عمومی مضامین˛Mixed essay

آئیں یوگا سیکھیں – – قسط نمبر1

Posted On مارچ 6, 2020 at 3:59 شام by / No Comments

آئیں یوگا سیکھیں – – قسط نمبر1

کامیاب زندگی اور صحت کے لیے

یوگا کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یوگا انتہائی مشکل ریاضتوں اور مکمل نفس کشی پر مشتمل ہے اور یوں کم یا درمیانی صلاحیتوںکے حامل فرد کے لیے اس کوسیکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے……… یہ بات انسانی نفسیات میں دخیل ہے کہ جب اس کوکامیابی کا یقین دلایا جائے تو وہ کامیابی کے راستہ پر چل نکلتاہے اور جب اس کے سامنے ناکامی کا خوف مجسم بنا کر کھڑا کر دیا جائے تو بلا کسی کوشش کے اپنے آپ کو ناکام و نامراد خیال کرنے لگتا ہے اور کئی ایسے کام بھی کرنے میں ناکام رہتا ہے جن کو وہ کچھ محنت اور اپنے اوپر اعتماد کے باعث باآسانی کر سکتا تھا۔ سو یوگا کے بارے میں بھی یہی بات سچ ہے۔ اگر آپ اس کو اتنا بڑا پہاڑ خیال کر لیں گے کہ جس کو آپ پار نہیں کر سکتے تو پھر بالیقین یوگا سیکھنے میں ناکام ہو جائیں گے۔ لیکن اگر آپ نے یہ سوچ لیا کہ اگر کچھ دوسرے لوگ یہ علم سیکھ سکتے ہیںتو آپ کیوں نہیں کامیاب ہو سکتے تو بالیقین کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں اگر آپ میرے ساتھ چلتے رہے تو آپ دیکھیں گے کہ فن یوگا پر عبور حاصل کرنا آپ کے لیے حد درجہ آسان ثابت ہو گا۔ اِن اسباق کے دوران بالکل عام فہم انداز میں یوگا کی باریکیاں آپ کے سامنے بیان کی جائیں گی اور اس کی تمام ورزشیں(آسن) مکمل تفصیل اور جہاں ضرورت ہوئی تصویروں کی مدد سے آپ کوسمجھائی جائیں گی۔
ہندو مذہب باکثرت دیومالائی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ فن یوگاکی ابتداء سے متعلق بھی کچھ ایسی ہی دیومائی کہانی ہمیں ملتی ہے۔ مختصر یوں ہے کہ دیوی پاروتی (Parvati) بھگوان شیوا (Siva) سے محبت ہونے کے باوجود یہ محسوس کرتی تھی کہ بھگوان شوا سے اس کی تمام تر الفت‘ محبت اور توجہ کے کوئی چیز اسے شِوا میں ضم ہونے سے باز رکھتی ہے۔ سو شیوا نے پاروتی کی سوچ اور خیالات کو راستہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ میں تم سے الگ نہیں ہوں۔ تاہم میرے تک پہنچنے کا راستہ اپنے آپ کو اپنی ذات کو پہنچاننے کے راستے سے ہے۔ یہ منزل کس طرح حاصل کی جائے گی اس کی تعلیم میں جو کچھ شِوا نے پاروتی کو سیکھایاآج ’’یوگا ‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یوگ کا معنی کیا ہے؟
یوگ دراصل سنسکرت کے لفظ ’’یوج‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ملنے اور ملاپ کے ہیں۔ یعنی ذہن‘ جسم اور نسمہ (روح حیوانی) کا ملاپ خیال ہے روح کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
۱- روح حیوانی——نسمہ
۲- روح انسانی—— نفس ناطقہ
اس کا تصور یہ ہے کہ روح انسانی ہمہ وقت روح حیوانی پر سوار رہتی ہے۔ روح انسانی جسم پر روح حیوانی کے ذریعے تصرف کرتی ہے اور جسم روح حیوانی کی سواری ہے۔اس لیے روح انسانی براہ راست جسم انسان پر تصرف نہیں کر سکتی۔ انسان کی بقاء اس روح حیوانی کے باعث ہے۔جسم کسی بیماری وغیرہ کے باعث روح حیوانی کی پرورش کے قابل نہیں رہتا تو روح حیوانی جسم سے الگ ہو کر انسان کو موت سے ہمکنار کر دیتی ہے۔ اور دونوں ارواح عالم برزخ کو اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔
پہلی تصنیف
یوں تو علم یوگ ہزاروں سال پرانا ہے اور اس کی درست تاریخ ابتداء کا بیان ممکن نہیں تاہم کم و پیش ڈھائی ہزار سال قبل مہا یوگی پشن جلی نے علم یوگ پر پہلی تصنیف ’’یوگ سوتر‘‘ تحریر کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پتن جلی کو اور اس کی تصنیف کو لاثانی شہرت اور قبولیت حاصل ہے۔
یوگ اور تصوف
یوگ اور تصوف میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے فنا فی اللہ۔ تصوف کے دعوی دار عالم لاہوت کی رسائی پر اصرار کرتے ہیں اور بالکل یہ بات ماہرین لوگ کہتے ہیں۔ ان کے بقول روح‘ روح اعظم سے مل سکتی ہے۔ انسان اور خالق کا ایک ہونا۔ بالکل وہی بات’’فنا فی اللہ‘‘۔
یوگ سیکھنے میں مشکلات
عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ فن یوگ انتہائی پیچیدہ ہے اور عام عقل فہم اور اعصاب کا مالک اس میں مہارت حاصل نہیں کر سکتا۔ عموماً یوگیوں کے بارے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی عمر کانٹوں کے بستر پر بسر کرتے ہیں۔مختلف ریاضتیں کرنے کے لیے کبھی اُلٹے لٹکے ہوتے ہیں اور کبھی ننگ دھڑنگ ریاضت میں مصروف رہتے ہیں۔ انسانی جسم کو اذیت دینے والے آسن اختیار کرنا اس علم کا ایک اور منفی پہلو ہے۔ یوگا کی بعض ایسی مشقیں مثل ناک میں ڈوری ڈال کر گلے سے باہر نکالنا یا جسم کو توڑ مروڑ کر گھڑی کی شکل دے دینا یا طویل عرصے تک سانس روکے رکھنا جیسے عوامل ایسے ہیں جو عام آدمی کو اس فن سے دور لے جانے کا باعث بنتے ہیں۔ عوام یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ خاص علم ہے اور صرف خاص لوگ ہی اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کوئی بھی فرد جو اس فن سے دلچسپی رکھتا ہے اس کو سیکھ سکتا ہے۔ اس کو سیکھنے کا صرف یہی مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ آپ مہایوگی بننے کے لیے سب ریاضتیں کریں۔ بلکہ اس علم کا حصول ایک بہتر جسمانی اور ذہنی زندگی بسر کرنے میں حد درجہ معاون ثابت ہو گا۔ یوگا کی ریاضتیں ہر مرد‘ عورت اور بچے کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ اور کوئی بھی فرد جنس کی قید کے بغیر اس علم کو حاصل کر سکتا ہے۔
آئندہ سبق میں فن یوگ پر مزید بحث کی جائے گی۔

جاری ہے……..

یہ مضمون راہنمائے عملیات سے لیاگیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے