عمومی مضامین˛Mixed essay

مراقبہ, آئیں مراقبہ کریں, مراقبہ! مراقبہ کیا ہے؟ ,مراقبہ کس طرح کیا جانا چاہیے؟ ,حصہ دوم

Posted On اپریل 8, 2020 at 4:28 شام by / No Comments

مراقبہ, آئیں مراقبہ کریں, مراقبہ! مراقبہ کیا ہے؟ ,مراقبہ کس طرح کیا جانا چاہیے؟ ,حصہ دوم

از قلم خالد اسحاق راٹھور

مراقبہ کس طرح کیا جانا چاہیے؟

meditation

مراقبہ کرنے کا میرے نزدیک کوئی ایک خاص طریقہ کار نہیں ہے۔ آپ جوں جوں آگے بڑھیں گے مراقبہ کرنے کا طریقہ بہر حال آپ کو تعلیم کیا جائے گا لیکن حصول علم ، تجربے اور گزرتے وقت کے ساتھ آپ اس بات کو پہچان جائیں گے مراقبے کا صرف ایک خاص طریقہ مقرر کر دینا درحقیقت مراقبائی نظام کے برخلاف ہے۔ جہاں ہر انسان کی طبع دوسرے سے فرق ہے وہاں اس کی ضرورت اور اس کی استطاعت بھی دوسرے سے فرق ہے اور میرے نزدیک تو مراقبہ نام ہی اس امر کا ہے جس کے اختتام پر آپ اطمینان قلب اور ایک خاص قسم کی خوشی محسوس کریں۔ سو ایک ہی راستے پر چل کر تمام لوگوں کی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتی ہاں یہ ممکن ہے کچھ راستے ایسے ہوں جن پر چل کر بہت سے لوگوں کی ضرورتیں پوری ہو جائیں لیکن ہر ایک کی منزل ایک ہی راستہ نہیں ہوتی۔
سو قبل اس کے کہ ہم مراقبہ کے طریقہ کار پر بحث کریں ہمیں پہلے اپنے ذہن اور جسم کے لیے ایک ایسا ماحول دریافت کرنا ہے جو ہمارے حصول مقصد میں معاون اور مددگار ہو۔ یعنی یہ بات تو اپنی جگہ اہم ہے کہ مراقبہ کیسے کیا جائے، لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ مراقبہ کے لیے تیار کیسے ہوا جائے؟کسی بھی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تمام متعلقہ معاملات کی مکمل چھان بین اور تیاری حد درجہ ضروری ہوتی ہے۔ جیسے آپ کوئی نقش یا تصویر تیار کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو اس کے تمام تر لوازمات کو پہلے سے ذہن میں لا کر ان کا بندوبست کرنا ہوتا ہے۔ عمل یا نقش لکھنے کے لیے کاغذ، قلم، زعفرانی سیاہی، بخور وغیرہ یا بیٹھنے کے لیے نششت وغیرہ جیسے دیگر تمام معاملات کو عمل شروع کرنے سے پہلے دیکھ لیا جاتا ہے۔ کون سی ساعت ہو گی، کون سا طالع ہو گا، کیا وقت استخراج عمل کے لیے موثر ہے، ایسی متعدد باتوں کو ذہن میں رکھ کر اور لوازمات کو باہم موجود کر کے اصل کام یعنی نقش لکھنا کیا جاتا ہے۔ نقش لکھنے کے لیے جس طرح ایک ماحول اور لوازمات کی تیاری اور موجودگی ضروری ہے اسی طرح مراقبہ کے لیے بھی ایک خاص طرز کار اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔
دنیا میں کوئی بھی کام کرنا ہو اس کا اصول ہے کہ عین وقت سے پہلے کام کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی جاتی ہے اور اس کے ضروری لوازمات کو قبل از وقت مناسب انداز سے مہیا کیا جاتا ہے۔ یہی امر ہمارے مقصد کے لیے ضروری ہے، سو آگے بڑھنے سے قبل اس پر بحث کرتے ہیں۔
مراقبہ کے حوالے سے ہم جن امورات کو بیان کریں گے ان سب کی پابندی دراصل نو آموز کے لیے ضروری ہے۔ جب کوئی فرد کسی نئے کام کے لیے علم کے حصول میں داخل ہوتا ہے تو اس کو ابتداء الف ، ب سے ہی کرنی پڑتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ پہلے ہی دن مثنوی مولانا روم کو سمجھ جائے یا جنریٹر تیار کر کے چلا ڈالے۔ ہاں جب آپ کسی قابل ہو جائیں تو پھر وہ تمام امورات جن کی اس حوالے سے وضاحت کی جائے گی کی پابندی لازم نہیں رہتی کیوں کہ تجربہ اور ایک سفر کو طے کرنے کے بعد آپ ذاتی طور پر بھی کچھ فیصلہ کر سکتے ہیں یا سمجھ کے مطابق اپنی ترجیحات کا تعین کر سکتے ہیں۔ ایک امرکے سمجھنے کے بعد اور ایک خاص صلاحیت اپنے اندر پیدا کرنے کے بعد مراقب اس قابل ہو جاتا ہے کہ اسے ماحول کو ایک خاص شکل دینے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ ماحول اس کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تاہم جب تک اس منزل تک پہنچ جائیں بیان کردہ طریقہ اور سلیقہ اختیار کریں۔ اس حوالے سے درجہ ذیل امورات کو بالترتیب بیان کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان پر وضاحتی بیان بھی آگے چل کر آئے گا؛

ارادہ
موسم
ماحول اور جگہ
روشنی
درجہ حرارت
وقت
صحت و مزاج
سماعت
سانس
انداز نششت

سطور ذیل میں ان موضوعات کو لے کر بالترتیب بحث کی جا رہی ہے۔
ارادہ
کسی کام کی نیت یا ارادہ کرنا اس کی تکمیل کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔ نیت اور ارادے میں باہم کوئی فرق ہے یا نہیں اس کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ گو ارادہ اور نیت ایک دوسرے کے پر تو کے طور پر لیے جاتے ہیں لیکن ارادہ نیت پر غالب ہے اور نیت ارادے میں شامل ہے۔ ارادہ بنیادی طور پر غفلت کی نفی کا نام ہے آپ نے سوچا آپ نے خیال کیا آپ کی طبع کسی خاص امر کی طرف متوجہ ہوئی اور آپ نے اس کی طرف رجوع کیا تو یہ کیفیت دراصل اس حالت سے باہر آنے کو ظاہر کرتی ہے جب آپ اس حوالے سے باہر خواب غفلت میں تھے۔ ارادہ ہمہ وقت کیفیت کا نا م ہے، کسی لمحے آپ اس سے باہر نہیں ہو سکتے اور اگر آپ اس سے باہر آ جاتے ہیں اور آپ کو کسی لمحے یہ احساس نہیں رہتا کہ آپ کیا کر رہے ہیں اور آپ کو کیا کرنا ہے تو پھر آپ ارادے کی نفی کر رہے ہوتے ہیں ارادہ ایک ایسا امر ہے جو شاید دیگر تمام امورات جو ہم زیر بحث لائیں گے سے اہم ترین ہے۔ کسی کام کو شروع کر نا ارادہ نہیں ہے بلکہ اس کام کو شروع کر کے مکمل یقین اور توجہ کے ساتھ ابتداء سے انتہا تک لے جانا ارادہ ہے۔ ارادہ میں آنے والی متزلزل کیفیت اور اس پر استحکام کامیابی کی علامت ہے۔
موسم
ارادے سے ہٹ کر اب ہم جس موضوع کی طرف بڑھے ہیں یہ ایک تجربہ کا ر مراقب کے لیے زیادہ اہم امر نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ ان کیفیات پر قابو پانا سیکھ جاتا ہے جو عالم انسان کے لیے پریشان کن ہوتی ہیں۔ لیکن ایک نو آموز کے لیے موسم کا موضوع بہت اہم ہے۔ سادہ سی بات ہے موسم انسانی مزاج اور رویے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ برا موسم فرد کے مزاج میں بے توازنی اور اس کے معمولات میں اتھل پتھل پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ وہ جو مراقبے کی مشق میں نئے داخل ہو رہے ہیں ان کو چاہیے کہ ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں ہر موسم چاہے گرمی کا ہو یا سردی کا پوری قوت کے ساتھ اثر انداز نہ ہو۔ بہت زیادہ گرمی یا سردی یا دیگر موسمی تغیرات یعنی آندھی، بارش، تیز ہوا وغیرہ کا عمل دخل مشق کے ابتداء میں کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ماحول اور جگہ
اس بات کو موسم کے موضوع میں بھی بیان کیا جا سکتا تھا لیکن الگ عنوان کا مقصد اس کی خصوصی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ وہ جگہ یا ماحول جہاں مشق کی ابتداء کی جا رہی ہے دیگر امورات کی طرح انسان کو متاثر کرنے والا ایک خاص امر ہے۔ دوران مراقبہ ہمیں ایسی جگہ اور ماحول کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں بیرونی مداخلت کم سے کم بلکہ نہ ہو۔ مراقبے کے لیے اگر آپ نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں بیرونی شور شرابہ گفتگو یا دیگر آوازیں آ رہی ہوں تو فرد کے دماغ کو بیرونی اطلاعات با مقدار کثیر موصول ہو رہی ہوتی ہیں۔ انسانی حواس اور دماغ پر ان معلومات کا طوفان مثبت اثر نہیں ڈالتا۔ ظاہرسی بات ہے یہ ایسی معلومات ہیں جن کا مقابلہ کرنا نو آموز کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ باہر رکشا یا ٹیکسی کے چلنے کی خوفناک آوازیں آ رہی ہوں یا کسی کے ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈر سے مدھر سریں بکھر رہی ہوں یہ سب ایسی معلومات ہیں جو فرد کو اپنے مقصد پر پوری توجہ مرتکز کرنے میں کامیاب نہیں ہونے دیتی۔ اسی طرح مراقبے کی جگہ صاف ستھری اور غیر ضروری بدبو یا کھانے کی خوشبو وغیرہ سے محفوظ ہونی چاہیے ہاں مراقبے کی جگہ ہلکی یا ایسی خوشبو جو مراقب کے مزاج پر بھاری نہ ہو اچھا اثر ڈالتی ہے۔
جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے