔ ایک قطرہ روز پینے سے حافظہ بڑھتا ہے۔

ھالون کا تیل

حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ کیا تم نہیں جانتے کہ کن دو کاموں میں شفاء ہے‘ الشفا(ہالون) اور صبر میں۔
روغن ہالون گرتے بالوں کو روکتا ہے۔ خشکی دور کرتا ہے‘ پٹھوں اور کمزور نسوں کو مضبوط بناتا ہے۔ بغل کی بدبو کو دور کرتا ہے۔
قارئین کرام! یہ تمام دیسی نسخے جڑی بوٹیوں ‘ حکمت اور طب نبوی ﷺ پر مبنی ہیں اور ان کی بہت اہمیت و افادیت ہے۔ تاہم مناسب ہو گا کہ آپ اپنے امراض کے سلسلے میں اپنے معالج کے مشورے سے استعمال کریں تاکہ اُن کی رائے اور مشورہ بھی پیش نظر رہے۔
٭٭٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے