عمومی مضامین˛Mixed essay

ٓآئیں یوگا سیکھیں – – قسط نمبر2

Posted On مارچ 6, 2020 at 4:05 شام by / No Comments

آئیں یوگا سیکھیں – – قسط نمبر2

اس مضمون کی پہلی قسط ماہ نومبر میں شائع ہو چکی ہے۔ اس قسط میں کچھ بنیادی اُمور پر بحث کی جا چکی ہے۔ ماہ رواں کے مضمون میں یہ بیان جاری ہے۔
آئیں یوگا سیکھیں
کامیاب زندگی اور صحت کے لیے

یوگا کی مختلف اقسام

علم یوگ کی کئی ایک اقسام ہیں۔ جن سب کا احاطہ یہاں کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ تاہم یوگ کی مختلف اقسام انسانی زندگی کے حوالے سے مختلف معاملات جسمانی‘ ذہنی اور نفسی اصلاح ‘ مراقبہ‘ گیان‘ دھیان اور روحی قوتوںکو بیدار کرنے کے لیے موثر خیال کی جاتی ہیں۔ تاہم کس مقصد کے لیے یوگ کی کون سی شاخ کو اختیار کرنا چاہیے اور پھر یہ کہ جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے فن یوگ کی کون سی ورزش(آسن) موثر ہو سکتے ہیں۔اس ضمن میںصاحب علم فرد کی راہنمائی لیناضروری ہے ورنہ معاملات میں اصلاح کی بجائے بگاڑ کی صورت پیدا ہونے کا قوی احتمال ہے۔
ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے کہ یوگا کی مختلف اقسام میں کیا فرق ہے:

ہاتھا یوگا

یہ یوگا کی بنیادی قسم ہے اور شاید سب سے زیادہ مروج بھی۔ یوگا کی یہ قسم جسمانی حرکات و سکنات سے منسلک ہے اور اس کا بنیادی مقصد ذہن اور جسم کو مراقبہ کے لیے تیار کرنا اور جسمانی اور ذہنی صحت عطا کرنا ہے۔

راجہ یوگا

یکسوئی اور گہری حالت استغراق اور توانائی کے منبعوں پر کنٹرول راجہ یوگا کے تحت آتا ہے۔ یوگا کی یہ قسم اعلی درجہ کی کہلاتی ہے۔ ہاتھ یوگا کسی نہ کسی حد تک راجہ یوگا کی بنیادکا کام کرتا ہے اور یہ ایک دوسرے میں بہت حد تک مدغم بھی ہیں۔

کنڈالنی یوگا

یوگا کی یہ قسم دماغ اور ریڑھ کی ہڈی میں موجود توانائی کی لہروں کو کنٹرول کرنے کا نام ہے۔ یوگا کی یہ قسم اعلی روحانی رابطوں کے حوالے سے قابل احترام خیال کی جاتی ہے اور کافی ریاضت مانگتی ہے۔ یہ ایک دلچسپ یوگا ہے اور روحانی قوتوں کو بیدار کرنے کے لیے ضرور اس میں دلچسپی لینی چاہیے۔

تانترا یوگ

یوگا کی اس قسم میں جنسی اور حیوانی قوتوں کو روحانی قوتوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یوگا کی اس قسم میں جنسی و حیوانی عمل کے ذریعے اندرونی قوتوں کو بیدار کر کے کائناتی قوتوں سے ہم آہنگی پیدا کی جاتی ہے اور یوں وہ جنسی توانائی جو اس کے بغیر بے مقصد استعمال ہوتی ہے اس کو ایک مثبت رُخ ملتا ہے۔

مانترا یوگ

یوگ کی اس قسم میں عبادت‘ ریاضت اور منتروں کے ذریعے روحانی قوت کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ اس میں دیومالائی نشانات اور مقدس آوازیں حد درجہ اہم ہوتی ہیں۔ اس میں یکسوئی کا حصول اور دماغ کو محترک کرنا اہم اقدامات ہیں۔

بھکتی یوگا

اس یوگا کا تعلق بھی عبادت یا عرف عام میں پوجا پاٹھ سے ہے۔ کائناتی شعور کا حصول‘ اللہ کا تصور اور انسانی شعور کی اس حوالے سے اعلی ترین حالتیں اس کا نکتہ بحث ہیں۔ اس کو مانترا یوگ سے الگ اور نسبتاً ذاتی یوگا کی حیثیت میں لیا جاتا ہے۔
جنانا یوگا
یوگا کی یہ قسم نسبتاً تعلیمی نوعیت کی ہے ۔اس میںطلباء یوگا کے مختلف پہلوئوں کو پڑھتے اور سمجھتے ہیں۔زندگی اور زندگی کے سوالوں کے جوابات کی تلاش کا علم۔

ہاتھا یوگا

ہاتھا یوگا کے بارے میں پچھلی سطور میں مختصر تعارف تحریر کیا جا چکا ہے۔ تاہم دوبارہ یہ آپ کو اس لیے نظرآ رہا ہے کہ اس کو نسبتاً گہرائی میں اُتر کر بیان کیا جائے۔ آئندہ آنے والے مضامین یا مواد دراصل اسی یوگا پر مشتمل ہو گا۔ سو اس کا جامع تعارف آپ کے لیے ضروری ہے۔
ہاتھا یوگا سنسکرت کا لفظ ہے اور دو الگ الگ حروف کے ملاپ سے وجود میں آیا ہے۔ اس کی اگر تقسیم کی جائے تو ’’ہا‘‘ شمس کے معنوں میں مثبت توانائی کے ساتھ اور ’’تھا‘‘ قمر کے معنوں میں منفی توانائی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ یوگ جوڑنے یا تعلق بنانے کے حوالے آیا۔ سو ’’ہاتھا یوگا‘‘ کا مکمل معنی یہ ہوا دو توانائیوں کو ایک توازن کے ساتھ ملانے والا۔ یہی توازن جب قائم ہو گا تو ’’کامیاب اور صحت مند زندگی‘‘ کا خوشگوار نمونہ ہو گا۔
ہاتھا یوگا کو تین حصوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اس بات کو یوں کہہ لیں کہ ہاتھا یوگا درج ذیل تین اُمور کے ملاپ سے وجود میں آتا ہے۔
(۱)ذہن کو کنٹرول کرنا(۲) سانس کو کنٹرول کرنا(۳) جسمانی حرکات و سکنات کو کنٹرول کرنا
یہ بات قابل بحث نہیں کہ صحت مند جسم اور ذہن ہی کامیاب زندگی ہے۔ سوہاتھایوگاکے یہ تینوں اجزاء باہم ایک دوسرے کے تعاون سے کسی بھی انسان کو صحت مند جسم اور ذہن دینے کا باعث بنتے ہیں۔ ہاتھا یوگا کی یہی خاصیت‘ جس کے تحت جسمانی اور ذہنی عوارض کا کامیاب علاج کیا جاتا ہے۔ اس کو فی زمانہ قبولیت عامہ دینے کا باعث ہے۔
آئندہ آنے والے اسباق میں اللہ کی رضا سے آپ کو درجہ بہ درجہ ہاتھا یوگا کی تربیت دی جائے گی اور یوں آپ نہ صرف خود کامیاب اور صحت مند زندگی کی طرف سفر شروع کر سکیں گے بلکہ دوسرے لوگوں کی بھی راہنمائی کر سکیں گے۔ خیال رہے کہ ہاتھا یوگا کے مختلف آسن تمام انسانی امراض مثلاً کمر درد‘ پٹھوں کا کھچائو‘ آنکھوں کے امراض ‘ امراض قلب‘ بڑھاپے کے مسائل‘ زچگی‘ عمومی تھکاوٹ‘ بدخوابی ‘ نروس نس‘ موٹاپا‘ السر‘ امراض جگر‘ بلڈ پریشر‘ سر درد‘ زنانہ اور مردانہ جنسی امراض‘ الرجی‘ جوڑوں کے درد اور دیگر لا تعداد امراض کے علاج میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔

یوگا کرنے کا وقت

یوں تو یوگا کے لیے علی الصبح کا وقت سب سے بہتر ہے۔ تاہم اس کی کوئی قید نہیں آپ کو اپنی مصروفیات کے مطابق جو وقت موزوں محسوس ہو اس وقت یوگا کر سکتے ہیں۔ تاہم اس میں پابندی وقت کا خیال ضرور رکھیں۔ یعنی اگر آپ نے رات دس بجے کا وقت اس مقصد کے لیے معین کیا ہے تو پھر روزانہ اسی وقت لازم ورزش کریں۔ آٹھ بجے یا بارہ بجے پر بات نہ جائے۔

چند ضروری ہدایات برائے یوگا

یوگا کی مشقیں کرنے کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل آپ کے لیے آسانی پیدا کرے گا اور جلد مہارت لانے کا باعث بھی ہو گا۔
یوگا کی ورزش سے پہلے حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کر مکمل اطمینان کے ساتھ مشق کریں۔
مشق کی جگہ شوروغل‘ گندی اور بدبودار ہوا وغیرہ سے پاک صاف ستھر ی ہونی چاہیے۔ نسبتاً پُرسکون اور بے آوازجگہ کا انتخاب کریں۔
کھانے کے فوراً بعد یوگا کی مشق نہ کریں بلکہ ہضم ہونے کا وقت دے کر ورزش کریں۔ پانی یا جوس اگر بامقدار وافر استعمال نہیں کیا تو یہ شرط اس کے لیے نہیں ہے۔
مشق کے فوراً بعدبھی کھانے پینے سے پرہیز کریں۔
مشق کرنے سے قبل ذہنی تیاری اور جسمانی کسلمندی دور کرنے کے لیے غسل کر لیں۔
مشق ابتداء میں مختصر وقت کے لیے کریں ‘ تھکا دینے والی اور لمبی اور سخت ورزش سے اجتناب کریں۔
دوران مشق جسم کو جھٹکا دے کر یا غلط طریقے سے قوت کا استعمال کر کے کسی بھی آسن کو مکمل کرنے کی کوشش نقصان دہ ثابت ہو گی۔
ابتداء میں جسم ورزش کا عادی نہیں ہوتا۔ اس لیے جسم میں ہلکا ہلکا درد ہو گا۔ اس کے لیے دوا لینے یا مشق چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ چند دن کی ورزش سے خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔مشق کے دوران میوزک وغیرہ سے اجتناب کریں۔کیونکہ یہ یوگا کی اصل روح کو دفن کرنے کا باعث ہو گا۔
فن یوگ کو ہندوئوں سے متعلق کرنے کے باعث بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ یوگی کو گوشت سے پرہیز کرنا چاہیے۔ حالانکہ فن یوگ سیکھنے میں ایسی کوئی بندش نہیں۔ اس دوران گوشت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ سبزی خور ہوں یا گوشت خورہر دو صورتوں میں یاد رکھیں کہ کثیر مقدار میں گوشت کا استعمال موزوں نہیں۔ خاص طور پر آج کے آرام طلب معاشرہ میں۔ سنسکرت کی دو ہزار سال قدیم کتاب ’’ ہاتھا یوگ ہرا دپیک‘‘میں بھی گوشت کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

یوگا کے لیے ضروری سازو سامان

کیونکہ یوگا پہلوانی یا کسرتی ورزشوں سے فرق ورزش ہے۔ سو اس کے لیے کسی لمبے چوڑے سامان کی ضرورت نہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کو چاہیے………………………..
ایک صاف ستھر ی دری جس کا سائز اتنا بڑا ہو کہ آپ اس پر باآسانی جسم کو پھیلا کر لیٹ یا حرکت کر سکیں۔
موسم اگر سرد ہو تو نوآموزکو نسبتاً گرم کمرے میں مشق کرنی چاہیے۔ تاہم یوگا میں مہارت کے بعد گرم کمرے کی ضرورت نہ رہے گی۔ بہرحال ابتداء میں سردی محسوس ہو تو کمرے کا درجہ حرارت کنٹرول کر لیں۔سردی سے بچنے کے لیے گرم اور اونی کپڑے کسی صورت استعمال نہ کریں۔
یوگا کے لیے کسی خاص لباس کی ضرورت نہیں۔ کوئی بھی سادہ بناوٹ والا لباس استعمال ہو سکتا ہے۔ کم سے کم لباس سے بااحسن طریقے سے گزارہ ہو سکتا ہے۔ سادہ پاجامہ اور بنیان کافی ہے۔عورت اگر نمایاں جگہ یا دوسروں کی موجودگی میں یوگا کرے تو ستر کا خیال رکھے۔ یوں لباس ڈھیلا ڈھالا اور آرام دہ ہو۔
اگر بال لمبے ہوں تو عورتوں کو اپنے بال وغیرہ اچھی طرح باندھ کر یوگا کرنا چاہیے ورنہ اس کی ضرورت نہیں۔
جسم پر کوئی ضروری یا غیر ضروری چیز علاوہ لباس نہ ہو۔ مثلاً گھڑی‘ لاکٹ‘ انگوٹھی وغیرہ اُتار دینے چاہئیں۔اسی طرح جدید زمانے کی ایجادات مثلاً کمپیوٹر اور وائرلیس آلات وغیرہ قریب نہ ہوں تاکہ آپ کی توانائی کی لہریں متاثر نہ ہوں۔ فون کو بند رکھیں تاکہ ذہنی ارتکاز متاثر نہ ہو۔

یوگا اور مذہب

علم یوگا میں دلچسپی لینے والے افراد کا ایک سوال جس کا جواب دیا جانا حد درجہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کیا یوگا مذہب کی کوئی شکل ہے یا از خود ایک مذہبی عبادت‘ریاضت یا مشق ہے؟
علمی اور فنی لحاظ سے اس کا جواب یہ ہے کہ یوگا نہ تو کوئی مذہب ہے اور نہ اس کو سیکھنے کے لیے فرد کو اپنے مذہب کوچھوڑ کر دوسرے مذہب کو اختیار کرنا لازم ہوتا ہے۔ بلاشبہ یہ علم اپنی بنیادبرصغیر پاک و ہند میں عمومی تاثر کے تحت ہندومت میں رکھتا ہے۔ تاہم یہ مذہبی عقائد اور رسومات سے ہٹ کر زندگی بسر کرنے اور اپنے آپ کو جاننے کا ایک علم ہے۔ ہاں بطور مسلمان دیوی‘ دیوتائوں اوراو تاروں کی عبادت اور بزرگی کو اختیار نہیں کرنا چاہیے۔کیونکہ ان کا تعلق مذہب سے ہے ۔ خالص یوگا غیر مذہبی علم ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ صرف ہندوازم ہی نہیں بلکہ بدھ ازم اور جین ازم کے ساتھ بھی یوگا کی پرورش ہوئی ہے۔
جاری ہے..

یہ مضمون راہنمائے عملیات سے لیاگیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے