عمومی مضامین˛Mixed essay

ساڑھ ستی، ڈھایہ، سعادت زحل، نحوست زحل

Posted On مارچ 5, 2020 at 6:57 صبح by / No Comments

ساڑھ ستی، ڈھایہ، سعادت زحل، نحوست زحل

از قلم؛ خالد اسحاق راٹھور

ساڑھ ستی اور ڈھایہ کی نحوست سے محفوظ رہنے کا ایک خاص روحانی عمل
نحوست زحل، ساڑھ ستی اور ڈھایہ کیا ہے؟

 

یہ مضمون خالد روحانی جنتری سے لیا گیا ہے۔
نحوست زحل‘ ساڑھ ستی اور ڈھایہ ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں مختلف قارئین مختلف طریق سے سوال تحریر کرتے رہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی بلکہ کسی پیر فقیر یا عامل کو بھی یہ بات مکمل طور پر سمجھانا مشکل ہے کہ نحوست زحل‘ ساڑھ ستی اور ڈھایہ کیا ہوتے ہیں اور اِن کے بارے میں حتمی فیصلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اِن اُمور کو سمجھنے کے لیے علم نجوم کی سمجھ ہونا بہت ضروری ہے جو کہ ہمارے ہاں کم لوگوں کو ہے۔ زیادہ تر لوگ بس سنی سنائی پر چلتے ہیں یا کسی سے ایک لفظ سن لیا تو اس کو ہر ایک پر لاگو کر دیا۔ بہرحال ذیل کی سطور میں مختصر طور پر بیان کرتا ہوں تاکہ کسی نہ کسی حد تک ’’راہنمائے عملیات‘‘ کے قارئین اِن اُمور سے واقف ہوں۔

نحوست زحل، سعادت زحل

 

زحل کو ہمارے ہاں بلا سمجھے ہی نحس خیال کر لیا گیا ہے اور اس کو ہمیشہ ہی بد سے بدتر اثرات دینے والا خیال کیا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ جن لوگوں کے زائچوں میں یہ شرف یا اوج کی حالت میں ہوتا ہے یا سعد گھر میں یا سعد ناظر ہو یا کوئی اور سعادت لیے ہوئے ہو۔ ان کو زندگی میں لاتعداد فوائد بھی دیتا ہے۔ ان حالتوں میں نحوست زحل کا تصور بلا کسی علمی یا تکنیکی بنیاد کے غلط ہے۔
اس کے برعکس جب ہبوط‘ حضیض وغیرہ یا دشمن کے گھر یا نحس نظر یا نحس گھر کے تحت ہو تو اپنی طاقت کے حساب سے نحوست کا اظہار کر تا ہے۔ لیکن اس نحوست یا کمزوری کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا۔ دراصل یہ ہر کوکب کی فطرت ہے کہ سعد حالت میں سعادت، نحس حالت میں نحوست دیتا ہے۔ زحل بھی اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کرتا۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بلحاظ قوت و موثریت دیگر پر حاوی ہے اور اپنے اچھے یا بُرے احکام کا اعلان شدت کے ساتھ کرتا ہے۔ خوشی میں تو ٹھیک ہے، تاہم مسائل جب لاتا ہے تو ہر فرد پریشان بھی زیادہ ہوتاہے، اس لیے اس سے خوف دلایا جاتا ہے۔
وہ قارئین جو اپنے زائچہ کے حوالے سے زحل کے اثرات کا جامع جائزہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہوں وہ ’’زائچہ جات ‘‘ کے عنوان سے دئیے ویب سائٹ کے پیج کو توجہ سے پڑھ لیں اور اپنی رپورٹ حاصل کر لیں۔

ساڑھ ستی

ساڑھ ستی زحل کی وہ حالت ہے جب یہ زائچہ کے بارہویں‘ پہلے اور دوسرے گھروں میں مسلسل حرکت پذیر رہتا ہے۔ یہ کم و بیش ساڑھے سات سال کا عرصہ بنتا ہے اور اکثرلوگوں پر اس عرصہ میں اس کی نحوست کے باعث کافی منفی اور پریشان کن اثرات واقع ہوتے ہیں۔ عقل کا کام نہ کرنا‘ کاروبار میں نقصان‘ تعلیمی ناکامی‘ غلط فیصلے‘ خرابی صحت‘ مقدمات اور لڑائی جھگڑا اور ایسے لاتعداد مسائل سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس وجہ سے زحل کا یہ عرصہ انتہائی ناقص تصور کیا جاتا ہے اور اس سارے عرصے اور مسائل کو بیک وقت بیان کر نے کے لیے تکنیکی اصطلاح’’ساڑھ ستی‘‘ استعمال کی جاتی ہے۔

 

ڈھایہ

مندرجہ بالا ساڑھے سات سال کی بجائے زحل جب ڈھائی سال کے لیے کسی کو متاثر کرتا ہے تو اس عرصہ کو ڈھایہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ زحل ایک برج میں ڈھائی سال رہتا ہے۔جب یہ اپنی نشتی حالت کے باعث کسی گھر میں نحس اثر دیتا ہے تو یہ نحس اثر فرد پر ڈھائی سال تک رہتا ہے اور اس حوالے سے ڈھایہ کہلاتا ہے۔ (نوٹ کر لیںڈھایہ اور ساڑھ ستی الگ الگ ہیں)۔

نحوست زحل کا عملیاتی حل

ذیل کی سطور میں ایک عمل تحریر کر رہا ہوں ’’راہنمائے عملیات ، فرذوق،خالد روحانی جنتری اورخالدہندی جنتری ‘‘ کے تمام خریداروں کو اپنی ذات کے لیے اس کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ عمل قدرے پیچیدہ ہے لیکن ہے موثر ‘سو دفع نحوست کے لیے تھوڑی سے محنت توجہ کے ساتھ کر لیں۔
خیال رہے کہ بہت سے خواتین و حضرات پورا عمل توجہ سے پڑھے بغیر ہی فون ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں کیونکہ فون کال اتنی سستی ہو گئی ہے کہ روٹی اس کے سامنے مہنگی نظر آتی ہے۔ ایسے تمام خواتین و حضرات فون کی بجائے جوابی خط کے ذریعے رابطہ کریں۔ لیکن مضمون پہلے دو تین دفعہ توجہ سے پڑھ لیں۔ شکریہ ۔
عمل یوں ہے۔نام سائل‘ نام والدہ سائل ایک سطر میں تحریر کریں۔ دوسری سطر میں یہ اسماء تحریر کریں۔
سلام۔ صمد۔ واسع۔ حمید۔ وکیل۔ سمیع۔ جامع
اور تیسری سطر میں حروف نورانی جو کہ درج ذیل ہیں تحریر کریں۔
’’ ا‘ح‘ ہ‘ ط‘ ی‘ ک‘ ل‘م‘ن‘س‘ ع‘ ص‘ ق‘ ر ‘‘
بسط حرفی کرنے کے بعد ان سب اُمور کو ایک سطر میں تحریر کر لیں‘ یہ آپ کی بنیادی سطر ہے۔ اس کی تکسیر تیار کریں۔ اگر طاق سطور کی تکسیر ہو تو اول سطر‘ درمیانی سطر اور آخری سطر کو الگ سے لکھ لیں۔ (خیال رہے یہ تین الگ الگ سطور ہوں گی)۔
اگر جفت سطور کی تکسیر ہو تو اول سطر‘درمیان سے دو سطوراور آخری سطر کو الگ سے تحریر کر لیں۔ یہ کل چار سطور ہوں گی۔
ان تمام سطور کی جو عددی قیمت ہو اس کو مفرد کر لیں۔
جو مفرد عدد ہو اس کو بنیادی سطر جو کہ عمل کی ابتداء میں بنائی تھی کے ہر حرف کے نیچے لکھتے جائیں۔
جب یہ عمل مکمل ہو جائے تو بنیادی سطر کے ہر حرف کو نیچے تحریر کردہ عدد کے مطابق تبدیل کر دیں۔ مثلاً اگر پہلا حرف ’’ب‘‘ ہے اور اس کے نیچے2مفرد عدد تحریر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے’’ب‘‘ سے دوسرا حرف اب ’’ب‘‘ کی جگہ آئے گا۔ یعنی’’د‘‘۔ یہ تبدیلی دائرہ قمری کے مطابق ہو گی۔
تبدیلی حروف کے بعد جو نئی سطر وجود میں آئی ہے۔ اس میں جن حروف کی تکرار ہو رہی ہے ان کو ختم کر دیں اور یہ خاتمے کا عمل سطر کے آخر سے شروع کریں۔اب جو سطر باقی بچی ہے اس کے کل اعداد حاصل کر لیں۔ اِن اعداد سے چار نقوش تیار کریں۔وہ جو عملیات کی سمجھ نہیں رکھتے وہ اس موضوع پر لاثانی مواد لیے ہماری کتاب ’’اُصول و قواعد عملیات‘‘ ضرور پڑھیں۔
اگر ممکن ہو تو چاندی کے پترے پر ورنہ کاغذ پر تحریر کر لیں۔ نقوش میں چاروں چالیں استعمال ہوں گی۔ بادی‘ خاکی‘ آبی اور آتشی۔ ان چاروں چالوں کی مناسبت سے یہ نقوش یا الواح استعمال ہوں گی۔ بادی کسی درخت کے ساتھ لٹکا دیں‘ خاکی زمین میں دفن کر دیں‘ آبی پانی میں بہا دیں اور آتشی کسی اونچی جگہ ننگے آسمان کے نیچے کسی وزن کے نیچے رکھ دیں۔ جگہ ایسی ہو جہاں دھوپ لازم آتی ہو۔
مضمون کے آخر میں دی گئی چالوں میں سے بادی چال کے حساب سے ایک لوح چاندی پر کندہ کریں اور یہ سائل اپنے پاس رکھے۔
عمل میں جو اسمائے الہی استعمال ہوئے ہیں ان کو نقش کے اعداد کی تعداد میں روزانہ پڑھنا ہے۔ اگر طوالت عمل کے باعث یہ ممکن نہ ہو تو اعداد کی عددی قیمت کو باہم جمع کر کے مفرد عدد حاصل کر لیں اور اتنے سو دفعہ اِن اسماء کو پڑھ لیں۔
صدقہ
ہفتہ کے دن مغرب کے بعد لیکن عشاء سے پہلے کالا کپڑا‘ کالے چنے‘ سرسوں کا تیل‘ کالے ماش‘ زندہ کالی مرغی‘ زندہ جنگلی کبوتری میں سی کسی ایک یا زیادہ اشیاء کا صدقہ اپنی گنجائش کے مطابق دیں۔ کم از کم سات ہفتے یا مسائل کے حل ہونے تک یہی صدقات دیں،زیادہ نحس اثرات محسوس کرتے ہوں تو جمعرات کے دن بھی شام کے وقت صدقہ دے سکتے ہیں۔

جواہر

زحلی اثرات کے خاتمے کے لیے نیلم‘ لاجورد‘ عقیق اور پکھراج استعمال کر سکتے ہیں۔ ہیرا بھی زحل کے تحت استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ تاہم اس سارے عمل کے حوالے سے میں اِسے استعمال نہ کرنے کا مشورہ دوں گا۔ اس کے لیے ذاتی حساب لازم کروا لیں ورنہ نقصان زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔
پتھراصلی اور معیاری ہونا چاہیے۔ تاہم اگر معیار زیادہ اچھا نہ ہو تب بھی پتھر داغی ‘ ناقص یا ٹوٹا ہوا نہیں ہونا چاہیے۔ پلاسٹک یا چائنہ یا ہانگ کانگ کے جعلی‘ پلاسٹک یا مصالحے کے پتھرلینے سے بہتر ہے کوئی پتھر استعمال ہی نہ کریں۔ اس قسم کے جعلی جواہر آپ کی کیمسٹری میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکتے۔نقوش کی تیاری کی چاروں چالیں یہ ہیں۔

ہیں۔
آتشی چال بادی چال
۱ ۱۴ ۱۱ ۸ ۱۴ ۱ ۸ ۱۱
۱۲ ۷ ۲ ۱۳ ۷ ۱۲ ۱۳ ۲
۶ ۹ ۱۶ ۳ ۹ ۶ ۳ ۱۶
۱۵ ۴ ۵ ۱۰ ۴ ۱۵ ۱۰ ۵
آبی چال خاکی چال
۱۱ ۸ ۱ ۱۴ ۸ ۱۱ ۱۴ ۱
۲ ۱۳ ۱۲ ۷ ۱۳ ۲ ۷ ۱۲
۱۶ ۳ ۶ ۹ ۳ ۱۶ ۹ ۶
۵ ۱۰ ۱۵ ۴ ۱۰ ۵ ۴ ۱۵

نقش بنانے کا طریقہ

کل اعداد میں سے 30تفریق کریں اور باقی کو چار سے تقسیم کر دیں۔ تقسیم کرنے سے باقی قسمت ایک بچے تو خانہ13میں ایک کا اضافہ‘ 2بچے توخانہ9میں ایک کا اضافہ اور اگر3بچے تو خانہ 5میں ایک کا اضافہ کریں۔
یہ مضمون خالد روحانی جنتری سے لیا گیا ہے۔
٭٭٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے