عمومی مضامین˛Mixed essay

مالشی تیل اور مالش کے فوائد

Posted On مارچ 5, 2020 at 2:24 شام by / No Comments

مالشی تیل اور مالش کے فوائد

محنت طلب کام کے بعد دبائو Stress بڑھ جاتا ہے ۔ جسم بھاری اور دکھن کا شکار لگتا ہے۔ ہر موسم میں یہ کیفیت لاحق ہو سکتی ہے ‘ لیکن جاڑوں میں یہ کیفیت کچھ زیادہ ہی گھیر لیتی ہے۔
اس کیفیت سے نجات کی ایک بہترین تدبیر یہ بھی ہے کہ مالش سے کام لیا جائے۔ یہ مالش آپ خود بھی کر سکتے ہیںیا پھر کسی سے کرائی بھی جا سکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مالش کسی ماہر ہی سے کرائی جائی۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ یہ انسانی مالش ہو‘ گھوڑوں کیطرح ملنے دلنے کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔ضروری نہیں کہ اس کے لیے کپڑے اتار پھینکے جائیں۔ ہلکے زیر جامے اور کرتے کے ساتھ بھی مالش کرائی جا سکتی ہے۔ دراصل ہاتھوں کے لمس کا یہ سارا کرشمہ ہوتا ہے۔ اسے ’’خشک مالش ‘‘ کہتے ہیں۔
مالش کسی اچھی قسم کے دوائی تیل سے بھی کرائی جا سکتی ہے۔ اور اس کے لیے مختلف قسم کے تیل خود گھر ہی پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔ مثلا سخت سردی‘ بارش وغیرہ میں بھیگنے کی صورت میں اکڑتے اور درد کرتے پنجوں‘ پنڈلیوں اور گھٹنوں کے لیے لہسن کا تیل بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ دس پندرہ منٹ کی مالش سے مفلوج اور بے کار ہوتے ہاتھ پیر معمول پر آ جاتے ہیں۔ لہسن کے علاوہ مختلف اشیاء سے بھی تیل تیار کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے لیے بنیادی ضرورت تیل کی ہوتی ہے جو مختلف قسم کے ہو سکتے ہیںس مثلا بادام کا تیل‘ زیتون کا تیل‘ تل کا تیل‘ سورج مکھی کا تیل‘ سویابین ‘ سرسوں‘ ناریل اور میٹھی سرسوں(کینولا) کا تیل۔
تیل کی تیاری میں آپ اپنے باروچی خانے میں موجود اشیاء کے علاوہ باغ میں موجود پودوں اور درختوں سے بھی کام لے سکتے ہیں۔ پھلوں کے چھلکے ‘ پھولوں کی پتیاں اور مختلف مسالے بھی بڑی کام کی چیز ثابت ہوتے ہیں۔ آپ مختلف چیزوں کو ملا کر بھی مرکب تیل تیار کر سکتے ہیں مثلا لونگوں کے ساتھ لیموں کے چھلکوں کو ملا کر ایک حرارت بخش تیل تیار کیا جا سکتا ہے۔
ان تیلوں کی تیار کا طریقہ بہت آسان ہے۔ لیکن اس کے لیے کچھ وقت ضرور درکارہوتا ہے۔ جس چیز کا بھی تیل بنانا ہوں ‘ اس کے لیے صاف ستھری بوتل لے کر اسے مذکورہ کسی بھی تیل سے تین چوتھائی بھر دیجیے اور اب اس میں جس چیز کا بھی تیل بنانا ہوا اسے کوٹ کر کچل کر یا پیس کر شامل کر دیجیے۔ اس بوتل کو اچھی طرح بند کر کے اسے کسی گرم اور تاریک جگہ ۱۵ روز کے لیے رکھ دیجیے۔ اب اس تیل کو چھان کر استعمال کیجیے۔

دارچینی کا تیل

دارچینی صدیوں سے غذائی اور دوائی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں ایک دافع عفونت( اینٹی سیٹک) جزیوجینو Eugeno ہوتا ہے۔ یہ تیل پٹھوں کے درد‘ اینٹھن کے لیے بہت مفید ہوتا ہے بلکہ ریڑھ‘ کمر‘ پیڑو اور رانوں پر اس کی مالش سے دورانِ خون بڑھ کر خاص کمزوری کو بھی دور کر سکتا ہے۔ اپنے پسندیدہ تیل میں عمدہ قسم کی دارچینی توڑ کر ڈال دیجیے اور ۱۵ روز بعد اسے استعمال کیجیے۔ خاص مالش کے لیے اس میں لونگ اور جائفل ‘ جوتری بھی کچل کر ملائے جا سکتے ہیں۔

پودینے کا تیل

قدیم مصری‘ عرب اطبا اور اطبائے ہند بھی پودینے کی ٹھنڈک بخش خاصیت کے لیے اسے مختلف انداز میں استعمال کرتے تھے۔ بقراط پودینے کو پیشاب لانے کے لیے تجویز کرتا تھا۔ جسم تھکن سے چور ہو تو پودینے کے تیل کے مالش سے بدن تازہ دم ہو جاتا ہے۔ سردی اور زکام میں آرام کے لیے بھی یہ تیل پیشانی اور سینے پر ملنے سے فائدہ ہوتا ہے‘ اسی لیے بام میں یہ لازماً شامل کیا جاتا ہے۔
تازہ پودینے کی پتیاں کتر کر طریقے کے مطابق تیل تیار کرنا چاہیے۔ زیادہ موثر اور خوشبودار بنانے کے لیے زیادہ پودینہ استعمال کرنا چاہیے۔ خشک پودینے سے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ تلسی کے پتوں سے بھی تیل تیار کر سکتے ہیں۔ پودینے کے ساتھ اسے شامل کر دینے سے یہ تیل اور بھی موثر ہو جاتا ہے۔ اسے نیم گرم کر کے کان کے درد کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے۔

کینو اور لیموں کا تیل

قدیم طبی کتابوں کے مطابق یونانی ترش پھلوں کے شفا بخش خواص سے خوب واقف تھے‘ اسی لیے وہ لیموں کو ’’مڈیکا‘‘ کہتے تھے۔ لیموں کے چھلکے باریک کتر کر ناریل کے تیل میں شامل کیجیے۔ آپ چاہیں تو لیموں(پھل) چھلکے سمیت بھی شامل کر سکتے ہیں۔ ۱۵ روز بعد اسے نتھار کر استعمال کرنے سے پیشانی بلکہ سر میں اس تیل کی چند بوندوں کی مالش سے دماغ تازہ ہو جاتا ہے۔ ایک بوتل میں ایک یا دو لیموں کافی ہوتے ہیں۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ لیموں اور کینو دونوں ملا کر تیل تیار کیا جائے یا پھر ان کے الگ الگ تیل تیار کیے جائیں۔

لونگ کا تیل

لونگ کا تیل آج بھی دنیا بھر میں دوائی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ یہ ایک خوش بودار اور حرارت بخش تیل ہوتا ہے۔ جاڑوں میںلیموں اور لونگ کا ملا جلا تیل مالش کی صورت میں حرارت بخشتا ہے۔ تیل کی چھوٹی شیشی میں بیس پچیس لونگ کچل کر ڈالنا کافی ہوتا ہے۔ کچلنے سے اس میں پایا جانے والا روغن تیل میں اچھی طرح شامل ہو جاتا ہے۔

دیگر تیل

اسی ترکیب سے دیگر اشیاء کے تیل تیار کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں زیادہ فرحت بخش تاثیر کے لیے گلاب ‘ چنبیلی‘ چمپا‘ موتیا وغیرہ کے تیل قابل ذکر ہیں۔ گرمی کے موسم میں ملتان کے دھنیے کے تیل کی مالش کی راحت بخشی صدیوں سے مسلمہ چلی آ رہی ہے۔ اسی طرح گلاب کے تیل سے مالش دماغ کو تازگی اور جسم کو راحت بخشتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے