عمومی مضامین˛Mixed essay

اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی – حصہ دوم

Posted On فروری 29, 2020 at 7:20 صبح by / No Comments

اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی -  حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی – حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی -  حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی – حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی -  حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی – حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی -  حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی – حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی -  حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی – حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی -  حصہ دوم
اعمال و وظائف شیخ عبدالقادر جیلانی – حصہ دوم

 

یا الرحم الراحمین۔ یہ دعا پڑھنے کے بعد سو جائیں کام کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
استخارہ کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ بعد نماز عشاء دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں ہر رکعت میں الحمد کے بعد گیارہ گیارہ مرتبہ قل ہو اللہ پڑھیں پھر آنحضرت ﷺ پر گیارہ بار درود شریف پڑھیں۔ مندرجہ ذیل درود شریف کا پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔
السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ السلام علیک یا رسول اللہ‘ السلام علیک یا خیر خلق اللہ السلام علیک یا شفیع المذنبین‘ السلام علیک و علی آلک و اصحابک اجمعین‘ اللھم صلی علی محمد کما تحب وترضاہ۔
اس کے بعد ذیل کے کلمات ایک ایک سو بار پڑھے جائیں:-یا علیم علمنی‘ یا بشیر بشرنی‘ یا اخبرانی‘ یا بین بین لی۔ ایک کے بعد سو جائیں اور کسی سے بات چیت نہ کریں انشاء اللہ کام کے نتیجہ سے خبر مل جائے گی۔
دنیا سے بے رغبتی ملے گی:
ایک شخص کے دریافت کرنے پر غوث اعظم نے فرمایا منازل طریقت طے کرنے کے لئے شرک سے اجتناب نہایت ضروری ہے۔ اس کے لئے بہترین راہ عمل یہ ہے کہ نماز تہجد کے بعد دو رکعت نفل پڑھے ہر رکعت میں الحمد کے بعد گیارہ گیارہ مرتبہ قل ھو اللہ پڑھے۔ پھر سلام کے بعد سو بار یہ کلمات پڑھے۔ لامعبود الا اللہ‘ لا مقصود الا اللہ‘ لاموجود الا اللہ۔ ان کلمات کے پڑھنے کا اثر یہ ہو گا کہ ماسواسے بے تعلقی پیدا ہو جائے گی اور ذکر الہی سے دل کولذت حاصل ہو گی۔
بعض اہل معرفت نے اس عمل کو مراقبہ توحید بھی لکھا ہے۔ اس عمل کے پڑھنے والوں کو عزم راسخ ارو استقامت محکم کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ دل پر کسی کا رعب نہیں بیٹھتا۔
یعقوب بن اسحاق بغدادی اس عمل کی تعریف میں لکھتے ہیں! اس سلسلہ میں فقیر کا مشاہدہ یہ ہے کہ اس عمل کر برکت سے کبھی کبھی شرح صدر بھی ہو جاتا ہے۔ معرفت کے لیے اس درویش کا سینہ کھل جاتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس کا سینہ اللہ تعالی معرفت کے لئے کھو ل دے اس کے خوش نصیب ہونے میں کیا شبہ ہے‘ فھوعلی نور من ربہ(وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے)۔
اگر اس عمل کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو ہدایت الہی‘ توفیق راہ اور رفیق سالک ہو جاتی ہے۔ اور سینہ میں معرفت کا شور جوش زن ہوتا ہے۔دل میںصداقت و حقانیت کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اعلان حق کے لیے ہمت عالی مل جاتی ہے۔ ریاضت و مجاہدہ کے لئے عزم راسخ مل جاتا ہے۔ تنہائی‘ بے کسی اور بے سروسامانی کا خیال دل سے نکل جاتا ہے۔
دل کو راحت ملے:
ایک سائل کے جواب میں غوث اعظم نے فرمایا کہ انشراح قلب ایک نعمت ہے اس کے لیے طریقہ یہ ہے کہ بعد نماز تہجد دو رکعت نماز نفل پڑھے۔ یہ دو رکعت بہ نیت انتفاع ازماسوا اللہ و رجوع الی اللہ پڑھے جائیں پھر حضرت رسول کریم ﷺ پر درود پڑھیں‘ پھر گیارہ بار الم نشرح پڑھیں۔ اس کے بعد غوث اعظم نے فرمایا:-
انشراح قلب کے لیے ایک راہ عمل یہ بھی ہے ۔رمضان کے آخری عشرہ میں اکیسویں رات‘ تئیسویں رات‘ پچیسویں رات‘ ستائیسویں رات اور انیسویں رات کو ذکر الہی کریں تاکہ شب کو خدا کی برکتیں حاصل ہوں۔ تہجد کی نماز بھی روزانہ پڑھیں‘ ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کریں ‘ کھانا کم کھائیں کہ اس سے رقت قلب حاصل ہوتی ہے۔ جہاں تک ممکن ہو گفتگو کم کریں‘ اس سے دل کو راحت محسوس ہوتی ہے۔
یعقوب بن اسحاق بغدادی نے ’انوارالسالکین‘میں لکھا ہے کہ ایک سائل کے جواب میں حضرت غوث پاک نے فرمایا زندگی کے تفکرات سے نجات پانے کے لئے یہ عمل مفید ہے۔
بعد نماز مغرب سنتیں پڑھنے کے بعد دو رکعت نفل پڑھیں اس کے بعد گیارہ بار یہ پڑھیں۔ لا الہ الا اللہ وحد لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحیی و یمیت و ھو علی کل شی قدیر پھر تین بار یہ پڑھے۔ یسبح لہ ما فی السموات والارض وھو العزیز الحکیم۔ پھر گیارہ مرتبہ یہ پڑھیں۔ اللھم افتح لی ابواب رحمتک یا رحم الراحمین‘ الھم استجب ھذا دعالی بجاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ شیخ وجیہہ الدین بغدادیؒ لکھتے ہیں۔ فقیر کے تجربہ میں رنج اور اضطراب سے نجات حاصل کرنے کے لیے یہ عمل بہت مجرب ہے۔
طالب معرفت کا عمل
شیخ نجیب الدین بغدادیؒ عبدالقاہر سہروری”مناقب الجیب”میں لکھتے ہیں:-
سیدنا ابو محمد محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ نے ایک طالب معرفت سے فرمایا سالک کے لیے ضروری ہے کہ سوائے فرائص و واجبات و سنن کے کچھ اور ادوظائف جو تزکیہ نفس کے لیے بے حد مفید ہیں ضرور پڑھے۔ خاص طور پر نماز تہجد اور نماز اشراق لازم ہے۔ اور بوقت فجر سنت و فرض کے درمیان اکتالیس بار سورہ فاتحہ پڑھے اور سو بار سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم‘ وبحمد استغفراللہ۔ ضرور پڑھے اس عمل سے بے نظیر روحانی قوت نصیب ہوتی ہے۔
شیخ عفیت الدین کشف الاسرار میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبدالقارد جیلانی قدس سرہ نے بہت سے اعمال و وظائف اس فقیر کو مرحمت فرمائے۔ یہ عمل فقیر کے تجربہ میں نہایت زوداثر ہے۔ اگر آپ کا دل بے حد پریشان ہے اور آپ سکون دل کے آرومند ہیں تو سب سے پہلے تین بار لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم پڑھیں پھر دو رکعت نماز نفل پڑھیں۔ پھر سلام کے بعد اللھم طھر قلبی عن غیرک ونور قلبی بنور معرفتک ابدا ً یا اللہ‘ یا اللہ‘ گیارہ بار پڑھیں‘ اس کے بعد یہ کلمات پڑھیں:- لافاعل الا اللہ ولا موجود الا اللہ یا اللہ یا فعال یافتاح یا باسط۔
آپ کی دعائیں
آپ کی دو دعائیں بہت مشہور ہیں جو آپ بعض مجالس میں پڑھا کرتے تھے۔ ذیل میں ان کا ترجمہ درج کیا جاتا ہے۔
اے اللہ ہم تیرے وصال کے بعد روک دیے جانے‘ تیرے مقرب بن کر نکال دیے جانے‘ اور تیرے مقبول بننے کے بعد مردود بننے سے پناہ مانگتے ہیں۔ اے اللہ تو ہمیں اپنی اطاعت و عبادت کرنے والوں میں سے کر دے اور ہمیں توفیق دے کہ تیرا شکر اور تیری حمد کرتے رہیں۔
اے اللہ ہم تجھ سے ایسے ایمان کے طلب گار ہیں جو تیری جناب میں پیش کرنے کے قابل ہو اور ایسا یقین چاہتے ہیں جس کے ذریعہ سے ہم قیامت کے دن تیرے جناب میں بیخوف کھڑا ہو سکیں۔ ایسی عصمت کے خواہش مند ہیں جس کے ذریعہ سے تو ہمیں گرداب معاصی سے نکال دے۔ ایسی رحمت چاہتے ہیں جس کے ذریعہ سے تو ہمیں عیبوں کی زندگی سے پاک و صاف کر دے۔ ایسا علم چاہتے ہیں جس کے ذریعہ سے تیرے اوامرو نواہی کو سمجھ سکیں۔
اے آقا ہمیں ایسا فہم عطا کر جس سے ہم تیرے جناب میں دعا کرنا سیکھیں۔ اے اللہ تو ہمیں دنیا و آخرت میں اہل اللہ میں سے بنا‘ ہمارے دلوں کو نور معرفت سے پر کر دے ہماری آنکھوں کو اپنی ہدایت کے سرمہ سے سرمگیں کر دے۔ ہمارے افکارکے قدم شبہات کے موقعہ پر پھسلنے سے اور ہماری نفسانیت کے پردوں کو خواہشات کے آشیانے میں جانے سے روک لے۔ ہماری شہوات سے ہمیں نکال کر نمازیںپڑھنے ‘ روزے رکھنے میں ہماری مدد فرما۔ ہمارے گناہوں کے نقوش کو ہمارے اعمال نامہ سے نیکیوں کے ساتھ مٹا دے۔ اے اللہ جب کہ ہمارے افعال مرہونہ ظلم کی قبروں میں مدفون ہونے کے قریب ہوں اورتمام اہل سخاء ہم سے منہ موڑنے لگیں‘ اور ہماری امیدیں ان سے منقطع ہو جائیں تو اس وقت قیامت میں تو ہمارا والی اور مددگار بن‘ اپنے ناچیز بندہ کو جو کچھ وہ کر رہا ہے اس کا اجر دے اور لغزشوں سے اسے بچا۔ کل حاضرین کو نیک بات اور نیک کام کی توفیق عطار کر اور اس کی زبان سے وہ بات نگلوا جس سے سننے والوں کو فائدہ پہنچے ۔ جس کے سننے سے آنسو بہنے لگ جائیں اور سخت سے سخت دل بھی موم ہو جائیں۔
اے اللہ اسے اور تمام حاضرین اور کل مسلمانوں کو بخش دے۔
*************
حضرت نبی اکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایماندار کو ستانا اللہ کے نزدیک کعبہ اور بیت اللہ کے شہید کر دینے سے کئی گنا زیادہ گناہ ہے۔
نادان جب کسی سخی مرد سے معاملہ کرے تو با ادب رہ۔ اجرت اور غنا طلب نہ کر۔ بے ادبی کے بغیر اور بے مانگے دونوں چیزیں مل جائیں گی۔ جب اللہ تعالی کو معلوم ہو جائے گا کہ تم نے حرص‘ طلب اور بے ادبی کو ترک کر دیا ہے تو دوسرے لوگ جو تم سے معاملہ رکھنے والے ہیں ان کو بھی الگ کر دے گا اور تمہیں خوشحال کر کے ان سے بلند جگہ پر بٹھا دے گا۔ اللہ تعالی اعتراض کرنے والے اور نزاع کرنے والے کی مصاحبت نہیں کرتا۔ جو شخص تقدیر الہی کی موافقت کرتا ہے اس کو ہمیشہ اللہ تعالی کے ساتھ مصاحبت رہتی ہے۔ عارف الہی اللہ ہی کے ساتھ رہتا ہے غیر کے ساتھ نہیں اسی کا موافق ہوتا ہے غیر کا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے