مضامین

عملیات

عمل تصرف، ظالموں کواُن کے انجام تک پہنچانے ‘ اُن میں تفرقہ پیدا کرنے‘ باہم دشمنی اور اختلاف پیدا کرنے اور سزا دینے کے لیے ایک بے مثل عمل۔

0

عمل تصرف، ظالموں کواُن کے انجام تک پہنچانے ‘ اُن میں تفرقہ پیدا کرنے‘ باہم دشمنی اور اختلاف پیدا کرنے اور سزا دینے کے لیے ایک بے مثل عمل۔

طب اسلامی˛Tib e Islamiعمومی مضامین˛Mixed essay

اسلامک طبislamic tibb,

0

غور کریں کہ قانون قدرت و قانون فطرت اور سنت الہیہ کے تحت مرض کا تصور کیا ہے اس حقیقت سے تو انکار نہیں ہے کہ مرض جس طرح بھی پیدا ہو بہرحال وہ کسی نہ کسی قانون صحت کی خلاف ورزی ہو گا یاد رکھیں کہ برائی کبھی قانون کے تحت نہیں ہوتی بلکہ برائی وہ شے یا عمل ہے جو نیکی اوربھلائی کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہے تو مرض بھی کسی قانون کے تحت پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب صحت کے قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

اسلام˛Islamعمومی مضامین˛Mixed essay

نظام مصطفیٰ ﷺ کاحسین پہلو اخوت و بھائی چارہ,nizaam mustafa ka haseen pehlu akhuwat o bhai charah,

0

’’بے شک تم میں ایک مسلمان اپنے بھائی کا آئینہ ہے۔ اس میں کوئی برائی یا تکلیف دیکھے تو چاہیے کہ دور کر دے‘‘۔ (ترمذی)
حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور پر نور ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنے بھائی کی عزت کو واپس لائے۔ تواللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ دور فرمائے گا۔ (ترمذی)

اسلام˛Islam

ام المومنین سیدہ عائشہ صد یقہ رضی اللہ تعالی عنھا Sayeda aisha bint Abu Bakr ,

0

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل ؑ آئے اور پیغام سنایا کہ اللہ تعالی نے حضرت عائشہ بنت ابوبکرؓ کا نکاح آپ ﷺ سے فرما دیا ہے ان کے پاس حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی ایک تصویر تھی۔

اسلام˛Islam

ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالی عنھا

0

سیدہ سودہ رضی اللہ تعالی عنھا ابتدا ہی میں مکہ مکرمہ میں ایمان لائیں ان کے شوہر حضرت سکران ؓ بن عمر و بن عبدالشمس بھی ان کے ساتھ اسلام لائے جن سے عبدالرحمن نامی لڑکا پیدا ہوا۔ سیدہ سودہ ؓ نے حضرت سکران ؓ کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ کی۔ ان کے شوہر مکہ مکرمہ بروایت دیگر حبشہ میں فوت ہوئے۔

عمومی مضامین˛Mixed essay

یاداشت کی درستگی کیوں, کیسے کس لیے

0

عام الفاظ میںاگر حافظے کی تعریف کی جائے تو اسے ذہن کی فطری قوت کہہ سکتے ہیںاور اگر یہی قوت ہماراساتھ نہ دے تو ہم زندگی کے کسی شعبے میںکامیابی حاصل نہیںکرسکتے اور اگر ذہن کے کسی گوشے میںفراموشی کا عنصر نہ ہوتوہم بری طرح ذہنی انتشارکاشکار ہوجائیں۔
قدرتی طورپر اﷲتعالیٰ نے ہر انسان کوحافظے کی قوت کے ساتھ ساتھ فراموشی کی صلاحیت بھی عطاکی ہے اور اگریہ صلاحیت ہ چھن جاتی توذہن اتنے سارے خیالات کی آماجگاہ بن جاتا کہ انسان میںاس کابوجھ اٹھانے کی سکت باقی نہ رہتی۔ یہ گزرے ہوئے واقعات کے حامل خیالات ذہن کو بری طرح مجروح کرتے اور ہرشخص کے لب پر ایک ہی دعاہوتی کہ۔

عمومی مضامین˛Mixed essay

بائیں ہاتھ کاکمال

0

ایک گھر کے دس افراد تو دائیں ہاتھ سے کام کرتے ہوں لیکن ان میں سے کوئی ایک بائیں ہاتھ سے لکھتا‘ کھیلتا اور دوسرے کام انجام دیتاہو۔ تاہم سائنس اس گتھی کو سلجھانے کے لیے عرصہ دراز سے تاحال کوشاں ہے۔ سائنسدانوں نے اس کا تعلق دماغ کے کچھ حصوں اور جینز سے جوڑاہے جس کے نتائج بھی کافی حوصلہ افزاثابت ہورہے ہیں اور کافی حد تک دائیں اور بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد میں فرق کی نشاندہی واضح ہوگئی ہے۔

عمومی مضامین˛Mixed essay

مراقبہ, آئیں مراقبہ کریں, مراقبہ! مراقبہ کیا ہے؟ ,مراقبہ کس طرح کیا جانا چاہیے؟ ,حصہ دوم

0

۔ ’’مراقبہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب دو عشرے سے قبل تحریر کرنی شروع کی تھی جس کا کچھ مواد راہنمائے عملیات کے 1998 ء کے شماروں میں شائع ہوتا رہا۔ تاہم بعض دیگر مصروفیات کے باعث اس طرف پوری توجہ نہ دی جا سکی اور اب دوبارہ اس سلسلے کو مکمل کرنے کا خیال آیا تو تحریر کردہ مواد کی دستیابی ایک مسئلہ بن گئی۔ تحریری مواد جو غیر طبائع شدہ تھا، اس کی پرانے کاغذات میں مکمل دستیابی نہ ہوئی ماسوائے کچھ صفحات کے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ مضامین جو مختلف مواقعوں پر شائع ہوتے رہے ان کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہو گیا۔جہاں تک ایک اندازہ ہے 25 سے 30 سال پہلے یہ مواد تحریر کرنا شروع کیا تھا اب جب از سر نو اس کا کام کرنے کا سوچا تو پہلے سے طبع شدہ اور تحریر کردہ مواد کو از سر نو تخت مشق بنانے کا جنون دماغ میں در آیا۔

عمومی مضامین˛Mixed essay

مراقبہ, آئیں مراقبہ کریں, مراقبہ! مراقبہ کیا ہے؟ ,مراقبہ کس طرح کیا جانا چاہیے؟ , حصہ اول

0

۔ ’’مراقبہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب دو عشرے سے قبل تحریر کرنی شروع کی تھی جس کا کچھ مواد راہنمائے عملیات کے 1998 ء کے شماروں میں شائع ہوتا رہا۔ تاہم بعض دیگر مصروفیات کے باعث اس طرف پوری توجہ نہ دی جا سکی اور اب دوبارہ اس سلسلے کو مکمل کرنے کا خیال آیا تو تحریر کردہ مواد کی دستیابی ایک مسئلہ بن گئی۔ تحریری مواد جو غیر طبائع شدہ تھا، اس کی پرانے کاغذات میں مکمل دستیابی نہ ہوئی ماسوائے کچھ صفحات کے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ مضامین جو مختلف مواقعوں پر شائع ہوتے رہے ان کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہو گیا۔جہاں تک ایک اندازہ ہے 25 سے 30 سال پہلے یہ مواد تحریر کرنا شروع کیا تھا اب جب از سر نو اس کا کام کرنے کا سوچا تو پہلے سے طبع شدہ اور تحریر کردہ مواد کو از سر نو تخت مشق بنانے کا جنون دماغ میں در آیا۔

Menu