عمومی مضامین˛Mixed essay

رنگ کا انسانی مزاج اور طبیعت پر اثر

Posted On مارچ 5, 2020 at 1:37 شام by / No Comments

رنگ کا انسانی مزاج اور طبیعت پر اثر

قدرت نے اپنی بنائی ہوئی دنیا میں بے شمار حسین رنگوں سے اس کی زیبائش کی ہے۔ ہر رنگ اپنی جگہ خوبصورت ترین ہے اس کی اپنی دلاویزی اور سحر انگیزی ہے۔ رنگ اپنی علیحدہ شناخت اور زبان رکھتے ہیں یہ انسان کی زندگی اور شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ بولتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ رنگ اپنے اندر ایک جادو اور کشش رکھتے ہیں۔ ذرا سوچئیے اگر رنگ نہ ہوتے تو دنیا کتنی بے رنگ اور بے کیف و بے رونق ہوتی۔
قوس قزح کے حسین رنگ کیسے جھلملاتے ہیں۔ پھولوں کے دلکش رنگ کیا کیا پیام دیتے ہیں‘ آسمان اور سمندر جھیل دریا کے رنگ‘ پہاڑوں کے رنگ‘ وادیوں‘ درختوں‘پودوںکے رنگ اپنے اندر کتنا حُسن سموئے ہوئے ہیں۔ ان ہی رنگوں سے مصور کھیلتے ہیں اور خوبصورت شہکار جنم لیتے ہیں۔
گلوں میں رنگ بھرے بادنو بہار چلے
پسندیدہ رنگ ہمارے مزاج عادت اور شخصیت کے عکاس ہوتے ہیں۔ تقریباً ہر شخص کے کچھ مخصوص پسندیدہ رنگ ضرور ہوتے ہیں جو اس کے لباس پہناوے ‘ پیراہن‘ مکان ‘ اشیا آرائش وغیرہ میں لازماً جھلکتے ہیں بعض مخصوص رنگ مخصوص علامات ہوا کرتے ہیں جیسے دلہن کا شادی کا جوڑا لال رنگ کا ہوتا ہے گویا یہ خوشی کی علامت ہے ویسے لال رنگ خطرے کی علامت بھی ہوتاہے۔ سیاہ رنگ سوگ یا غم کا اظہار کرتا ہے مگر دوسری جانب غلاف خانہ کعبہ سیاہ رنگ کا ہے۔ دوسری طرف سیاہ رنگ فیشن میں کریز کا درجہ رکھتا ہے ہر نوجوان لڑکا اور لڑکی سیاہ لباس‘ جوتے‘ پرس‘ جیولری کو بہت پسند کرتے ہیں۔ سیاہ فرنیچر‘ کار اور دیگر اشیاء میں کالے رنگ کو ترجیح دی جاتی ہے گویا کالا رنگ ’’کالا جادو‘‘ ہوتا ہے بلیک میجک! جو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے‘ لیکن یہ کالے رنگ پہ مرنے والے لوگ کالا جیون ساتھی پسند نہیں کرتے انہیں ہمیشہ گوری چٹی لڑکی چاہیے ہوتی ہے۔ چاند جیسی اور لڑکیوں کو بھی منڈا سونے رنگ والاپسند ہے۔ کالا شاہ نہیں!ویسے سنا ہے کہ لیلی بہت کالی تھی پھر بھی مجنوں اس کے عشق میں پاگا تھا۔ خیر یہ پچھلے دور کی باتیں ہیں اور اب آوٹ آف فیشن ہیں سفید رنگ پاکیزگی‘ صفائی نفاست اور وقار کی علامت ہے اسے بھی پسند کرنے والوں کا وسیع حلقہ ہے۔کرسچن دلہن کا عروسی لباس سفید ہوتا ہے مرد اور خواتین وائیٹ کلف لگے لباس بہت شوق سے زیب تن کرتے ہیں۔ حکیم سعید شہید ہمیشہ سفید لباس ہی استعمال کرتے تھے۔ سبز رنگ بھی بہت مقدس اور پاک ہوتا ہے سب سے پہلے تو گنبد خضریٰ مسجد نبوی ﷺ سبز رنگ کا ہے۔ پھر ہمارے پیارے وطن پاکستان کا پرچم سبز اور سفید رنگ کا ہے‘ سبزے ہریالی درختوں پودوں پیڑوں گھاس کا رنگ جو آنکھوں کو بھلا لگتا ہے سبز ہی ہے۔
رنگوں کے انسانی مزاج او طبیعت پر اثرات مرتبہ ہوتے ہیں اس سے باقاعدہ علاج معالجے کا کام لیا جاتا ہے جسے ’’کلر تھراپی‘‘ کہتے ہیں پاکستان میں بھی رنگ و روشنی سے روحانی علاج کیا جاتا ہے‘‘ جوشعاعوں کے رنگین تیل اور پانی وغیرہ سے ہوتا ہے اس کے باقاعدہ کلینک قائم ہیں جہاں ایسی ادویات اور اشیاء ملتی ہیں علاوہ ازیں بازار میں اس موضوع پر کتابیں بھی دستیاب ہیں۔
رنگوں سے ہماری شناخت پہچان ہوا کرتی ہے۔ اجنبی لوگ جب ٹیلی فون یا انٹرنیٹ کے ذریعے سے تعارف کے بعد کہیں کسی مقام پر ملاقات کا وقت طے کرتے ہیں تو نشانی کے طور پر اپنے لباس کا رنگ پہلے سے بتاتے ہیں کہ میں بلیک کلر کا ڈریس پہنوں گا اور تم؟ جاہل اور چھچھورے لوگ چیختے چلاتے بہت ڈارک کلرز کو پسند کرتے ہیں ان کے ذوق فطرت کا اندازہ ان کے پسندیدہ رنگوں سے ہو جاتا ہے جبکہ پڑھے لکھے سلجھے اور معقول لوگ نسبتاً مدہم ہلکے اور دلکش رنگوں کا انتخاب کرتے ہیں تاہم اب یہ ٹرینڈ چلا ہے کہ کچھ کلرز فیشن میں بہت ان ہوتے ہیں تو انہیں استعمال کرنا ہماری مجبوری بن جاتا ہے ۔بیشک وہ ہمیں ناپسند ہوں اور کچھ فیورٹ کلرز فیشن میں’’ آوٹ ہوتے ہیں تو مجبوراً وہ چھوڑنے پڑتے ہیں بہرحال! بلیک اور وائیٹ کلرز ہمیشہ جاری و ساری رہتے ہیں یہ کبھی آوٹ نہیں ہوتے۔ اب چوائس کے بجائے فیشن کے کلرز اپنائے جاتے ہیں ہمارا ڈریس ‘ جیولری شوز بیگ اور میک اپ فیشن کے مروجہ کلرز پر مبنی ہوتا ہے۔
بعض لوگ بہت رنگین مزاج ہوتے ہیں اس کی وجہ اُن کا رنگوں کا استعمال نہیںبلکہ اُن کے مشاغل اور حرکات ہوتی ہیں۔ یہ رنگینی کبھی سنگینی میں بھی بدل جاتی ہے۔ کبھی کبھی رنگ و بو کا سیلاب بھی اُمنڈ آتا ہے یہ عموماً لڑکیوں کے وسیع ہجوم پر مبنی ہوتا ہے۔ لڑکے غصے سے اور لڑکیاں شرم سے سرخ ہو تی ہیں۔ خوف سے رنگت پیلی ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ غم و غصے سے سیاہ ہو جاتے ہیں کچھ صدمے سے سفید!اون کے اندھے کو ہرا ہرا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ کو دال میں کالا نظر آتا ہے۔ اکھڑ دوشیزہ پیار بھری باتوں سے گلابی ہو جاتی ہے۔ اسی لیے اُسے گائوں میں گلابو اور شہر میں پنکی کہتے ہیں۔ بعض لوگوں کی زبان کالی ہوتی ہے کچھ کالے دل کے ہوتے ہیں کچھ کا خون سفید ہوتا ہے۔ لڑکیوں کے ہاتھ پیلے کر کے انہیں پرایا کر دیتے ہیں۔ دھوپ میں بال سفید ہو جاتے ہیںپر اچھے رشتے نہیں ملتے ۔ غرض رنگ ہماری زندگی میں ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں یہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ اس مضمون میں ہم کچھ رنگوں کے ذریعے علاج کرنے کے بارے میں بتائیں گے تاکہ آپ اس سے استفادہ کر سکیںاور اپنی صحت سے معتلق مسائل کو حل کر سکیں۔

سرخ رنگ

سرخ رنگ کا تعلق گرم جوشی ولولے اور بھرپور توانائی سے ہے یہ گرم رنگ ہے اسے ہمیشہ سردیوں میں استعمال کیجئے کہ سرخ رنگ شعلوں حرارت اور حدت کا رنگ ہے‘ سردی میں اگر آپ کے ہاتھ یخ بستہ ہو جائیں تو سرخ دستانے پہنیں یہ سرد ہاتھوں کو فوراً گرم کرتے ہیں۔ یہ رنگ افسردگی اداسی ‘ بے کیفی کو دور کرتا ہے۔ اداسی کے لمحات میں اسے استعمال کریں۔ ڈپریشن بے کیفی بے یقینی سے نجات ملے گی ۔ کیونکہ اس کی وجہ سے آپ خود کو توانا اور اپنے آپ کو متحرک محسوس کریں گے۔ اس رنگ کو اپنے بیڈ روم میں استعمال نہ کریں کیونکہ اس کی تیزی آپ کی نیند اور سکون کو متاثر کرے گی۔

سفید رنگ

ایسے لوگ جو بے چین‘ بے سکون‘ بے قراررہتے ہوںکسی قسم کی اخلاقی خرابی یا برائی میں ملوث ہوں وہ اسے ضرور استعمال کریں اس رنگ کی پاکیزگی کی بدولت آپ کے اخلا ق و کردار پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ علاوہ ازیں باوضو بھی رہیے۔ تب اس رنگ کامزید فائدہ ہو گا اور آپ اپنے آپ میں ایک تبدیلی پائیں گے۔

پیلا رنگ

یہ رنگ بھی سرخ رنگ کی طرح گرم ہے۔ اس کا تعلق احساسات و جذبات سے ہے۔ جس کے جوڑوں میں درد رہتا ہو یا کھانسی کی شکایت ہو وہ یہ رنگ خصوصی طور پر استعمال کرے ۔ان کی شکایت میں افاقہ ہو گا۔ یہ رنگ خون کے نظام کو متحرک کرتا ہے۔ آزمائش شرط ہے۔

نیلا رنگ

نیلا رنگ ٹھنڈک اور سکون سے وابستہ ہے اور یہ صحت کے لیے بہت بہترین ہے۔ اگر آپ کسی بھی قسم کے درد میں مبتلا ہیں تو متاثرہ حصے پر نیلا کپڑا لپیٹ لیں آپ دیکھئے گا کہ اس سے فائدہ ہو گا۔ اگر بے خوابی کی پرابلم ہو تو اپنے بستر پر نیلے رنگ کی بیڈ شیٹ بچھائیں اس سے پُرسکون نیند آئے گی۔ اگر کوئی ذہنی نفسیاتی اُلجھن ہو تو نیلا رنگ اسے ختم کر دیتا ہے۔ رات کو مکمل اندھیر میں نہ سوئیں بلکہ ہلکے نیلے رنگ کی روشنی میں سوئیں ‘ اس قسم کا نائب بلب جلائیں یہ آپ کو بہت سے ذہنی مسائل سے نجات دے گا۔

گلابی رنگ

خوبصورتی و دلکشی سے وابستہ گلابی رنگ ان خواتین کے لیے بہت مفید اور موزوں ہے جو عام معمول شکل و صورت کی ہیں ۔ وہ لڑکیاں جو خوبصورت بننا چاہتی ہیںاپنے بیڈ روم کی آرائش اپنے استعمال کی اشیاء اور اپنے ملبوسات ہلکے گلابی رنگ کے استعمال کریں۔ دیواروں کا رنگ بستر کی چادر ٹیبل لیمپ ‘ آرائشی اشیاء‘ لباس غرض زندگی اور ضرورت کی تمام چیزیں ہلکے گلابی شیڈ سے منسلک کر لیں۔ دن بدن آپ میں نکھار آئے گا۔ آپ کی شخصیت چمک اُٹھے گی اور ایک دلکشی اور روپ آپ کا احاطہ کرے گا۔ ہلکے گلابی رنگ کا تصور کریں اور آنکھیں بند کر کے یہ سوچیں کہ آپ پر گلاب رنگ برس رہا ہے‘ آپ گلابی لباس پہنے گلابوں میں گھری ہوئی ہیں۔ یہ ایک جادوئی اثر رنگ ہے جو احساس کمتری کے مرض اور اُداسی کو دور کرنے میں ماہر ہے۔

سبز رنگ

گرین رنگ کا تعلق بھی تندرستی صحت اور سلامتی سے ہے۔جب بھی تھکن بہت زیادہ ہو‘ تھکاوٹ یا بیزاری کا حملہ ہو ‘ پریشانی یا مایوسی ہو تو گرین رنگ سے مدد لیں۔ کسی سر سبز و شاداب باغ میں جا کر چہل قدمی کریں یا محض نظارہ کریں۔ طبیعت ہشاش بشاش ہو جائے گی۔ ہلکے ہرے رنگ کا لباس بھی ذہنی و جسمانی تھکن میں کمی لاتا ہے۔

زرد رنگ

پیلا اور زرد رنگ یکساں خصوصیات رکھتے ہیں اگر آپ اپنے کو بے بس محسوس کریں تو پیلا یا زرد کمبل اوڑھ لیں آپ کو تقویت ملے گی۔ جلدی امراض میں مبتلا مریض پیلا یا زرد تولیہ استعمال کریں وہ صحت یاب ہو جائیں گے۔

بنفشی رنگ

یہ رنگ آپ میں خود اعتمادی لاتا ہے ۔ مضبوط قوت فیصلہ پیدا کرتا ہے جن کو خود پر بھروسہ نہ ہو وہ یہ رنگ استعمال کر کے خود کو بدل سکتے ہیں ۔ آپ بہت جلد پُراعتماد ہو جائیں گے یہ رنگ حوصلہ اور قوت عطا کرتا ہے جن لوگوں میں خصوصی صلاحیتیں ہیں وہ باکثرت اس رنگ کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ رنگ روحانیات سے بھی منسوب ہے یہی رنگ انسان کی تیسری آنکھ سے بھی وابستہ ہے یہ رنگ ان افراد کے لیے ضروری ہے جو بے یقین ہوں اور خود پر بھروسہ نہ کرتے ہوں۔

سیاہ رنگ

اگر آپ محسوس کریں کہ لوگ آپ کو اہمیت نہیں دیتے ‘ توجہ نہیں دیتے‘آپ کا نوٹس نہیں لیتے یا آپ کی شخصیت میں کوئی کشش نہیں ہے تو پارٹی اور تقریبات میں سیاہ رنگ استعمال کریں اس کا استعمال آپ کو اہم بنا دے گا۔ آپ کے حسن کو اجاگر کرے گا‘ آپ کے وقار کو بڑھائے گا اور آپ کی ذات میں پوشیدہ خوبیاں نمایاں کرے گا۔ البتہ گرمیوں میں اس کا بہت زیادہ استعمال غصہ لاتا ہے‘ ہاضمہ کی خرابی پیدا کرتا ہے۔

گہرا بنفشی رنگ

یہ رنگ بھی آپ کی ذہنی قوت سے تعلق رکھتا ہے اور آپ کے دماغ پر زور دار اثر ڈالتا ہے۔ اگر آپ کسی خوف کا شکار ہوں‘ کسی نادیدہ دشمن کا ڈر ہو ‘ شکوک و شبہات ہوں تو یہ رنگ آپ کی مدد کرے گا۔

فیروزی رنگ

یہ بہت سی بیماریوں میں مفید ثابت ہوا ہے اس کی تاثیر ٹھنڈی ہے ‘ سر درد کے مریض ہلکے فیروزی رنگ سے سکون حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جو بہت جلد اشتعال اور غصے میں آ جاتے ہیں فیروزی رنگ اپنائیں۔

بھورا رنگ

اپنے آپ کو باوقار اور کامیاب بنانے کے لیے استعمال کریں‘ برائون کلر کے تمام شیڈز کامیابی عطا کرتے ہیں۔ صرف ہمت اور مستقل مزاجی ضروری ہے جلد باز بے صبرے اور لالچی لوگ اسے اپنا کر اپنی منفی عادات سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں۔

آتشی رنگ

کندذہن اور کمزور یاداشت کے لوگوں کے لیے بہت اچھا ہے‘ آتشی رنگ کی بدولت آپ یادداشت کی خرابی اور کمزوری پر قابو پا سکتے ہیں اسے مکمل طور پر اپنا لیں۔
توقارئین کرام! یہ تھے کچھ رنگ اور ان کے ہماری صحت‘ زندگی اور شخصیت پر اثرات ۔ ہر شخص رنگوں کا شیدائی ہوتا ہے اور ان کے بغیر کوئی تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ کچھ رنگ ہمارے معاشرے میں بطور شگن بھی اپنائے گئے ہیں۔ یہ مائیوں کی دلہن کا پیلا جوڑا‘ برات کے موقع پر دلہن کا سرخ لباس! اسی طرح سہاگنوں کے لیے اور شادی جہیز کے جوڑوں میں سفید اور کالے رنگ کو ناپسند کیا جاتا ہے۔ سفید ڈوپٹے اور جوڑے سے بیوگی کو منسوب کرنا۔ بسنت کا پیلا رنگ سرسوں کا پھولنا‘ بہار کی آمد اور جشن ‘ خوشی وغیرہ۔ سوگ اور ماتم میں سیاہ رنگ کا استعمال وغیرہ!ہندو برادری ایک ہولی نامی تہوار مناتی ہے جو رنگوں پر مشتمل ہے۔ بہت سے افراد کلر بلائینڈ ہوتے ہیں ۔ کچھ لو گ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں۔

 

 انسانی مزاج اور طبیعت پررنگوں کا اثر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے