عمومی مضامین˛Mixed essay

زبان – زبان کا رنگ روپ اورصحت

Posted On مارچ 5, 2020 at 3:10 شام by / No Comments

زبان – زبان کا رنگ روپ اورصحت

فلسفی سینٹ جسٹن (۱۰۰ء-۱۶۵ء) کا قول ہے کہ ’’ زبان کے معاینے سے طبیب جسمانی امراض کا اور فلسفی ذہنی امراض کا سراغ لگا سکتے ہیں‘‘۔
بے شک زبان جسم کے دیگر حصوں میں واقع ہونے والی خرابیوں کی نشان دہی کر سکتی ہے۔ اسی بناء پر اسے ’’امراض کا آئینہ‘‘کہا جاتا ہے۔ خون کی کمی کے مرض میں زبان سخت اور سرخ‘ یرقان میں زرد اور پیلا گرا میں تیز سرخ ہو جاتی ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک معالجین امراض کی تشخیص میں زبان کی مختلف کیفیات پر بہت انحصار کرتے تھے۔
زبان پر سفید سی تہ کا جم جانا بعض اوقات کسی خطرناک عارضے(مثلا سرطان) کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے لہذا اپنے معالج سے زبان کا معاینہ کراتے رہتا چاہیے۔
مگر آپ اپنی زبان کا معاینہ خود کیوںنہ کریں؟ یہ ایک دلچسپ اور مفید تجربہ ہو گا۔ اس کے لیے آپ کو تھوڑا سا اہتمام کرنا ہو گا۔ اب آپ ایک ایسے حیرت انگیز عضو کو دیکھ رہے ہیں جو لذت و بیان کا منبع ہے اور درمیان سے آدھا کٹ جانے پر بھی اپنے افعال کو کسی نہ کسی حد تک جاری رکھ سکتا ہے۔
زبان دراصل خون سے بھرپور عضلات پر مبنی ہوتی ہے جس میں چار دماغی پٹھے ذائقے اور احساس کے عمل کو ممکن بناتے ہیں۔ بڑی عمر کے فرد کی زبان کا اوسط وزن دو اونس اور لمبائی چار انچ تک ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنی زبان کی جڑ کی طرف نظر ڈالیں تو آپ کو وہاں گلابی ابھار سے دکھائی دیں گے جو پیالی کی طرح کے ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے نسبتاً کم نمایاں اُبھار ہوتے ہیں جو منھ کے تعدیوں میں متورم ہو جاتے ہیں۔ یہ آپ کو ذرا مشکل سے دکھائی دیں گے۔ یہ اُبھار گفتار میں کام آنے والے لوزتین(Lingual Tonsils)کی تشکیل کرتے ہیں اور لمفی بافتوں (Lymphoid Tissues) کے اس دائرے کو مکمل کرتے ہیں جسے والڈئیر کا چھلا (Waldeyer’s) کہا جاتا ہے‘ جو منہ کو تعدیوں سے محفوظ رکھنے والے ضد اجسام (Antibodies) بناتا ہے۔ یہ لوزتین متاثرہ ہونے کی صورت میں حلق کے مستقل ورم یا کان میں درد کا ایک سبب ہو سکتے ہیں اور کبھی کبھی یہ سرطان کا مرکز بھی بن جاتے ہیں۔ لہذا گلے کی مستقل سوزش کی صورت میں فوراً اپنے معالج سے اس مقام کا معاینہ کرائیں۔
زبان پر تہ سی جمی ہونے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ہاضمہ خراب ہے۔ یہ صرف زبان کے ابھاروں پر ذائقے کے جمع شدہ باریک ذرات پر بیکٹیریا کے آ جانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
زبان پر ذائقے کی کلیاں (Buds)جو گلاب کی کلیوں کی مانند ہوتی ہیں‘ عین اوپر ہونے کے علاوہ مختلف اطراف میں پھیلے ہوتی ہیں۔ یہ حصے لعاب میں شامل ہونے کے بعد ہی غذا کے ذائقے کا اندازہ کر سکتے ہیں اسی لیے خشک غذا بے مزہ لگتی ہے۔ زبان عام طور پر ذائقے کے چار بنیادی احساسات شیریں‘ ترش‘ تلخ اور نمکین کو ممیز کرتی ہے‘ مگر ان چار ذائقوں کے بے شمار امتزاجات ہو سکتے ہیں۔ آپ نے یہ بات محسوس کی ہو گی کہ ذائقے اور خوش بو کے احساسات باہم منسلک ہوتے ہیں وہ مریض جن کی ناک نزلے کی وجہ سے بند ہو جاتی ہے ذائقے میں کمی کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔
اب آپ اپنی زبان کو باہر کی طرف آگے بڑھائیں۔ عام حالت میںاسے بالکل سیدھا رہنا چاہیے۔ جب تک آپ خود نہ چاہیں اسے اندر کی طرف یا دائیں بائیں نہیں مڑنا چاہیے۔ مزید یہ کہ زبان کو کسی بے ترتیبی کے بغیر افقی طور پر دو برابر حصوںمیں تقسیم ہونا چاہیں۔ ان حالتوں میں کوئی غیر فطری تبدیلی کسی دماغی یا اعصابی عارضے کی نشان دہی کر سکتی ہے۔
زبان کا نچلا حصہ دیکھنے کے لیے اسے منہ کی اندرونی چھت پرپیچھے کی طرف موڑیں۔ آپ دیکھیں گے کہ زبان کا نچلا حصہ نرم سرخ ہے اور دونوں نصف حصوں پر گہرے نیلے رنگ کی ابھری ہوئی شریانیں ہیں۔ زبان کو منہ کے اندرونی فرش سے جوڑنے والے تار(Frenum) کی جڑ میں جبڑے کے غدودوں سے آنے والی دو نالیاں (Ducts) ہوتی ہیں۔ بعض افراد میں یہ تار اتنا کم ہوتا ہے کہ زبان کو پوری طرح حرکت دینے میں دشواری ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جراحی سے مدد لی جاتی ہے۔
اب ذرا اپنی زبان کے نیچے کی سطح کو انگلی کی مدد سے دبا کر اندازہ لگائیں کہ کہیں کوئی گلٹی تو موجود نہیں؟
زبان کی عام شکایات میں اس کے بعض حصوں پر سوجن یا ورم آجاتا ہے۔ بعض اوقات اس کا سبب تمباکو نوشی اور تیز مسالے دار کھانوں کی پیدا کردہ سوزش (Irritation) ہوتی ہے۔ منہ اور زبان کے ورم یا زخم پانچ سے دس روز میں خود بہ خود ٹھیک ہو جایا کرتے ہیں۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے آپ مائوتھ واش کے محلول استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کا سب سے آسان اور موثر طریقہ یہ ہے کہ ایک کپ پانی میں چائے کے چمچے کا تین چوتھائی حصہ نمک حل کر لیں۔ اتنی مقدار میں نمک کا اگرچہ آپ کو بہت ہی معمولی ذائقہ محسوس ہو گا‘ مگر یہ اس مقصد کے لیے کافی ہے۔ دوسرا طریقہ مکھن نکلی چھاچھ سے کلی کرنا ہے۔ اس میں ایسے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو انفیکشن کا باعث بننے والے وائرسوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔
اگر آپ کے منہ میں کوئی ایسا زخم ہے جو ایک ہفتے میں ٹھیک نہیں ہوا تو معالج سے ضرور رجوع کریں۔ یہ بعد میں کسی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے