Uncategorized

دیوار گریہ : :‌ : یہود کی جائے عبرت

Posted On مارچ 8, 2020 at 8:12 شام by / No Comments

دیوار گریہ

یہود کی جائے عبرت

دنیا کا وہ واحد مقام جہاں ’’ہنسنا منع ہے ‘‘ کا تختہ نصب ہے۔

اس کی عظمت نہ تو اس کی لمبائی چوڑائی کے سبب ہے‘ نہ غیر معمولی بلندی اور موٹائی کے سبب… اس دیوار کی عالمگیر شہرت اس لیے بھی نہیں کہ یہ بہت مستحکم اور مضبوط ہے یا اس کی تعمیر میں کسی خاص فن کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ دیوار گریہ کی شہرت اس کے نقش ونگار اور بیل بوٹوں کی وجہ سے بھی نہیں کیونکہ اس دیوار کے پتھروں اور تعمیری مسالہ کے اندر بھی کوئی ایسی انفرادیت نہیں‘ جن سے اس دیوارکو کوئی خصوصیت حاصل ہوتی ہو‘ اس کی عالمی شہرت کی وجہ اس کی مذہبی اور تاریخی حیثیت ہے ۔ اس دیوا رکے ساتھ ایک طویل تاریخ وابستہ ہے۔ جس میں عبرت کی ہزار داستانیں چھپی ہیں۔

دیوار گریہ کے نام

عربی زبان میں اس دیوارکا نام ’ المبکیٰ‘ ہے۔ فارسی میں اس کا ترجمہ دیوار گریہ ہے جس کے معنی ہیں آہ و زاری والی دیوار۔
دیوار گریہ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہودی یہاں پہنچ کر بنی اسرائیل پر ٹوٹنے والے مصائب و تکالیف پر آہ و بکا اور گریہ و زاری کرتے ہیں۔ اگر کسی کو رونا نہ آئے تو جھوٹ موٹ رسم پوری کرنے کے لئے کم از کم رونی شکل ضرور بنا لیتا ہے۔ اگرچہ بے ساختہ اور بلاوجہ رونا انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ ہنسی ہو یا گریہ ‘ یہ تو قلبی اور وارداتی کیفیت ہے جو یونہی سر زد نہیں ہوتی۔
جب یہودی دیوار گریہ کے قریب پہنچ کر مصنوعی طور پر رونی شکل بناتے ہیں ‘ تو ان کی اس مضحکہ خیز صورت سے دیکھنے والے کو بے ساختہ ہنسی آ جاتی ہے۔خصوصاً جب سامنے اشتہاری تختہ بھی آویزاں ہو ’ یہاں ہنسنا منع ہے۔
نیرنگیٔ گردش دوران دیکھئے کہ کل تک جو یہودی روتے تھے اور دس بیس سال سے نہیں ‘صدیوں سے روتے چلے آ رہے تھے ‘ وہ آج ہنس رہے ہیں اور ارض پاک کے امین مسلمان عرب اپنی قسمت کو رو رہے ہیں۔اور دنیا کا کوئی ’بڑا‘ ان مظلوم مہاجرین فلسطین کا پرسان حال نہیں۔
دیوار گریہ کوان ناموں کے علاوہ ’’ دیوار مغربی‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔کیونکہ یہ حرم کے مغربی حصہ کی دیوار ہے۔

دیوار گریہ کا شہر

دیوار گریہ کی تفصیلات اور اس کی عمارات کے حالات سے قبل اس کے شہر کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔جہاں یہ تاریخی دیوار واقع ہے۔
فلسطین کی ارض پاک انبیاء کی سر زمین ہے۔ اس کے چپہ چپہ پر انبیاء ‘ و مرسلین علیہم السلام کے نشانات موجودہیں۔ گزشتہ قوموںکے آثار یہاں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔ اس خطہ کے کھنڈر ‘ یہاں کی اجڑی ہوئی بستیاں‘ وادیاں‘ پہاڑ اور دریا غرض ہر شے اپنے دامن میں ایک مکمل تاریخ چھپائے ہوئے ہے ۔ یہ ارض مقدس فلسطین کا مشہور اور قدیم ترین شہر ’ بیت المقدس‘ ہے جس کے حرم کی مغربی دیوار کے بیرونی حصے کا نام دیوار گریہ ہے ۔ اس شہر کے لفظ ’ مقدس‘ کا تلفظ دو طرح سے ہے۔ مقدس (میم پر پیش قاف پر زبر اور دال پر تشدید) اور مقدس( میم پر زبر‘ قاف پر جزم اور دال پر زبر) دوسرا تلفظ زیادہ صحیح ہے۔ اختصار کے ساتھ اسے القدس بھی کہتے ہیں۔ انگریزی میں اسے یروشلم کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
القدس شہر میں ایک مقدس تاریخی عمارت صدیوں سے مختلف قوموں کا قبلہ چلی آ رہی ہے۔ یہ مسجد اقصیٰ اورحرم شریف کے ناموں سے مشہور ہے۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کاقبلہ تھا۔اسلام کے ابتدائی دور میں یہ مسلمانوں کا قبلہ بھی رہا۔ ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں اور مدینہ میں آنے کے بعد سولہ ماہ تک رسول اکرم اور صحابہ کرام مسجد اقصیٰ کی طر ف رخ کر کے ہی نماز ادا کرتے رہے۔ اسی لئے اسے قبلہ اول کہتے ہیں۔
مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت کیے ہوئے دوسرے سال کا چوتھا مہینہ تھاکہ مسلمانوں کو قبلہ کی تبدیلی کا حکم ملا۔ عین نماز کے دوران وحی نازل ہوئی اور مسلمانوں نے اسی وقت حضور اکرمؐ کی اتباع میں مسجد اقصیٰ سے بیت اللہ کی طرف رخ کر لیا۔

دیوار گریہ کا حرم

حضر ت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی بن کر آئے ۔یہ قوم اب یہودیوں کے نام سے مشہور ہے۔ وہ برسوں اپنے قوم کو ساتھ لئے صحرائے سینا میں پھرتے رہے۔ اس زمانہ میں انھوں نے اپنی قوم کے لئے ایک خیمہ ٔ عبادت بنایا جو ۴۵ فٹ لمبا ۵ فٹ چوڑا اور ۱۵ فٹ اونچا تھا۔ ا س خیمہ میں قیام عبادت‘ عود سوز اور تابوت سکینہ ‘ کی جگہ تھی۔ تابوت سکینہ دو فٹ چوڑا‘ ساڑھے چار فٹ لمبا تھا اور انچائی دو فٹ تھی۔ اس میں صحائف الواح (تختیاں) اور من و سلویٰ رکھے ہوئے تھے۔یہ یہود کی مقدس ترین یاد گار یں تھیں۔
حضرت طالوت ؑ کے وقت یہ خیمہ ایسے ہی رہا۔اس زمانے میں یہود اس کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے تھے۔گویا یہ خیمہ ان کا قبلہ تھا۔
۹۴۸ قبل مسیح ء میں حضرت دائود علیہ السلام نے خیمۂ عباد ت کو شہر بیت المقدس میں کوہ صیہون پر ایک جگہ پر مستقل طور پر نصب کر دیا۔ اس جگہ کا نام ’’ بیت ایل‘‘ پڑ گیا یعنی اللہ کاگھر۔ روایت ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود سے ہم کلامی فرمائی۔
۹۸۸قبل مسیح ( طوفان نوح کے ۱۰۴۸ سال بعد) میں حضرت دائود کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس خیمۂ عبادت کی جگہ’ ہیکل‘ کی مستقل عمارت بنوائی۔کہتے ہیں کہ یہ بیس سال میں مکمل ہوئی۔توریت کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان نے اس کام پر ستر ہزار بار بردار ‘ اسی ہزار سنگ تراش اور تین ہزار چھ سو نگران مقرر کئے تھے۔( ملاحظہ ہو کتاب ۲ تواریخ باب ۲) اس زمانے کی دنیا کے بہترین کاریگر‘ معمار ‘ نجار ‘ لوہار ‘ سنگ تراش اور نقاش اس کام پر لگا دیئے گئے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ ہیکل کا طول ۶۰ ہاتھ اور عرض ۲۰ ہاتھ تھا۔اس کے سامنے والے حصے کا عرض ۲۰ ہاتھ اور بلندی ۱۲۰ ہاتھ تھی ۔ (توریت مقدس ۲ تواریخ ۳:۲)
حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے شان و شوکت والے تھے‘ انھوں نے ویسا ہی شاندار ہیکل تعمیر کیا۔ دور دور سے عمدہ قسم کے پتھر منگوائے گئے۔بہترین عمارتی لکڑی لبنان سے منگوائی۔
توریت مقدس کی دو مستقل کتابوں میں تعمیر ہیکل کی تفصیلات موجود ہیں ( ملاحظہ ہو کتاب ۲ تواریخ باب اول سے باب ۸ نیز کتاب اسلاطین باب ششم از اول تا آخر)۔

حرم پر کیا گذری

حضر ت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے چار سو پندرہ برس بعد یعنی پانچ صدیاں قبل مسیح کا واقعہ ہے کہ بابل سے بادشاہ بخت نصر نے بیت المقدس پر حملہ کیا او رشہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ تبرکات لوٹ لئے ‘ کتب مقدسہ نذر آتش کر دیںاور ہیکل کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔بخت نصر کے اس حملے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یادگار او ر دائود علیہ السلام کی نشانی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی تیار کردہ تعمیر صفحۂ ہستی سے یکسر نابود ہو گئی۔
ستر سال بعد ذوالقرنین( سائرس اعظم ) ‘ شاہ ایران بابل پر فتح یاب ہوا۔ اس کی فتح مندی سے یہودیوں کو آزادی نصیب ہوئی اور ہیکل کی عمارت از سر نو تعمیر ہوئی۔ اس طرح یہود کے مردہ جسم میں پھر سے زندگی کی ایک حرارت آ گئی۔
لیکن اٹھانویں سال بعد (۱۶۸ ق م) میں ایک بار پھر اس گھر پر تباہی آئی۔انطاکیہ کے یونانی بادشاہ اینو ٹینس نے شہرپر قبضہ کر لیااور ہیکل کو بت کدے میں بدل ڈالا۔ اس مرتبہ کتاب مقدس کا واحد نسخہ بھی نذر آتش ہو گیا اور یہودی بالکل لاوارث بن کر رہ گئے۔ اب نہ دنیا ان کے پاس رہی اور نہ دین۔
آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے۔بیت المقدس کے چار میل کے فاصلے پر ناصریہ کے قصبے میںان کی پیدائش ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اس شہر اور اس کے ارد گرد کے علاقہ کو اپنی تبلیغ کا مرکز بنایا۔یوں ایک بار پھر یہاں رونق آ گئی اور رشد و ہدایت کے ترانے بلند ہو نے لگے‘ لیکن یہ خوش آئند بات بھی بہت جلد ختم ہو گئی۔
۷۰ء میں رومی سپہ سالار ٹائیٹس نے بت المقدس پر ایک شدید حملہ کرکے ہیکل کو بالکل مسمار کر دیا‘ لاکھوں یہودی تہ تیغ کر دیئے اور جو زندہ بچے انہیں جلاوطن کر دیا ۔شہر کی تباہی کا اندازہ ا س امر سے ہو سکتا ہے کہ اس نے شہر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہل پھر وا دیئے۔
تین صدی بعد کچھ عرصہ کے لئے حالات نے ایک بار پھر پلٹا کھایا یعنی ۳۱۲ء میں شہنشاہ روم ‘قسطنطین اعظم نے عیسائیت قبول کر لی۔ اس سے بنی اسرائیل کوکچھ تقویت حاصل ہوئی ‘ لیکن یہ دور بھی تا دیر قائم نہ رہا۔ تین سو سال بعد رومۃ الکبریٰ کی سطور پھر پارہ پارہ ہو گئی اور ارض مقدس پر شہنشاہ ایران کا قبضہ ہو گیا یہاں تک کہ ساتویں صدی عیسوی میں ظہور اسلام ہوا۔ حضرت عمر فاروق کے مبارک عہد میںجنگ کے بغیر بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا اور اس سر زمین پر اسلام کا نیر تاباں جلوہ فگن ہوا۔

حرم اسلامی دور میں

ہجرت کے پندرہویں سال یعنی ہیکل کی آخری تباہی کے ۵۶۹ سا ل بعد ( ۶۳۶ء میں) حضرت عمر فاروق اعظم ؓ کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہوا ۔ تاریخ اسلام میں اس فتح کو دنیا کی ایک بے مثال فتح قرار دیا گیا ہے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اسلامی افواج شہر کا محاصرہ کئے ہوئے تھیں اور شہر فتح نہیں ہو رہا تھا۔ محاصرہ طول پکڑ گیا یہاں تک کہ قلعہ کے محصورین نے سپہ سالارافواج اسلامی کو پیغام بھیجا۔’’ ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ ہمارا قلعہ فتح ہو کر رہے گا ‘ لیکن کس کے ہاتھوں ؟ اس میںتردد ہے۔ اگر ہم تمہارے بادشاہ کو دیکھ لیں اور اس میں ووہ نشانیاں پا لیں جو ہمارے مذہبی نوشتوں میں لکھی ہیں ‘ تو کسی جنگ کے بغیر شہر اس کے حوالے کر دیں گے۔‘‘
محصور اہل کتاب کی یہ پیش کش مدینہ منورہ بھیج دی گئی۔حضرت عمر صحابہ کرامؓ کے مشورے سے ارض مقدس کی طرف چل پڑے۔ اس فاتح اعظم کی ہمرکابی میں نہ کوئی فوج تھی نہ کوئی محافظ دستہ‘ صرف ایک غلام ساتھ تھا ۔ اور دونوں کی سواری کے لئے فقط ایک اونٹ تھا۔ باری باری آقا و غلام اس پر سوار ہوتے اور منزلیں طے کرتے۔
شہر قریب آیا تو باری غلام کی تھی۔ اس نے ہر چندچاہا کہ آپ سوار ہو جائیں مگر عدل فاروقی نے غلام کا حق چھیننا منظور نہ کیا ۔غلام سوار تھا اور آقا اونٹ کی مہار پکڑے پیدل چل رہے تھے۔جسم پر پھٹے پرانے وہی پیوند لگے کپڑے تھے… اللہ اکبر! اسلامی اخوت و مساوات اور سادگی کا یہ منظر کیسا روح پرور ہو گا؟
عظیم اسلامی خلافت کے سربراہ‘ فاتح اعظم امیر المومنین عمر فاروق ؓ پر اہل قلعہ کی نظر پڑی‘ تو انھوں نے بلا پس و پیش قلعہ کا پھاٹک کھول دیا۔شہر کی چابیاں اسقف اعظم سفر دینس نے اپنے ہاتھ سے خود پیش کیں۔
نماز کا وقت آیا تو حضرت عمر ؓنے نماز ادا کرنے کے لئے جگہ دریافت کی۔پادریوں نے ہیکل کی اجڑی ہوئی جگہ کا نشان بتایا۔یہاں اب کھنڈروں کے سواکچھ نہ تھا۔آپ نے وہاں نماز ادا کی ۔ اسی جگہ حرم کے ڈیڑھ ہزار فٹ لمبے اور ایک ہزار فٹ چوڑے احاطہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ اس کے اندر زیتون اور سرو کے درخت لگائے گئے ۔ ایک حصہ پر چھت ڈال دی گئی اور یہ جگہ نماز کے لئے مخصوص ہو گئی۔اسے مسجد سید نا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔

دیوار گریہ کا مقام

حرم کے وسط میں ایک چبوترہ پر ایک مخروطی گنبد ہے جسے قبۃ الصخرہ کہتے ہیں۔ اختصار کے طور پراسے ’الصخرہ‘ کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے ’ڈوم آف دی راک‘ کہا جاتا ہے۔
حرم کے چاروں طرف حجرے بنے ہوئے ہیں۔شمالی دیوار کے حجروں میں قدیم عربی یونیورسٹی تھی۔طلبہ یہیں رہتے تھے مگر اب یہ عظیم اسلامی درس گاہ بند ہے۔جنوبی حصے میں ایک مختصرسا عجائب خانہ ہے جس میںقدیم تاریخی نوادرات موجود ہیں۔مغربی دیوار کے ملحقہ ایک حجرہ میں شریف حسین شریف مکہ کی قبر ہے اور قریب ہی اسلامیان پاک و ہند کے بطل جلیل مولانا محمد علی جوہر مرحوم آرام فرما ہیں۔
اس مغربی دیوار کے بیرونی حصہ کا نام ’دیوار گریہ ‘ ہے۔ جس کا طول تقریباً ساٹھ فٹ ہے ۔دیوار کے نچلے حصے میں بادشاہ ہیروڈ کے زمانے کے بڑے بڑے پتھر نہایت خوبصورتی سے لگے ہوئے ہیں۔اوپر والے حصہ پر رومی طرز کے بڑے بڑے پتھر نصب ہیں۔دیوار پر جدید طرز میں بھی نقش نگاری کی گئی ہے اور نہایت دلآویز پھولدار بیل بوٹے بنائے گئے ہیں۔ لیکن دیوار گریہ کی عظمت نہ ان پتھروں سے ہے نہ حسین نقش و نگار سے بلکہ ا س کی اہمیت یہود کی تاریخ اور دینی نسبت سے ہے ۔

دیوار گریہ اور یہود

یہوی مرد و زن مذہبی تہواروں کے علاوہ ہر ’سبت‘ کو (یعنی ہفتہ کے دن ) دیوار گریہ کی زیارت کے لئے جاتے تھے۔ خاص طور پر اگست کی نو تاریخ کو سروں پر ’تابوت سکینہ‘ اٹھائے ہوئے ایک جلوس کی صورت میں یہاں آتے‘ خاص عبادات بجا لاتے ‘ رو رو کر دعائیں مانگتے اور رونا نہ آتا تو رونی صورت بنا لیتے۔
جس زمانے میں فلسطین برطانیہ کے زیر اقتدار تھا‘ اس وقت یہودیوں نے اس دیوار پر اپنا حق ملکیت قائم کرنے کی کوشش کی حالانکہ یہ دیوار حرم کی ہے اور حرم کی تعمیر حضرت عمر فاروق کے عہد میںخود مسلمانوں نے کی تھی۔ مزید برآں ساڑھے تیرہ سو سال سے مسجد سید نا عمر ؓ حرم اور اس کی تمام متعلقہ عمارات مسلمانوں کے قبضے میں چلی آ رہی ہیں۔
یہود نے ۱۹۲۹ء میں انجمن اقوام عالم میں دیوار گریہ پر اپنی ملکیت کا دعویٰ دائر کیا۔ انجمن نے یہ مسئلہ طے کرنے کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا ۔فریقین نے کمیشن کے سامنے اپنے اپنے دلائل و شواہد پیش کئے جس نے پوری چھان بین کے بعد یہ فیصلہ دیا ’’ قانونی اور تاریخی اعتبارسے دیوار گریہ حرم کا ایک حصہ ہے جس پر مسلمانوں کا جائز قبضہ ہے اور ان کے مالکانہ حقوق بالکل درست ہیں۔یہودیوں کو صرف اس قدر حق ہے کہ وہ اس کی زیار ت کو یہاں آجا سکتے ہیں اور خاص تقاریب کے موقع پر تابوت سکینہ لا سکتے ہیں۔‘‘
لیکن بعد کو برطانیہ کی دسیسہ کاری اور اقوام مغرب کی سازش سے فلسطین میں ایک انتہائی المناک صورت حال پیدا ہوگئی ۔۱۴/۱۵ جولائی ۱۹۴۸ء کی درمیانی شب میں فلسطین کے ایک علاقے میں ’ ریاست اسرائیل‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔شہر بیت المقدس کے کچھ حصہ پر بھی یہودکی اس نام نہاد حکومت کو قبضہ دلا یا گیا۔ غالباً دنیا کی تاریخ میں اس سے بڑی کوئی بین الاقوامی سازش کبھی نہیں ہوئی۔
ان تمام باتوں کے باوجودمسجد سید عمر ؓ حرم اور اس کی متعلقہ اور ملحقہ تمام عمارات الحمد اللہ بدستور مسلمانوں کی قبضے میں ہیں۔تمام تر کوششوں کے باوجود یہودی اس پر قابض نہیں ہو سکے۔ مسلمانوں نے اپنی دور میں یہود کی تمام تر شرارتوں کے باوجود انتہائی رواداری اختیار کی اور ۱۹۴۸ء کی جنگ کے دوران بھی انہیں دیوار گریہ کی زیارت کی اجازت دی۔ماہ اگست کے ان ایام میں یہودی زائرین کی خاطر عارضی طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیابلکہ اپنے حفاظتی پہرے کے ساتھ ساتھ دیوار گریہ تک ان کے آنے جانے کے انتظامات کئے اور عبادت ورسوم کی ادائیگی کے بعد یہود کو ان کے کیمپ تک پہنچایا۔

ایک المیہ

یہ کتنا بڑا لمیہ ہے کہ وہی یہودی جو دو ہزار سال اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب کا نشانہ بنے رہے‘ ہر قوم نے انہیں ٹھوکریں ماریں ‘ جس ملک میں پناہ لینے گئے وہاں سے ذلیل کر کے نکالے گئے‘ صدیوں دیوار گریہ کے سایہ میں آ کر روتے رہے اور مسلمانوں نے اپنی دوراقتدار میںہمیشہ ان سے رواداری کا ثبوت دیا لیکن جون ۱۹۶۷ ء میں اسی قوم نے‘ دنیا کی مسلم دشمن طاقتوں کی مدد لے کر عربوں پر قیامت ڈھا دی‘ بیت المقدس پر ناجائز قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کے سینوں میں ایک ناسور پیدا کر دیا۔
اس کے بعد حرم کو نذر آتش کرنے کی ناپاک سعی کی۔مارچ ۱۹۸۳ء میں ایک دن ا چانک چند سر پھرے دہشت گرد جنونی یہودیوں نے حرم پر قبضہ کرنے کی زبردست کوشش کی جو بفضل تعالیٰ ناکام رہی۔ مگر ان کی مسلسل یہی کوشش رہتی ہے کہ وہ حرم شریف کو نیست و نابود کر کے دیوار گریہ اور ہیکل سلیمانی کا احیاء کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے