عمومی مضامین˛Mixed essay

رشی پیر

Posted On مارچ 5, 2020 at 7:02 صبح by / No Comments

رشی پیر

 

از؛ خالد اسحاق راٹھور

عہد جوانی میں جی بھر کے پاپ کمائے اور بڑھاپے میں آکر رشی کہلائے
یہ تسبیح تمہارے ہاتھ میں ناگن ہے اور نماز تمہاری بھلا کس کھاتے جائے
جنت بے نظیرکشمیر کی تاریخ دیو مالائی طرز پر بیان کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں ستی سرنام ایک بہت بڑی جھیل ہوتی تھی جس پر جل دیو راکھشس قابض تھا۔ کشیپ رشی کی برسوں کی ریاضت کے بعد بارہ مولے کے قریب شوجی نے سوراخ کیا جس سے پانی بہہ گیا اور جھیل خشک ہو گئی۔ جس کو بعدمیں آباد کیا گیا۔ کشمیر کا موسم اور چہار سو پھیلا ہوا سبزا اور خوبصورت روحانی ماحول نامعلوم وقت سے تلاش روح کے متلاشی لوگوں کے لیے اپنے اندر خاص کشش رکھتا ہے۔ وہ جو روحانی مدارج طے کرنے کے خواہش مند تھے، تعلق ان کا کسی بھی سوچ سے ہو کشمیر ان کے لیے ایک بہترین مقام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کی تاریخ رشیوں، سنتوں، سنیاسیوں، صاحب عرفان لوگوں اور اولیاء اللہ کے ذکر سے بھری پڑی ہے۔
ایک ایسے علاقے میںجوفطرت سے قربت کا حامل تھا ایک مادرزاد ولی بچہ آٹھویں صدی ہجری میں زندگی کا پیغام لیے فانی دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بعد از پیدائش اس بچے نے ماں کا دودھ پینے پرآمادگی نہ دیکھائی اور انکار کیا۔ اس موقع پر ایک اور بزرگ ہستی نے کچھ یوں اس کے کان میں کہا؛
تمہیں پیدا ہونے سے شرم نہیں تو پینے سے کیوں شرماتا ہے
عمر سے کیا فرق پڑتا ہے۔ روح کا پیغام عمر موقعہ اور زمانہ کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ یہ پہلا روحانی حکم اس بچہ کی عظمت کی طرف ایک واضح اشارہ تھا اور اس بات کا مظہر بھی جو کچھ اس بچہ سے مستقبل میں ظہور ہونے والا تھا۔
یہاں ایک بات تحریر کرتا چلوں کہ میں نے عمر کا ایک بڑا حصہ سڑک پر بیٹھے پامسٹوں اور منجموں سے لے کر بڑے بڑے خاندانی پیروں، عاملوں، حکیموں، قبرستانوں میں بیٹھے پیروں سے لے کر مادرزاد ولیوں اور مجذوبوں کے ساتھ بسر کیا ہے۔ جو فیض، جو طاقت، جو اعلیٰ روحانی اورجدانی طاقت مادر زاد ولیوں اور مجذوبوں کے پاس ہے اس کا عشر عشیر بھی آپ کو کہیں اور نہیں ملے گا۔ یہ بات ایسے ہی نہیں لکھ رہا یہ میرا ذاتی تجربہ ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ مجذوبی سلسہ سے جو روحانی وراثت مجھے ملی اس کا مشاہدہ اور تاثیر ایام جوانی سے لے کر آج تک اپنی آب و تا ب میں بڑھتی ہی گئی ہے۔ اس موضوع پر بشرط زندگی پھر بیان کروں گا۔ اس با ت کے تحریر کرنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ فطرت انسان کو ان صلاحیتوں کے ساتھ دنیا میں لیتی ہے جو مظہر اس کو اس ظاہری دنیا میں ہونا ہوتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ بچہ اوئل عمری سے ہی حد درجہ ذہین تھا۔ بہرحال رواج کے مطابق پانچ سال کی عمر میں اس بچہ کو روایتی دنیاوی تعلیم کی طرف باقاعدہ طور پر لے جایا گیا۔ لیکن اس بچہ کی دلچسپی اس تعلیم سے نہ تھی بلکہ روح کی پیاس بجھانے اور اس سر چشمہ کی تلاش میں تھی جو اس کے اندر لگی آگ کو ایک سمت دے سکے۔ اس بچہ کا ذہن دنیاوی معاملات اور تعلیم کی طرف تو تھا نہیں لیکن وقت تو گزرتاچلا جاتا ہے۔ اس خاموشی سے کہ کوئی احساس پیدا کیے بغیر بچپن جوانی اور جوانی بڑھاپے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہاں بھی یہی ہوا۔ بچہ مادی دنیا سے زیادہ روحانی دنیا میں مصروف رہتا تھا۔
ماں باپ نے جب یہ دیکھا کہ کوئی حیلہ بہانہ اس کی توجہ دنیا کی طرف نہیں لایا توایک عمومی سوچ جو کسی نہ کسی حد تک آج بھی ہمارے معاشرے میں ہے، اس طرف ان کا ذہن کیا۔ خیال کیا گیا کہ اگر اس کی شادی کر دی جائے تو پھر خود ہی دنیا کی طرف آ جائے گا۔ اب تو خیر اور وقت ہے تاہم پچھلے زمانوں میں ماںباپ کے حکم پر چوں چراں کی گنجائش کہاں ہوتی تھی۔ سو وہ بچہ جو ایک لڑکا بن چکا تھا اس کی شادی جاذب نظر و خوبصورت لڑکی تلاش کر کے کر دی گئی۔ یہ شادی لڑکے کے مزاج میں کوئی خاص تبدیلی نہ لا سکی۔ اس کا روح کی طرف سفر جاری رہا۔ اس راستہ پر جو راہنمائی اس کو مل سکی وہ اس نے حاصل کرنے کی اپنی سے سعی جاری رکھی۔
بیان کیا جاتا ہے کہ تعلیم کے لیے اس کو ماموں کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ لیکن یہ لڑکا اپنی ریاضت اور جنون میں لگا رہا اور آخر کار ایک دن غفلت کا ایک موقع پا کر حصول مقصد کے لیے بھاگ کھڑا ہوا۔ چالیس دن کی ریاضت اور گیان اس کی زندگی میں ایک تبدیلی کا باعث بنا۔ ایک فقیر اس لڑکے کی غیر موجودگی میں اس کے گھر آیا اور حقہ سے کش لگانے کے بعد اس کو کسی کے استعمال کے لیے ممنوع قرار دے دیا، تاوقتیکہ کہ وہ لڑکا اس حقہ کاکش نہ لگا لے۔ گھر واپسی پر جب ماں نے اس کو اس واقعہ سے آگاہ کیا تو اس نے اس حقہ سے کش لگائے۔ کش لگانے کا امر اس لڑکے کے اندر غیر معمولی تبدیلیاں لے کر آیا۔ اس کا سینہ روشن ہوگیا اس کا وجدان کھل گیا اس کی کیفیت اور طبیعت ہی بدل گئی۔ دھویں کے بادل نے سینے کے بادل ہٹا دیے۔
اب اس لڑکے نے دنیاوی زندگی چھوڑنے اور ریاضت کے لیے جانے کی اجازت طلب کی جو ماں نے نہ دی۔ ہاں گھر پر ریاضت کی اجازت اس کومل گئی۔ اس وقت سے لے کر اگلے ساڑھے چودہ سال کا وقت اس جوان نے بالا کسی خوراک کے بسر کیا۔ دودھ، شہد اور پھل اس کی کل خوراک رہے۔ ساڑھے چودہ سال کی طویل ریاضت نے اس جوان کے چہرے پر نور کی برسات کر دی۔ اس کے چہرے کی چمک دھمک دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی روحانی طاقتیں غیر معمولی اور زبان کی تاثیر ناقابل یقین حد تک ہو گئی۔ متعدد کرامتیں اس سے ظہور میں آئیں اور لوگوں کا ایک ہجوم اس کے گرد جمع ہونا شروع ہو گیا۔ عین یہ وہ وقت تھا جب ہندوئوں نے اس کو رشی اور مسلمانوں نے اس کو پیر کا نام دیا اور یوں رشی پیر کا نام وجود میں آیا اور یہی ہمارا عنوان ہے۔ اس کا اصل نام اب تاریخ میں چھپ چکا تھا اور ایک نیا نام ’’رشی پیر‘‘ اس کی پہچان بن گیا۔
رشی پیر کی کرامتیں ہر سو پھیل گئی۔ لوگوں کا ایک ہجوم ان کے گرد اکٹھا ہو گیا۔ بڑھتی روحانی طاقت کے کرشمے بادشاہ وقت تک بھی پہنچے۔ جلتی پر تیل یوں ہوا کہ رشی پیر کے ساتھ ایک اور لفظ ’’بادشاہ‘‘ کا اضافہ ہو گیا جو ظاہر ہے کسی بھی حکمران کے لیے قبول کرنا ممکن نہ تھا۔ تاہم حاکم وقت کی دنیاوی طاقت رشی پیر کی روحانی طاقت سے ہار گئی اور دین کے ساتھ دنیا کی حاکمیت بھی ان کے دسترس میں آگئی۔
اس عرصہ میںان کی والدہ انتقال کر گئی سو ایک دفعہ پھر طویل ریاضتوں کا سلسلہ شروع ہوا جو چودہ سال تک چلتا رہا۔ اس چودہ سالہ طویل ریاضت کے اختتام پر ساٹھ سال کی عمر میں رشی پیر نے اس فانی دنیا سے غیر فانی دنیا کا سفر اختیار کیا۔
رشی پیرکی پہلی طویل چلہ کشی، ریاضت یا تلاش نور جو بھی کہیں ساڑھے چودہ سال پر مشتمل تھی۔ سو اس ہی کے حوالے سے ان کو دی جانی والی نیاز کی مقدار ساڑھے چودہ پیسہ طے کی گئی۔ یہ نیاز کسی بھی جنس کی شکل میں ، مثل کھانے کی اشیاء یا دیگر بطور نیاز دی جاتی، بس اس کی مقدار اوپر دی گئی گنتی کے مطابق ہونی چاہیے۔ ہمارے یہاں بزرگوں سے جو سالانہ نیاز یا ختم کی روایت ہے اس میں سادہ چاول ، دال مونگ ثابت، انڈہ، مولیاں جو نمک والی بھی اور میٹھی بھی ہوتی ہیں شامل ہوتی ہیں۔
رشی پیر کی زندگی دوسرے بزرگوں کی طرح ابتداء سے ہی خاص واقعات اور کرامات سے بھری ہوتی ہے۔ ماں کے دودھ کے نہ پینے کا ذکر پہلے سے ہو چکا۔ ایک اور واقعہ پیدائش سے جڑا ہوا یہ ہے کہ ان کی پیدائش روحانی طاقت کے بے بہا اخراج کے ساتھ واقع ہوئی۔ بزرگ جن سے کشمیر مالامال تھاان میں سے ایک اہم ترین بزرگ جو سالوں سے حالت دھیان و مراقبہ میں تھانے رشی پیر کی پیدائش کے بعد اپنی کیفیت سے باہر آکر اپنے مبتدیوں میں اعلان کیا کہ کشمیر کے افق پر ایک دوسرا سورج طلوع ہو گیا ہے۔ اس کے بعد یہ بزرگ اپنی غار سے باہر آکر اس بچہ کے گھر گیا جس کے بارے اس کو آگاہی حاصل ہوئی تھی۔ گھر پہنچ کر اس نے بچے کے ماتھے کو چوما اور اس کے ہاتھ پر سونے کے دو سکے رکھے۔ ماتھا چومنا اور بچہ (رشی پیر) کے ہاتھ میں دو سکے رکھنا اپنے اندر ایک خاص مفہوم رکھتا ہے۔ یہ روحانی اور دنیاوی طاقت کے عطا کاپہلا اشارہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر رشی پیر نے جہاں روحانی مدارج میں غیر معمولی اور نمایاں مقام حاصل کیا وہاں دنیاوی طور پر بادشاہ کی پوزیشن بھی حاصل کی اور رشی پیر بادشاہ بھی کہلوائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے