عمومی مضامین˛Mixed essay

نکتہ فکر . . . دلیل یا حجت بازی

Posted On مارچ 6, 2020 at 3:37 شام by / No Comments

نکتہ فکر

دلیل یا حجت بازی

اگر آپ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کریں تو آپ کو خود اپنے میں اور اپنے اردگرد کئی ایسے خواتین و حضرات مل سکتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اِن میں اپنی بات منوانے کے لیے حجت بازی اور دلائل دینے کی ایسی خصوصی صلاحیت موجود ہے جس کو استعمال میں لا کر وہ اپنے مقابل یا مخالف کو لاجواب کر کے چت کر سکتے ہیں۔ بلحاظ یقین یہ ایسا کر بھی سکتے۔
لیکن کیا یہ بات درست ہے؟ نہیں۔کیونکہ جو لوگ بامقصد زندگی بسر کرتے ہیں وہ نہ تو کسی کے ساتھ نئے اور انوکھے دلائل اور نہ غیر ضروی بحث مباحثہ شروع کرتے ہیں۔ یہ سوچ ہی غلط ہے کہ آپ لوگوں کو لاجواب کر کے ان پر اپنی ذہانت وفطانت کا رعب ڈال سکتے ہیں۔ آپ کی کج بحثی‘ حجت بازی اور انوکھے دلائل سامنے والوں کو لاجواب تو کر سکتے ہیں۔اُن کو مسخر نہیں کر سکتے۔ فرد کی یہ عادت اس کو دوسروں کی نظروں میں گرا دیتی ہے۔ جہاں لوگ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں وہاں فرد کی اپنی کج بحثی اور حجت بازی اس کو کہیں کا نہیں رہنے دیتی۔ اس طرح کی مصروفیات فرد کو حقیقی مقصد سے دور کر دیتی ہیں اور فرد صرف اور صرف اپنا وقت ‘ ذہنی صلاحتیں اور تمام تر توانائیاں ایک غیر اہم کام میں ضائع کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔
کسی سے گفتگوکرتے یا اپنے نکتہ نظر کو درست ثابت کرنے کے لیے دلائل سے تو ضرور کام لیں تاہم حجت بازی اور کج بحثی سے باز رہیں۔

دعا گُو
خالد اسحاق راٹھور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے