عمومی مضامین˛Mixed essay

مراقبہ, آئیں مراقبہ کریں, مراقبہ! مراقبہ کیا ہے؟ ,مراقبہ کس طرح کیا جانا چاہیے؟ , حصہ اول

Posted On اپریل 8, 2020 at 4:21 شام by / No Comments

مراقبہ, آئیں مراقبہ کریں, مراقبہ! مراقبہ کیا ہے؟ ,مراقبہ کس طرح کیا جانا چاہیے؟ , حصہ اول

از قلم: از قلم خالد اسحاق راٹھور

آئیں مراقبہ کریں

meditation

1985 ء سے 1990 ء کے عرصے میں کئی ایک کتب متعدد کتب مکمل اور جزوی طور پر تحریر کی گئیں ان میں سے کچھ ابھی بھی باقاعدہ کتابی شکل میں شائع نہ ہو سکی ہیں تاہم ان کی اصل مختلف رسائل میں قسط وار شکل میں شائع ہوتی رہی ہے۔ ’’مراقبہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب دو عشرے سے قبل تحریر کرنی شروع کی تھی جس کا کچھ مواد راہنمائے عملیات کے 1998 ء کے شماروں میں شائع ہوتا رہا۔ تاہم بعض دیگر مصروفیات کے باعث اس طرف پوری توجہ نہ دی جا سکی اور اب دوبارہ اس سلسلے کو مکمل کرنے کا خیال آیا تو تحریر کردہ مواد کی دستیابی ایک مسئلہ بن گئی۔ تحریری مواد جو غیر طبائع شدہ تھا، اس کی پرانے کاغذات میں مکمل دستیابی نہ ہوئی ماسوائے کچھ صفحات کے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ مضامین جو مختلف مواقعوں پر شائع ہوتے رہے ان کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہو گیا۔جہاں تک ایک اندازہ ہے 25 سے 30 سال پہلے یہ مواد تحریر کرنا شروع کیا تھا اب جب از سر نو اس کا کام کرنے کا سوچا تو پہلے سے طبع شدہ اور تحریر کردہ مواد کو از سر نو تخت مشق بنانے کا جنون دماغ میں در آیا۔ سو پرانا تمام مواد اپنی جگہ اب جو کچھ آپ کے سامنے ظاہر ہو گا اسے آپ قدیم و جدید کا امتزاج سمجھ کر قبول کریں۔

مراقبہ! مراقبہ کیا ہے؟

مراقبہ کا لفظ جب ہمارے سامنے آتا ہے تو اسے عموماً ایک اسلام روحانی عبادت مان کر آگے چلا جاتا ہے۔ حالانکہ مراقبہ بالذات اسلام کا حصہ نہ ہے۔ مراقبہ کا نظام ہمیں قدیم ترین تاریخ اور مذاہب میں بھی ملتا ہے اوراگر کھلے ذہن اور دماغ اور وسعت قلبی کا ساتھ ہو تو حقیقت یہ ہے مراقبہ مکمل طور پر ان معنوں میں ایک اسلامی روحانی عبادت نہیں ہے جس طرح اسے ہمارے یہاں لیا جاتا ہے۔ بلاشبہ مراقبہ اپنی اصل میں دیگر مذاہب کا حصہ رہا ہے لیکن یہ صرف مذہبی، روحانی اور مخفی صلاحیتوں کو ہی بڑھانے کا نام نہ ہے بلکہ یہ ایک طرز حیات کا حصہ ہے۔ مراقبے کاحاصل ہر امر میں حصول روحانیت نہیں ہے بلکہ یہ اطمینان قلب سے لے کر دل و دماغ کے اندر چھپے اندھیروں، بے سکونی اور دیگر بہت سے معاملات میں یہ ہمیں مدد فراہم کرتا ہے۔
مراقبہ جسے انگلش میں Meditation کے لفظ سے جانا جاتا ہے دراصل اپنے عملی استعمال اور معنٰی کے اعتبار سے ایک بہت وسیع لفظ ہے اور ا س کی تعریف یا اس کا مفہوم صرف ایک یا چند الفاظ کے ذریعے بیان کرنا اس کے تمام رموز کا مظہر نہیں ہو سکتا۔ دراصل مختلف زمانوں ااور معاشرت میں یہ اپنے معنی، استعمال اور مشق کے لحاظ سے مختلف اشکال اختیار کرتا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی کوئی بھی نئی حالت اس کی پرانی حالت کا رد نہیں کرتی بلکہ اس کی نئی حالت اور تحقیق قدیمی علم کا حصہ بن کر یک جان ہو جاتی ہے۔
اسلامی لحاظ سے اگر ہم بات کریں تو مراقبہ ایک ایسے عمل کا نام ہے جس کے دوران مراقب(مراقبہ کرنے والا) دنیا اور مافیہا سے کٹ کر صرف اور صرف خالق حقیقی سے لو لگا لیتا ہے۔ گو مختلف حوالے سے تصور شیخ اور تصور ذات وغیرہ جیسے امور بھی مراقبے ہی کی اشکال ہیں تاہم کائناتی حوالے سے ذات الہی کے ساتھ منسلک ہونا ہی اسلامی مزاج کے مراقبے کا مطمع نظر رہا ہے۔
مراقبہ بطور علم اور مشق کے ہمیں یہودیوں کے ہاں بھی ملتا ہے، عیسائی اور ہندومت بھی اس کی تعلیم دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بہت سے دوسرے مذاہب بھی اس کواہم حصہ قرار دیتے ہیں۔ دراصل مراقبہ اس پانی کی طرح ہے جسے آپ جس برتن میں ڈالتے ہیں اس کی شکل اختیار کر لیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی اصل نہیں چھوڑتا صرف دیکھنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے لیکن اپنی اصل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
گو کہ میں نے ابتدا کی سطور میں بھی لکھا کہ مراقبہ صرف ایک مذہبی ریاضت کا نام نہیں ہے بلکہ دیگر امورات کا بھی حصہ ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ زمانہ قدیم سے اس کی اصل اس کائناتی سسٹم کی کھوج ہے جس کے تحت یہ ساری دنیاوجود میں آئی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر مراقبہ اس ذات کی تلاش کا نام ہے جو اس کائنات کی تخلیق کی ذمہ دار ہے۔
مراقبے کی یہ حقیقت جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے عموماً مراقبے پر تحریر کرنے والے لوگوں کے لیے شاید زیادہ اہمیت کی حامل نہ تھی کیوںکہ اس بات کی مکمل وضاحت عموماً مصنفین نے نہیں کی ہے۔
مذہب کوئی بھی ہو مراقبہ اس میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے بس اس مذہب کو ماننے والے کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ یہ علم اس کے مذہب کا حصہ ہے یا اس کے لیے ہی وجود میں آیا ہے حالانکہ مراقبہ اپنی اصل میں اس تدبر کا نام ہے جو حضرت موسی ؑ کوہ طور پراور کائنات کے آخری پیغمبر رسول اکرم ؐغار حرا میں کرتے رہے ہیں یہ وہی چیز ہے جس نے حضرت ابراہیم کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ یہ سورج اور یہ ستارے اس کے رب نہیں ہو سکتے۔ گو ہم صحتیابی کے لیے بھی مراقبے کو استعمال کر سکتے ہیں لیکن صرف ایک چھوٹے دنیاوی مقصد کے حصول کا نظریہ ہی ہماراواحد نشان راہ نہ ہے درحقیقت اگر انسانی زندگی کا کوئی بھی فعل رب کائنات سے ایک تعلق کے ساتھ نہ جڑا ہوا ہو تو وہ فعل اپنی اصل میں کیا حیثیت رکھتا ہے اس کا اندازہ آپ کو بھی ہو گا۔
مراقبہ ٹیلی پیتھی، مسمریزم، حاضرات، چھٹی حس، جنتر منتر، تنتر، زکوٰۃ، چلہ اور وظیفہ، یہ سب کیا ہیں؟ اپنی اصل میں ان سب کی ابتداء ایک ہی چیز سے ہوئی ہے اور وہ ہے مراقبہ ۔ مختلف امور کے حوالے سے مراقبے کی نوعیت تو فرق ہو سکتی ہے لیکن کوئی چیز مراقبے سے باہر نہیں نکل سکتی۔
رب کائنات کے تصور اور روابط سے لے کر تصور شیخ کے ادنی درجہ تک کے تمام مدارج مراقبائی کیفیت کے ہی مختلف نام ہیں۔
مراقبہ حقیقت میں کیا ہے اس سے کسی بھی ایسے شخص کو آگاہ کرنا یا اس سے تبادلہ خیال کرنا جس نے جزوی طور پر بھی اس کنوئیں کا پانی نہ پیا ہو ممکن نہیں۔ دراصل وہ فرد جو اس میدان میں داخل ہوتا ہے وہ ہی عملی طور پر مراقبے کی حقیقت کو پا سکتا ہے۔ مراقبہ کرتے ہوئے آپ جسمانی طور پر کوئی فعل سر انجام نہیں دے رہے ہوتے مراقبہ بظاہر ایک ایسی سرگرمی کا نام ہے جو دیکھنے میں نظر نہیں آتی ہاں اس سے گزارا جا سکتا ہے اور پھر اسے محسوس بھی کیا جا سکتا ہے۔ مراقبہ دراصل ایک ایسی سکون دینے والی شے کا نام ہے جس میں داخل ہوئے بغیر مراقبے سے حاصل ہونے والے لطف کا مزہ نہیں لیا جا سکتا۔ مراقبے کوحتمی طور پر یا خاص الفاظ میں بیان کرنا اس لیے بھی ممکن نہیں کہ یہ کوئی حسابی، نہ سائنسی اور نہ ہی معاشرتی، مذہبی یا روحانی علم نہیں ہے۔ ہر ایک کا مراقبے کا تجربہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ مراقبے میں کب کیا اور کیسے پیش آیا؟ ایک فرد کا تجربہ دوسرے سے کوئی ربط اور تعلق نہیں ظاہر کرتا۔ اسی طرح اس کے حتمی نتائج بھی ہر فرد کے مطابق ہوتے ہیں۔ مراقبے کو ہم اگر ایک آرٹ ایک استطاعت، ایک صلاحیت، ایک قابلیت کہیں تو پھر اس کی کسی حد تک توجیح کی جا سکتی ہے۔ مراقبہ ایسے ہی ہے جیسے دس آرٹسٹوں کو آسمان کی تصویر بنانے کا کہا جائے تو ان سب کی تصویر ایک ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے فرق ہو گی۔ حالانکہ آسمان تو سب کے لیے ایک ہے۔ سب کو ایک وقت میں آسمان کی کیفیت ایک جیسی نظر آئے گی۔ لیکن ہر ایک اسے الگ طریقے سے دیکھے اور محسوس کرے گا اوریہی چیز ایک آرٹسٹ کی تصویر کو دوسرے آرٹسٹ سے فرق کر دیتی ہے۔ پس امر کچھ مراقبہ اور اس کے حاصلہ نتائج کے ساتھ ہے۔
مراقب کو کس طرح بیٹھنا چاہیے، اسے کیا کرنا چاہیے اور اس کو کیا محسوس یا نظر آئے گا اس کی کوئی حتمی تشریح نہیں کی جا سکتی۔ وہ کیا حاصل کرے گا؟ اس کو بھی مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا ماسوائے اس کے یہ سوچا جائے، خیال یا تصور کیا جائے کہ وہ یہ سب کچھ حاصل کرے گا یا یہ کچھ واقع ہو گا، عملی طور پر ایک مفروضہ تو ہو سکتا ہے حقیقت نہیں۔
یہ ہر فرد کی اپنی استطاعت اور کوشش ہے اور جو کچھ وہ حاصل کرتا ہے وہ اس کا انفرادی تجربہ ہوتا ہے۔ کل کو آپ اگر اس میں داخل ہوتے ہیں تو آپ خود دیکھیں گے کہ جو کچھ آپ نے پایا وہ اس سے فرق ہو گا جو آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے فرد نے جانا ہے۔
کشف، وجدان اور اسرار سے آگاہی مراقبہ کرنے والے کئی ایک لوگوں کا مطمع نظر ہوتا ہے لیکن بات وہ ہی ہے کہ مراقبہ کسی ایک خاص سمت سفر کرنے کا نام نہیں ہے۔ مراقبہ علم اور عرفان کی آگاہی کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد شعور کی آگاہی بھی ہو سکتا ہے اس کا مطلب خود آشنائی اور خود لذتی بھی ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد صحتیابی بھی ہو سکتا ہے اس کا مقصد ڈیپریشن اور مایوسی کا علاج بھی ہو سکتا ہے اس کا مقصد ارتکاز ذات بھی ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد ذات و نفس کی آگاہی بھی ہو سکتا ہے اور اس کا مقصد ذات اعلی سے ربط و تعلق بھی ہو سکتا ہے۔ مراقبہ ایک ایسی شے ہے جس کی ہزار سمتیں اور ہزار دروازے ہیں۔ آپ کی سمت اور آپ کا دروازہ کیا ہے اسے آپ نے طے کرنا ہے۔
مراقبہ کرنے والے کے لیے اپنے وجود کی نفی اپنے ذہن کی نفی اور اپنے علم کی نفی اہم مانی جاتی ہے۔ شعوریت کے احساس سے نکلنا اس کا انکار کرنا اس کی نفی کرنا مانا جاتا ہے کہ فرد کو محبوب حقیقی کی طرف لے جاتی ہے اور یہ نفی ، اثبات کی طرف لے جاتی ہے اور اس نفی کی بدولت ہی انسان ذات اعلیٰ کی پہچان اور شناسائی کے مرحلہ میں داخل ہوتا ہے۔
سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کیا واقعی ہی ذات کی نفی ہو سکتی ہے اور اگر ذات کی نفی کر دی جائے تو پھر آگاہی کس کو ہو گی؟ انسان جس امر کے لیے بھی کوشش کرتا ہے وہ فی النفس ہوتی ہے، ایک فرد عبادت، ریاضت یا ایک چلہ کشی وغیرہ کر رہا ہے یا مراقبہ اس کا تختہ مشق ہے تو یہ سب کچھ دوسرے کے لیے تو نہیں کیا جا رہا۔ فرد خود شناسی یا مدارج روحانی یا جو بھی اس کا مقصد ہو کے لیے اس طرف آتا ہے۔ مان لیں اس کا کوئی دنیاوی مقصد نہیں اس نے کل کو کسی کو تعویز دھاگہ نہیں دینا، نہ ہی کل اس نے پیری مریدی کرنی ہے اور نہ ہی کل اس نے اللہ کا نیک اور مقرب ہونے کا اشارہ دینا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف ذات الٰہی کی خوشنودی، اس کی رضا ہے اور اس کی کھوج ہے۔ وہ صرف اس عبادت کے ذریعے اپنے رب کو خوش کرنا چاہا رہا ہے اس عبادت و ریاضت سے اس کا دور دور تک کسی دنیاوی اور مادی مقصد سے کوئی تعلق نہیں اور اسے کسی بھی طرح کی کوئی بھی حرص نہیں تو پھر بھی یہ بات اپنی جگہ پر ہی ہے کہ وہ یہ سب کچھ اپنی ذات کے حوالے سے ہی کر رہا ہے۔ جو بھی فرد مکمل خلوص کے ساتھ ریاضت اور مجاہدہ کے راستے پر چلتا ہے اس کا محاصل تو آخر کار اس کی ذات ہی ہے۔ وہ اللہ سے ربط بنانا چاہا رہا ہے اور اللہ کا مقرب بننا چاہا رہا ہے، وہ اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہونا چاہا رہا ہے وہ ریاضت اور عبادت سے اپنی فرمانبرداری اور حضوری کا اقرار اور اعتراف کرنا چاہا رہا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر اس کا کوئی اعلیٰ اور عرفا مقصد ہے تو کس کے لیے ہے، یقینا ان ساری باتوں میں ایک ہی شے ہے جو بار بار سامنے آتی ہے اور وہ ہے فرد کی ذات ، وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ ذات الٰہی اور اپنے تعلق کے حوالے سے کر رہا ہے۔ تو پھر ذات کی نفی کسی طرح ممکن ہے۔ جستجو، کچھ کرنے کی تمنا چاہے یہ رضائے الٰہی کی کیوں نہ ہو انسانی ذات کے اندر سے ہوتی ہے، یہ سوچ اور ارادہ اس کی جستجو یہ سب اس کا حصہ ہیں۔ سو جب ذات ہی نہ ہو گی تو کیا ہو گا؟
یہ سب کچھ کس کے لیے ہے؟
ذات کو اگر درمیان سے نکال دیں تو پھر باقی کیا ہے؟
مراقبہ کا مقصد کیا ہے؟ اس کا فائدہ کیا ہے؟ ایسی کئی باتیں ہیں جن کے بار بار ذکر تشریح اور بیان کے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ مراقبے سے کیا فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں اس کے کئی جواب ہیں اور کوئی جواب نہیں ہے۔ مراقبے کے تمام تر فوائد مشروط ہیں اس کے مقصد سے جس مقصد کے لیے مراقبہ کیا ہے، پس وہی اس کا فائدہ اور وہی اس کا حاصل ہے۔ یہ اگر عرفان ذات کے لیے ہے تو فائدہ بھی اس کا یہی ہے اور یہ اگر سکون اور صحت کے لیے ہے تو فائدہ بھی اس کا یہی ہے۔
مراقبہ کیا ہے؟ آئیں اسے ایک اور طرح سے دیکھتے ہیں ہم یہ بات پہلے بھی کر چکے ہیں کہ مراقبہ کسی جسمانی ورزش یا محنت کا نام نہیں ہے مراقبہ دراصل انسان کی اس قید سے آزاد ہونے کا نام ہے جس میں اسے ایک جسم دے کر باندھ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا ہے، اسے خلیفۃ الارض کا نام دیا ہے۔ آخر انسان کے اندر وہ کیا خوبی ہے جو اسے تمام مخلوقات میں اشرف و ممتاز کر دیتی ہے اور اسے تمام مخلوقات کا سرتاج بنا دیا جاتا ہے؟ دیکھیں تو انسان سے بڑا وحشی اور ظالم آپ کو کوئی جانور بھی نہیں ملے گا۔ انسان جو نیچ حرکتیں کرتے ہیں ان کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہر با شعور اور با ضمیر فرد یہ جانتا ہے کہ انسان جب گھٹیا پن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ تو اپنی کمینگی اور وحشت میں دنیا کے کسی بھی خونخوار اور گندے جانور سے زیادہ ذلت اور گمراہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے، تو پھرآخر انسان میں کیا خوبی ہے؟ اگر عبادت کو دیکھا جائے تو فرشتوں جیسی مخلوق ہمہ وقت ذات الٰہی کی عبادت و ریاضت میں مشغول ہے جب کہ بڑے سے بڑے صاحب ریاضت انسان کو انسانی ضروریات کے لیے وقت نکالنا پڑتا ہے۔ فرشتوں کی ریاضت لاکھوں کروڑوں یا اربوں سالوں پر محیط ہے، جب کہ انسان کو مشکل سے چندبرس کا عرصہ عبادت و ریاضت میں بسر کرنے والوں کو ملتا ہے۔ آخر وہ کیا چیز ہے جو انسان کو دوسری مخلوقات سے الگ کرتی ہے؟
یہاں انسانی برتری کے تمام پہلوئوں پر بحث ہمارے موضوع سے باہر ہے تاہم وہ جو ضروری بات ہے اس کو زیر بحث لانالازمہے۔ کچھ غور آپ کیجئے گا کچھ اشارہ میں دے دیتا ہوں۔ انسان دو بنیادی اشیاء کا مرکب ہے ایک مادہ اور دوسرا روح، مادہ مقید اور خاص جسم کا نام ہے جب کہ اس مادے اور جسم کے اندر زندگی کی مظہر شے روح ایک الگ کائنات ہے۔ مراقبہ اسی مادی حالت سے فرار ہونے کا نہیں بلکہ اس سے آزاد ہونے کا نام ہے۔یا آپ اس کو اس پر غالب آنے کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ یا ایک خاص دائرہ سے نکل کر لا متناہی میں داخل ہونا بھی کہا جا سکتا ہے۔ مادی حالت کو روحی حالت پرعام انسان میں جو فضیلت ہوتی ہے اس سے برعکس حالت کو اختیار کرنا دراصل مراقبہ ہے۔ اس پر تفکر فرمائیں کیوں کہ تفکر بھی اپنے اندر ایک مراقبہ ہے۔

جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے