عمومی مضامین˛Mixed essay

بائیں ہاتھ کاکمال

Posted On اپریل 12, 2020 at 11:35 شام by / No Comments

بائیں ہاتھ کاکمال

انسانی دماغ پر ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد ریاضی میں بہت طاق ہوتے ہیں جبکہ بعض کینسر میں بائیںہاتھ کا استعمال زبان میں لکنت پیدا ہوجانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
کہاجاتاہے کہ والدین کی عادت ‘ شکل وصورت‘ مزاج وحرکات کاعکس بچوں پر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر والد کاقد لمباہے تواس کا قوی امکان ہے کہ اس کا بیٹا بھی دراز قد ہوگا۔ اسی طرح اگر والدہ کی آنکھیںنیلی‘ بال سیاہ ہوںاور بیٹی کی بھی ایسی ہی آنکھیںاور بال ہوںتویہ خاندانی موروثیت کی عکاسی ہے۔ اسی طرح مزاجی کیفیات اور ہیلتھ افیکٹس بھی والدین سے اولاد میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ لیکن کچھ بچوںمیںایسی حرکات بھی پائی جاتی ہیں جوبعض اوقات والدین میںتو کیاخاندان میںکسی میں موجود نہیںہوتیں۔ ان میںسے بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے ایسے کئی افراد کودیکھاگیا ہے کہ ان کے والد‘ والدہ‘ دادا‘ دادی‘ نانا‘نانی‘ چچا‘ چچی‘تایا وغیرہ سب راست دست یعنی دائیںہاتھ سے کام کرتے ہیںلیکن پھر بھی وہ فرد بائیں ہاتھ سے اپنے روزمرہ امور کی انجام دہی کرتے ہیں۔ سائنس کی اتنی ترقی کے باوجود اب تک یہ سوال معمہ بنا ہواہے کہ کچھ افراد میں دائیں ہاتھ سے اور کچھ میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے کی صلاحیت کیوں پائی جاتی ہے۔ ایسانہیں ہے کہ اس ضمن میں آج تک کسی نے سوچنے کی زحمت نہیں کی۔ مغربی ممالک میں ایسے کئی سائنس دان اور نفسیات دان گزرے ہیں جنہوں نے اس موضوع پر کافی ریسرچ کی اور بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کے دماغ کی ساخت کا مطالعہ کرکے اس بارے میں کچھ حقائق واضح کئے اور اس موضوع پر کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ایک مطالعے کے مطابق ماں اور باپ دونوںکے لیفٹ ہینڈ ہونے کی وجہ سے ان کی اولاد کی نصف تعداد لیفٹ ہینڈ ہوسکتی ہے۔ لیکن اس ریسرچ کو بھی حرف آخر نہیں کہاجاسکتا’ اس لیے کہ صرف وراثت سے اس کی وضاحت نہیں کی جاسکتی کیونکہ 84فیصد لیفٹی ایسے بھی پیدا ہوتے ہیں جن کے والدین میں سے ماں باپ دنوں رائٹ ہینڈ ہوتے ہیں ۔ حد تویہ ہے کہ جینیاتی طور پر جڑواں بچوں کے ایسے بے شمار کیسز دیکھے گئے ہیں جن میں سے ایک رائٹ ہینڈ تھا اور دوسرا بائیں ہاتھ سے کام کرتا تھا۔
مذکورہ بالاحقائق سے یہ گتھی مزید الجھ جاتی ہے کہ آیا ایساکیونکر ہوتا ہے کہ ایک گھر کے دس افراد تو دائیں ہاتھ سے کام کرتے ہوں لیکن ان میں سے کوئی ایک بائیں ہاتھ سے لکھتا‘ کھیلتا اور دوسرے کام انجام دیتاہو۔ تاہم سائنس اس گتھی کو سلجھانے کے لیے عرصہ دراز سے تاحال کوشاں ہے۔ سائنسدانوں نے اس کا تعلق دماغ کے کچھ حصوں اور جینز سے جوڑاہے جس کے نتائج بھی کافی حوصلہ افزاثابت ہورہے ہیں اور کافی حد تک دائیں اور بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد میں فرق کی نشاندہی واضح ہوگئی ہے۔
سائنس کی رو سے جوافراد بائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں‘ ان میں ریاضی Mathemetics کی پیچیدہ ترین مساواتوں اور فارمولوں کو سمجھنے کی صلاحیت دائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کی نسبت کئی گنازیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح شعبہ ادب میں بھی اپنی مخصوص ذہنی صلاحیت کے پیش نظر لیفٹی افراد کمال حاصل کرسکتے ہیں۔ انسانی دماغ کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ کیسز میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے لوگوں کوزبان میں لکنت‘ خود تسکینی اور بعض صورتوں میں جب کہ کسی کسی کے لیے تویہ زندگی میں بڑے حاد ثے کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
سائنسی تحقیق کے مطابق انسان کے مرکزی اعصابی نظام میں کئی سرکٹ متبادل انداز میں کام کرتے ہیں۔ مثلاً دائیں ہاتھ کی حرکات وسکنات کا تعلق دماغ کے بائیں حصے سے جبکہ بائیں ہاتھ کا تعلق دائیں حصے سے ہوتاہے۔ یہی صورت دوسرے اعضاء کے ساتھ درپیش رہتی ہے۔ کم ازکم 95فیصد راست دست افراد میںگفتگو اور زبان کے مرکز دماغ کے بائیں حصے میں ہوتے ہیں جبکہ صرف 15 فی صد لیفٹی افراد کی گفتگو کانظام دماغ کے دائیں حصے کے کنٹرول میں ہوتاہے۔ ایک ماہر حیاتی نفسیات کے مطابق تقریبا 70فی صد بائیںہاتھ سے کام کرنے والوں میں گفتگو کا نظام ان کے دماغ کے بائیں حصے ہی سے کنٹرول ہوتا ہے اور باقی 15فی صد میں گفتگو کا نظام دماغ کے دونوں حصوں سے کنٹرول ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس کے کچھ ماہرین کے مطابق دماغ کا بایاں حصہ منطقی اطلاعات کاکام کرتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے لیفٹی حضرات پراگندہ ذہنی‘ خوف اور جنونی افسردگی کے خطرے سے بھی دو چار ہوسکتے ہیں۔ بلکہ ایک مطالعے سے یہ ہولناک انکشاف بھی ہواہے کہ ایسے لوگ دوسرے افراد کی نسبت تین گنا زیادہ خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔
بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کے ریاضی میں طاق ہونے کے متعلق آئی کیوٹیسٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی نفسیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کمیلابنبو نے طلبہ کا ایک جائزہ لیا۔ ایسے 100امریکی طلباء وطالبات جو میلان طبع کے ریاضی ٹیسٹ میں سرفہرست تھے‘ ان میں سے ایک فیصد لیفٹی تھے۔ کمیلانے یہ دریافت کیا کہ ریاضی کے ذہین طلباء کی کل تعداد میں سے 20فی صد لیفٹی تھے۔ یعنی عام آبادی میں ان کی تعداد کے تناسب سے دوچند۔ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کی ذہنی صلاحیتوں پر مزید روشنی ڈالنے کے لیے اب دماغ کی جینیاتی کوڈنگ کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے بتاتے چلیں کہ ماضی کے مقابلے میں اس دورجدید میں لیفٹ ہینڈڈ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ مختلف جائزہ کے مطابق برطانوی آبادی کا 10سے12فی صد حصہ بائیںہاتھ سے کام کرنے والوں کی تعداد پرمشتمل ہے۔ جاپان میں25آدمیوں میں سے ایک بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا ہوتا ہے۔ خواتین کی نسبت مردوں میںیہ زیادہ عام ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق اس امتیازی وصف کی حامل ہرچار خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد پانچ ہے۔
یونیورسٹی کالج‘ لندن کے نفسیات اور طبی تعلیم کے پروفیسرکرس مکمینس نے اس موضوع پر تحقیق کے بعد ایک کتاب بھی تحریر کی جس میں سائنسی حوالوںسے بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کی خصوصیت کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ان کے تیار کردہ جنیاتی نمونے سے اس امر پربھی روشنی پڑتی ہے کہ برطانیہ میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کی شرح گزشتہ صدی میں کیوںبڑھی ہے۔ اس تحقیق سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر فوقیت دینے کے پس پشت اصل کرداردماغ کاہوتاہے۔
پروفیسر کرس میکمنس نے اس حوالے سے انسان کی ارتقائی تاریخ کا بھی مطالعہ کیا۔ پروفیسر کرس کا کہنا ہے رائٹ ہینڈ افراد کی ترقی میںایک جین کا ہاتھ ہے اس جین کو Dیعنی Dextrol یعنی دایاں کانام دیاگیاہے۔ 20لاکھ سال قدیم پتھر کے اوزاروں سے یہ ثابت ہوتاہے کہ ہمارے آبائواجداد بھی دائیںہاتھ سے ہی کام کرتے تھے۔ پروفیسر کرس کہتے ہیںکہ 20لاکھ کے درمیانی عرصے میں ایک اور جین سامنے آئی ہے جسے Cیعنی Chanceکانام دیاگیا‘ جس نے بائیںہاتھ سے کام کرنے والوںکی واضح شکل متعین کی۔
پروفیسرکرس کے مطابق Cجین کا بنیادی مقصد دماغ کے ڈھانچے کو متحرک رکھنا ہے تاکہ دماغ کابایاںحصہ جودائیںہاتھ کی حرکات کوکنٹرول کرتاہے زبان کے ساتھ دیگر حصوںکو بھی باصلاحیت بناسکے ۔ یہ تحریک موروثی طور پر ایک Cجین اوردوسرے Dجین کاسبب بناجوممکنہ طور پر ایک ماںاور ایک باپ کی طرف سے بچوںمیںمنتقل ہوسکتاہے۔ یہ جینیاتی کوڈنگ کسی شخص کوامکانی طور پر ایک بہتر دماغ بھی دے سکتی ہے اور یہ جینیاتی اشتراک دل پربھی اثر کرسکتا ہے۔ خود تسکینی‘ زبان میںلکنت جیسے عوامل بائیںہاتھ سے کام کرنے والے افراد میںزیادہ دیکھے گئے ہیں۔
وہ افراد جوDDجینز رکھتے ہیں‘ ان میں بائیںہاتھ سے کام کرنے کاامکان نہیںہوتا۔ CCجینز رکھنے والوںمیںیہ امکان 50فی صد تک پائے جاتے ہیں جبکہ CDمیںیہ امکان 25فی صد تک ہوتا ہے۔ ماہرین اس سوال کاجائزہ لے رہے ہیںکہ ایک صدی قبل تک برطانیہ میںبائیںہاتھ سے کام کرنے والے افراد کے تعداد کم کیوں تھی؟ ماہرین کااندازہ ہے کہ ایک صدی پہلے کے مقابلے میںیہ تعداد 4گنابڑھ گئی ہے۔ ماہرین نے یہ نتیجہ نکالاکہ آبادی میںCجینزرکھنے والے افراد کی تعداد کم تھی۔ پروفیسر نے بھی قیاس ظاہر کیاکہ بائیںہاتھ سے کام کرنے والوںکوسماجی طور پر تنقیدی نظرسے دیکھاجاتاتھا۔ چنانچہ اس صورت حال کے پیش نظریہ کہاجاسکتا ہے کہ ایسے افراد کے لیے شاید شادی کرنا اور نسل بڑھاناآسان نہ ہوتا ہو۔ لیکن اب وہ کیفیت کافی حد تک دور ہوگئی ہے اور اسے معمول کی بات سمجھاجانے لگاہے‘چنانچہ آبادی میںC جینز رکھنے والوںکی تعداد بڑھ چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بائیںہاتھ سے کام کرنے والے افراد کی تعداد ماضی کے مقابلے میںکہیںزیادہ بڑھ گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے