اسلام˛Islam

ام المومنین سیدہ عائشہ صد یقہ رضی اللہ تعالی عنھا Sayeda aisha bint Abu Bakr ,

Posted On اپریل 20, 2020 at 7:35 شام by / No Comments

ام المومنین سیدہ عائشہ صد یقہ رضی اللہ تعالی عنھا

سلسلہ نسب:

سیدہ عائشہ ؓ بنت ابی بکر صدیقؓ بن ابی قحافہ ؓ بن عامر بن عمر و بن کعب بن سعد بن مرہ بن کعب بن لوی۔
کنیت: ام عبداللہ: آپؓ کی کنیت ام عبد اللہ ہے آپ ؓنے سرکار دو عالم ﷺ سے کنیت مقرر کرنے کی درخواست کی چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اپنے بھانجے(یعنی عبداللہ بن زبیر ؓ) سے اپنی کنیت رکھ لو۔
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ آپ جب اپنی بہن کے نوزائیدہ فرزند حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو بارگاہ رسالت میں لے کر حاضر ہوئیں تو نبی کریم روف و رحیم ﷺ نے اس کے منہ میں لعاب دھن ڈال کر فرمایا یہ عبد اللہ ہے اور تم ام عبداللہ۔

خواب میں سیدہ کی تصویر:

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تین رات مسلسل مجھے ایک ریشمی کپڑے پر تمھاری تصویر دکھائی جاتی رہی جسے جبرائیل علیہ السلام لے کر آتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ہے آپ کی بیوی۔ اے عائشہ آج جو میں نے تمھارے چہرہ سے کپڑا اٹھایا تو تم اسی تصویر کے مطابق ہو۔ فرشتہ جب تمھاری تصویر لے کر آتا رہا تو میں نے کہا تھا کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اس لئے یہ رشتہ ہو کر رہے گا۔ دوسرے روایت میں یہ لفظ بھی ہیں۔ یہ تمھاری بیوی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں جب سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں جنت میں سرکار ابد قرار ﷺ کی زوجہ ہوں تو میں ہر قسم کے غم سے بے نیاز ہو گئی۔

سیدہ کا نکاح:

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل ؑ آئے اور پیغام سنایا کہ اللہ تعالی نے حضرت عائشہ بنت ابوبکرؓ کا نکاح آپ ﷺ سے فرما دیا ہے ان کے پاس حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی ایک تصویر تھی۔
آپ کا نکاح مدینہ طیبہ میں چھ سال کی عمر میں ماہ شوال میں ہوا اور ماہ شوال میں نو سال کی عمر میں حضور سید عالم ﷺ کی خدمت میں حاضری ہوئی۔ پھر حضورﷺ کی خدمت میں نو سال تک رہیں۔ جب سید عالم ﷺ نے وصال فرمایا تو اس وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ ماہ شوال میں شادی کی تقریب زیادہ پسند کرتی تھیں اور فرماتی تھیں۔ میرا نکاح بھی اور رخصتی بھی شوال میں ہوئے اور مجھ سے زیادہ خوش قسمت شوہر کے نزدیک کوئی نہیں۔
کسی زمانے میں شوال میں طاعون کی وبا پھیلنے کے باعث لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے تھی۔ ان کے ان اوہام باطلہ کو دور فرمانے کے لئے رحمت العلمین ﷺ نے اس مہینہ میں نکاح کرنا اور رخصت کرانے کا چاہا۔
حبیبہء حبیب خدا: حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے اعظم فضائل و مناقب میںسے ان کے لئے حضور تاجدار مدینہ ﷺ کا بہت زیادہ محبت فرمانا ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول ﷺ اپنی نعلین مبارک میں پیوند لگا رہے تھے جبکہ میں چرخہ کات رہی تھی۔ میں نے حضور اکرم ﷺ کے چہرہ پر نور کو دیکھا کہ آپ کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہہ رہا تھا اور اس پسینہ میں آپ کے جمال میںایسی تابانی تھی کہ میں حیران تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے میری طرف نگاہ کرم اٹھا کر فرمایا کس بات پر حیران ہو؟ سیدہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے رخ روشن اور پسینہ جبین نے مجھے حیران کر دیا ہے اس پر حضور اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور میرے پاس آئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا اے عائشہ اللہ تعالی تمھیں جزائے خیر دے تم اتنا مجھ سے لطف اندوز نہیں ہوئی جتنا تم نے مجھے مسرور کر دیا۔
حضور اکرم ؐ نے سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنھا سے فرمایا ” اے فاطمہ جس سے میں محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو گی ؟ سیدہ فاطمہ زہرہ ؓ نے عرض کیا‘ ضرور یا رسول اللہ ؐ میں محبت رکھوں گی۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تم عائشہ سے محبت رکھو۔
حضرت عمار بن یاسر ؓسے منقول ہے کہ انھوں نے کسی کو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے میں بدگوئی کرتے سنا تو حضرت عمار ؓ نے فرمایا او ذلیل و خوار خاموش رہ‘ کیا تو اللہ عزوجل کے رسول ﷺ کی محبوبہ پر بدگوئی کرتا ہے۔
حضرت مسروق رضی اللہ تعالی عنہ کا ذوق روایت: حضرت مسروق ؓ اکابر تابعین میں سے ہیں جب سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کرتے فر مایا کرتے حدثنی الصدیقۃ بنت الصدیق حبیۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مجھ سے حدیث بیان کی صدیقہ بیٹی صدیق کی محبوبہ رسول ﷺ نے یا کبھی اس طرح حدیث بیان کرتے حبیبۃ حبیب اللہ امرائۃ من السماء اللہ کے حبیب کی محبوبہ آسمانی بیوی۔

سیدہ کا ناز و نیاز:

 

سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو محبوب کائناتﷺ کے ساتھ گفتگو کرنے کی بہت قدرت تھی اور وہ جو چاہتیں بلا جھجک عرض کر دیتی تھیں اور یہ اس قرب و محبت کی وجہ سے تھی جو ان کے مابین تھی۔
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول ﷺ میرے پاس تشریف لائے میں اپنی گڑیاں گھر کے ایک دریچہ میں رکھ کر اس پر پردہ ڈالے رکھتی تھی۔ سرکارﷺ کے ساتھ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے۔ انھوں نے دریچہ کے پردہ کو اٹھایا اور گڑیاںحضور ﷺ کو دکھائیں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا یہ سب کیا ہیں۔ میں نے عرض کیا یہ میری بیٹیاں ہیں یعنی یہ میری گڑیاں ہیں۔ ان گڑیوں میں ایک گھوڑا ملاحظہ فرمایا جس کے دو بازو تھے۔ فرمایا کیا گھوڑوں کے بھی بازوہوتے ہیں۔ آپ ؓ نے عرض کیا شاید حضور اکرم ﷺ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے تھے اور ان کے بازو تھے۔ حضور اکرم ﷺ نے اس پر اتنا تبسم فرمایا کہ آپ ﷺ کے دندانہائے مبارک کشادہ ہو گئے۔
ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہو گا مگر حق تعالی کی رحمت اور اس کے فضل سے ۔ سیدہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ کیا آپ بھی جنت میں داخل نہ ہونگے مگر خدا کی رحمت سے فرمایا ہاں میں بھی داخل نہ ہوں گا مگر یہ کہ مجھے حق تعالی نے اپنی رحمت میں چھپا لیاہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ ایک دن حضور پر نور سید عالم ؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کو بنی کریم ؐ کے ساتھ بڑی فراخی سے باتیں کرتے ہوئے ملاحظہ فرمایا حضرت صدیقہ اکبر ؓ نے سیدہ سے فرمایا بیٹی آپ ﷺ سے ہمیشہ نیاز مندی اختیار کرو۔ جب حضرت صدیق اکبر ؓ وہاں سے چلے آئے تو حضور سید عالم ؐ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو ان کی رضا کے مطابق گفتگو کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ اسی اثنامیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا پھر آنا ہوا تو سید عالمؐ اور حضرت سیدہ عائشہ ؓ کو بہت خوش پایا تو آپ بھی بہت خوش ہوئے۔
ایک دفعہ کسی بات پر طرفین کے درمیان شکر رنجی ہوئے تو صدیق اکبر ؓ کو بلایا گیا۔ انھوں نے حضور ؐ سے اتنی سے بات کو بھی ناپسند کیا اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو سختی سے ہدایت فرمانے لگے۔ حضورؐ نے فرمایا آپ جائیے یہ ہمارا اپنا معاملہ ہے اور مسکرا دیئے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضور پر نور شافع یوم النشور ﷺ نے فرمایا کہ جب کبھی تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو میں جان لیتا ہوں اور جب کبھی تم مجھ سے خفا ہوتی ہو تو بھی جان لیتا ہوں۔ میں نے عرض کیا آپ کہاں سے پہچانتے تھے فرمایا جب تم ہم سے خوش ہوتیں تو کہتی محمد مصطفے ﷺ کے رب عزو جل کی قسم اور جب تم ہم سے خفا ہوتی تو کہتی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم۔ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ؐ میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی تھی۔ مطلب یہ کہ اس حال میں صرف آپ کا نام نہیںلیتی لیکن آپ کی ذات گرامی اور آپ کی یاد میرے دل میں اور میری جان آپ کی محبت میں مستغرق ہے۔
تفقہہ فی الد ین: سیدہ عائشہ صدیقہؓ فقہا و علماء و فصحاء بلغاء اکابر صحابہ میں سے تھیں۔ اور حدیثوں میں آیا ہے کہ نکال دیں تم اپنے دو تہائی دین کو ان حمیراء یعنی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا سے حاصل کرو۔ عروہ بن زبیرہ ؓ سے مروی ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نے کسی کو معانی قرآن احکام حلال و حرام‘ اشعار عرب اور علم انساب میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے زیادہ عالم نہیں دیکھا۔
حضرت ابو موسی ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضوراکرم ﷺ کی کسی حدیث پاک سمجھنے اور کسی دوسرے مسئلہ کے سمجھنے میںا گر کوئی مشکل پیش آتی تو ہم ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے دریافت کرتے تو آپ اس مشکل کو حل فرما دیتیں کیونکہ آپ بڑی عالمہ تھیں۔
ایمان افروز تدبیر: ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں سخت قحط پڑا بارش نہ ہونے پر لوگ پریشانی کے عالم میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے ام المومنین بارش نہیں ہوئی قحط پڑ گیا ہے۔ ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں۔ فرمائیں کیا کیا جائے۔ سیدہ نے فرمایا۔ حضوراکرمؐ کی قبر انور پر جائو اور قبر انور کے حجرہ مبارکہ کی چھت سے چند جگہ سے مٹی نکال کر روشندان بنائو تاکہ قبر شریف اور آسمان کے مابین کوئی پردہ نہ رہے اور آسمان قبر شریف کو نظر آنے لگے۔ آسمان جب قبر انور کو دیکھے گا تو رونے لگے گا اور بارش ہونے لگے گی۔ ام المومنین کی اس تدبیر پر صحابہ کرام ؓ علھیم اجمعین نے عمل کیا اور روضہ انور کی چھت میں کچھ روشندان بنائے تو آسمان کو قبر انورنظر آنے لگی تو بارش شروع ہو گئی اور اتنی بارش ہوئی کہ گھاس اگ آئی۔ اونٹ موٹے ہو گئے اور ان میں اتنی چربی اور گوشت پیدا ہو گیا۔ گویا وہ موٹاپے سے پھٹنے لگے۔ اس سال کا نام سال ارزانی رکھا گیا۔
برکات آل ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ: ایک سفر میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا ہار مدینہ طیبہ کے قریب کسی منزل میں گم ہوگیا۔ سرکار مدینہ ﷺ نے اس منزل میں پڑائو ڈالا تاکہ ہار مل جائے۔ نہ منزل میں پانی تھا نہ ہی لوگوں کے پاس
‘ نماز کا وقت فوت ہونے کے قریب لوگ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس سیدہ ؓ کی شکایت لائے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سیدہ صدیقہ ؓ کے پاس تشریف لائے۔ دیکھا کہ راحت العاشقین ﷺ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی آغوش میں اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرما رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سیدہ پر سختی کا اظہار کیا لیکن سیدہ نے اپنے آپ کو جنبش سے باز رکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سرکار دو عالم ؐ کی چشمان مبارک خواب سے بیدار ہو جائیں چنانچہ صبح ہو گئی اور نماز کے لئے پانی عدم دستیاب۔ اس وقت اللہ جل شانہ نے اپنے لطف و کرم سے آیت تیمم نازل فرمائی اور لشکر اسلام نے صبح کی نماز تیمم کے ساتھ ادا کی حضرت اسید بن حضیر ؓ نے فرمایا ماھی باول برکتکم یا ال ابی بکر اے اولادابوبکر ؓ یہ تمھاری پہلی برکت نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں کو تمھاری بہت سی برکتیں پہنچی ہیں سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد جب اونٹ اٹھایا گیا تو ہار اونٹ کے نیچے سے مل گیا گویا حکمت الہی عزوجل یہی تھی کہ مسلمان کے لئے آسانی اور سہولت مہیا کی جائے۔

ارفع شان:

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ بہ نسبت دیگر عورتیں کے مجھے چند امتیازی حثیتیں حاصل ہیں۔ شکم مادرمیں میری تصویر بننے سے قبل حضور اکرم ؐ کو میری صورت دکھائی گئی۔ مجھے حضورؐ نے سب سے زیادہ پیار عطا فرمایا اللہ تعالی نے قرآن کریم میں میری برات کا اعلان فرمایا۔ نیز فرماتی ہیں حضور اکرم ؐ کا وصال میرے گھر میں اور میری باری میں ہوا۔ بوقت وصال آپ میرے سینہ اور گردن سے تکیہ لگائے ہوئے تھے اور سب سے بڑی نعمت جس سے اللہ تعالی نے مجھے نوازا وہ یہ کہ وصال کے وقت میرا لعاب دھن اور حضور اکرم ؐ کا لعاب دہن شریف جمع فرمادیا۔ جب میرے بھائی عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ تشریف لائے ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ تاجدار مدینہ ﷺ میرے جسم سے تکیہ لگائے ہوئے تھے سرکار ؐ نے مسواک کی طرف دیکھا میں نے سمجھا کہ حضور ﷺ کو مسواک پسند ہے لہذا میں نے عرض کیا آپ کے لئے مسواک لوں۔ حضورؐ نے سر انور سے ہاں کا اشارہ فرمایا۔ میں نے مسواک لے کر حضورؐ کو دی۔ حضور نے دھن مبارک میںڈالا تو وہ سخت تھی میں نے عرض کی اسے نرم کر دوں؟ فرمایا ہاں۔ میں نے مسواک اپنے منہ سے چبا کر اسے نرم کر کے حضور ﷺ کو دی اور آپ نے اپنے منہ میں ڈال لی۔ اس طرح میرا لعاب اور لعاب سرور دو جہاںؐ جمع ہو گئے۔

خلیفۃ المسلمین ؓ کے ایمان افرور اقوال:

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کی برات میں حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں۔ ام المومنین پر افتراء کرنے والے منافق اور جھوٹے ہیںاس لیے کہ اللہ تعالی نے آپ ؐ کے جسم انور پر مکھی بیٹھنے سے محفوظ رکھا کیونکہ وہ نجاست پر بیٹھتی ہے پھر آپ کو ایسے اتہام سے کیونکہ محفوظ نہ فرماتا۔
سیدنا حضرت عثمان غنی ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے آپ کے سائے کو زمین پر نہیں پڑنے دیا تاکہ کسی کا پائوںآپؐ کے سایہ پر نہ پڑ جائے تو آپ ؐ کی آبرو کی حفاظت کیوں نہ فرماتا۔
سیدنا حضرت علی ؓ فرماتے ہیں آپ کے نعلین شریف کو جب آلودگی لگی تو حضرت جبرائیل ؑ آ کر مطلع فرمائیں اگر ایسی بات ہوتی تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو الگ کر دینے کا حکم بھی نازل ہو جاتا۔
انفاق فی سبیل اللہ عزوجل: سیدہ صدیقہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ اگر تم چاہتی ہو کہ جنت میں میرے ساتھ رہو تو تمہیں چاہیے کہ دنیا میں اس طرح رہو جس طرح کہ راہ چلتا مسافر ہوتا ہے کہ وہ کسی کپڑے کو پرانا نہیں سمجھتا جب تک وہ پیوند کے قابل ہے اور وہ اس میںپیوند لگاتا ہے۔
مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے سرکار دو عالم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ میرے لئے دعا فرمائیں کہ حق تعالی مجھے جنت میں آپ کی ازدواج مطہرات میں رکھے۔ سرکاردو عالم ؐ نے فرمایا اگر تم اس رتبہ کی تمنا کرتی ہو تو کل کے لئے کھانا بچا کے نہ رکھو۔ اور کسی کپڑے کو جب تک اس میںپیوند لگ سکتا ہے بیکار نہ سمجھو۔ سیدہ صدیقہؓ حضور اکرم کی اس وصیت و نصیحت پر اس قدر کاربند رہیں کہ کبھی آج کا کھانا کل کے لئے بچا کے نہ رکھا۔
حضرت عردہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کو ستر ہزار درہم راہ خدا میں صدقہ کرتے دیکھا ہے حالانکہ انکی قمیض کے مبارک دامن میںپیوند لگا ہوا تھا۔
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے آپ کی خدمت میں ایک لاکھ درہم بھیجے تو آپ نے اسی دن سب کو اقارب و فقراء پر تقسیم فرما دئیے۔ اس دن روزہ سے ہونے کے باوجود شام کے کھانے کے لئے کچھ نہ بچایا۔ باندی نے عرض کیا کہ اگر ایک درہم روٹی خریدنے کے لیے بچا لیتیں تو اچھا ہوتا فرمایا یاد نہیں آیا اگر یاد آ جاتا تو بچا لیتی۔
سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے کتب معتبرہ میں دو ہزار دو سو حدیثیں مروی ہیں ان میں سے بخاری و مسلم میں ایک سو چوہتر متفق علیہ ہیں اور صرف بخاری میں چون اور صرف مسلم میںسڑسٹھ ہیں بقیہ تمام کتابوں میں ہیں صحابہ و تابعین میں سے خلق کیثر نے ان سے روایتیں لی ہیں۔

وصال:

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کا وصال حضرت امیر معاویہ ؓ کے دور حکومت میں ۵۸ ھ میں۶۸ سال کی عمرمیں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے آپکی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے وصال کے وقت فرمایا کاش کہ میں درخت ہوتی کہ مجھے کاٹ ڈالتے کاش کہ پتھر ہوتی کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی۔
جب سیدہ ؓ نے وصال فرمایا تو ان کے گھر سے رونے کی آوازآئی سیدہ ام سلمہ ؓ نے اپنی باندی کو بھیجا کہ خبر لائیں۔ باندی نے آ کر وصال کی خبر سنائی تو سیدہ ام سلمہ ؓ بھی رونے لگیںاور فرمایا کہ اللہ تعالی ان پر رحمت فرمائے نبی کریم ؐ کی وہ سب سے زیادہ محبوبہ تھیں اپنے والد ماجد کے بعد۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے