عمومی مضامین˛Mixed essay

دعا – دعا کا مطلب اللہ کی رحمت کو آواز دینا ہے

Posted On مارچ 5, 2020 at 1:40 شام by / No Comments

دعا

دعا کا مطلب اللہ کی رحمت کو آواز دینا ہے اور یہ ممکن نہیںکہ کوئی اس کے درپہ صدا دے اور وہ رائیگاں جائے۔

 

آپ کا وجود کس قدر اہم اور بے بہا ہے؟ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے‘ قدرت نے آپ کو پوری انسانیت اور تمام دنیا کے لیے ایک نعمت بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کو ایسی صلاحیتیں بخشی ہیں جو کسی اور مخلوق کو نہیں بخشی گئیں آپ کو اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے‘ تمام جانداروں میں سب سے بہترین شکل پر آپ کی شکل و صورت بنائی گئی ہے۔ آپ کو اتنی زیادہ نعمتوں سے نوازا گیا ہے جن کا اندازہ ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ صرف ہوا جیسی نعمت پر غور کیجئے ہم سب دن رات بلا وقفے کے سانس لے رہے ہیں اگر چند منٹ صرف چند ہی منٹ کے لیے ہوا ملنا بند ہو جائے تو ہماری کیا حالت ہو سکتی ہے؟ یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس قدر اہم ہونے کے باوجود فیاض و مہربان قدرت نے ہم کو تازہ اور زندگی سے بھرپور ہوا بالکل مفت فراہم کر رکھی ہے ہم کو ایک سانس کے حصول کے لیے ایک پائی بھی خرچ نہیں کرنا پڑتی۔ماں کے شکم سے لے کر عمر کے آخری لمحے تک سانس کا سلسلہ کبھی نہیں ٹوٹتا‘ لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے کبھی غور کرنے کے لیے ایک سانس لینے کے وقفے کے برابر ہی اس پر غور کیا ہو؟
آپ کیوں نہ غور فرمائیے؟
ہمیشہ اس کی مہربانیاں‘ عنایات‘ اور بخششوں کو یاد کیجئے جو پیدا ہونے سے پہلے ہم کو آنکھیں‘ کان‘ ناک ‘ پورا وجود تما م ضروریات اور پھر ان زندگی بھر کی ضروریات کی تکمیل کے ذرائع بھی مہیا فرما دیتا ہے۔ ماں کے سینے میں بچے کی پیدائش سے پہلے ہی دودھ کا نزول اس کی رحمت بے پایاں کی ایک نشانی ہے۔ آج تمام تر ترقی کے باوجود اس دودھ کا بدل دریافت نہیں کیا جا سکا۔ ’’تخلیق‘‘ کی تو بات ہی دوسری ہے۔ پھر مشکلات پر واویلا کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا ہم اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے؟
مشکلات اورآزمائش زندگی کا حصہ ہیں یہ انسان کے جواہر کو چمکانے کے لیے ہوتی ہیں ان کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہیے۔زندگی میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو مشکلات کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ قدرت آپ کو اگر کسی امتحان میں ڈالتی ہے تو اس کا مقصد آپ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نمایاں کرنا ہوتا ہے آپ کو پیس ڈالنا نہیں۔ ایسے مواقع پر اسی سے مدد اور رحمت کا سوال کرنا چاہیے۔
اپنا نقطہ نظر وسیع‘ فکر بلند اور خیالات کو روشن کیجئے تاکہ آپ کے خواب‘ حقیقت کا جامہ پہن سکیں۔ اپنی زندگی کے اہم معاملات کے بارے میں اپنے فیصلوں کو اچھی طرح جانچ پڑتال کے بعد عملی شکل دیجئے محض آنے والے وقت کے آسرے پر نہ بیٹھیں۔ اپنی زندگی کے بے حد بلند مقصد کا تعین کیجئے اور پھر اس کے حصول کی جدوجہد کیجئے انشاء اللہ آپ کامیاب و کامران ہوں گے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ خود کو بے حد لاچار‘ بے بس‘ مایوس اور تنہاء محسوس کرتے ہیں آپ کو کوئی نظر نہیں آتا جس سے اپنا دکھ درد کہہ سکیں۔ لیکن ایک ہستی تو ہے جو ہر وقت‘ ہر جگہ‘ ہر حالت میں اور ہر مقام پر آپ کے ساتھ ہے اور آپ کی ہر بات سننے اور ہر طرح مدد کرنے پر بالکل تیار ہے اور آپ کی اس طرح مدد کرتی ہے کہ ہم کو اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ لیکن اسی سے بالآخر ہم کو علم ہوتا ہے کہ ’’وہ‘‘ ہے اور کہیں نہ کہیں ضرور ہے اور اس کی نگاہ ہم پر اور ہر وقت ہے۔ وہ آپ کے دل کی صدا سے بھی بخوبی واقف ہے اور زبان پر موجود حرف دعا سے بھی آگاہ!
جب آپ کو کسی دور افتادہ عزیز کی کوئی خیر خبر نہیں ملتی ‘ کوئی ذریعہ یا وسیلہ بھی نہیں ہوتا تو آپ کے پاس’’ اُمید‘‘ آسرے‘ اور سہارے کے لیے اور سکون قلب کے لیے اس کی ذات سے بڑھ کر اور کوئی نظر نہیں آتا؟
اور کبھی آپ کو انتہائی غیر متوقع طور پر کوئی ایسی چیز مل جاتی ہے جو اس سے قبل آپ کے لیے صرف خواب و خیال کی سی حیثیت رکھتی تھی اس کا حصول مشکل نہیں ناممکن نظر آتا تھا۔ اس وقت یہ ناممکن کس کے ہاتھ میں پہنچ کر ممکن ہو جاتا ہے اور آپ اپنے خوابوں کی تعبیر…اپنے ہاتھ میں دیکھتے ہیں؟
زندگی صرف پھولوں کی سیج ہی نہیں اس میں جگہ جگہ کانٹے بھی ہیں کسی بھی غیر متوقع حادثے‘ واقعے‘ مشکل اور مخالف صورت حال میں جب آپ کو کچھ اور سجھائی نہیں دیتا ہو‘ لوگ ساتھ چھوڑ جاتے ہوں۔ عزیزوں اور احباب کے پاس بھی تسلی تشفی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس اندھیرے میں وہ ذات نور باری طلوع ہوتی ہے اور تمام تاریکیاں فنا ہو جاتی ہیں اور مشکلات سیاب پا!
تو ہم اس رحمن و رحیم کا شکریہ کیوں نہ ادا کریں جس کی رحمتیں ابدی اور عنایات لامتناہی ہیں۔ اگر زندگی میںمشکلات کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اُس نے بھی اپنی رحمتوں اور بخششوں و عنایت کا دروازہ کب بند کیاہے؟
دعا……ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ مقدر کو بھی تبدیل کر دیتی ہے جبکہ مقدر اور کسی چیز سے تبدیل نہیں ہوتا۔ دعا درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک مضبوط ترین ’’رابطہ‘‘ ہے۔جب بندہ اس سے اپنے رب سے وابستہ ہو جاتا ہے تو پھر سب کچھ ممکن اور ہر مشکل حل ہو جاتی ہے دعا بجائے خود اللہ تعالی کی رحمت عظیم ہے اور ان ہی بندوں کو بخشی جاتی ہے جن کی بھلائی اللہ تعالی کو مقصود ہوتی ہے اور دعا کرنے کا سادہ سا مطلب اس کی رحمت کو آواز دینا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ کوئی اس کے در پر صدا دے اور یہ صدا رائیگاں جائے ۔تو دعایوں کیجئے۔
’’اے میرے اللہ !میں تجھ سے محبت کرتا ہوں اور مجھے تیری مدددرکار ہے پس تو آ کر میرے دل کو آباد کرے! آمین۔
یہ دعا کر کے دیکھئے اور پھر یہ بھی دیکھئے کہ یہ دعا آپ کے دل کو کس طرح ’’دل شاد‘‘ اور ’’دل آباد‘‘ کرتی ہے۔
٭٭٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے