عمومی مضامین˛Mixed essay

اعداد، نمبرز˛ خوش قسمت اعداد، زائچہ اور اعداد˛ نجوم سے عدد/خوش قستمی کا عدد

Posted On اپریل 2, 2020 at 1:26 صبح by / No Comments

یہ مضمون راہنمائے عملیات،نومبر 2005 سے لیا گیا ہے۔

از: حافظ ایم فرخ جاوید۔

اعداد، نمبرز˛ خوش قسمت اعداد، زائچہ اور اعداد˛ نجوم سے عدد/خوش قستمی کا عدد

علم ہر حالت میں انسان کے لیے فائدے کا باعث ہوتا ہے چاہے وہ ابتدائی حالت میں ہو یا انتہائی حالت میں۔ مختلف علوم ہماری مختلف شعبہ جات زندگی میں مددگار و معاون ثابت ہوتے ہیں جیسے ڈاکٹری‘ وکالت ‘ انجینئرنگ۔ اسی طرح علومِ مخفی بھی ہمارے معاملات زندگی سے جُڑے بیشتر مسائل کے حل کے لیے مددگار و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جیسے کہ نجوم‘ پامسٹری‘ اعداد‘ ساعات‘ جفر‘ رمل وغیرہ۔
ہمارے ہاں بدقسمتی سے ان علوم کے ساتھ بہت ناانصافی برتی جاتی ہے کبھی ان کو شیطانی علوم کا درجہ دے دیا جاتا ہے تو کہیں پیروں‘ فقیروں کو عقیدت مندی میں اللہ کی ذات کے برابر کھڑاکر دیا جاتا ہے۔ نعوذ باللہ۔ بات صرف اتنی ہے کہ علوم مخفی بھی دوسرے تمام علوم کی طرح ایک علم ہے۔ بنیادی فرق یہ ہے کہ علوم مخفی کی ہمہ گیریت باقی تمام علوم سے زیادہ ہے۔ جیسے کہ جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں وکیل سے نہیں۔اگر کوئی قانونی پیچیدگی ہو تو وکیل کی خدمات حاصل کرتے ہیں ڈاکٹر کی نہیں۔مگر ان دونوںصورتحالوں میں علوم مخفی سے راہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے کہ بیماری کا علاج ایلوپیتھک طریقے سے کیا جائے‘ ہومیوپیتھک طریقے سے کیا جائے یا پھر طب یونانی سے؟اسی طرح قانونی پیچیدگی صلح صفائی سے ختم ہو گی‘ کیس کا فیصلہ جیت کی صورت میں ہو گا یا ہار کی؟ یہ سب باتیں علوم مخفی کی مدد سے جانی جا سکتی ہیں۔
اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
’’ہم نے چاند کی منازل مقرر کر دی ہیں حتی کہ یہ گھٹتے گھٹتے کھجور کی گھٹلی کی مانند ہو جاتا ہے‘‘۔(سورہ یٰسین-۳۹)۔
’’(اے محمد ؐ) لوگ آپ سے نئے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے؟ کہہ دیجیے کہ وہ لوگوں کے کاموں کی معیادیں اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے‘‘۔(سورۃ بقرہ ۱۸۹)۔
علم نجوم جو کہ علوم مخفی کا سرتاج ہے اس کی مدد سے انسانی زندگی کے ممکنہ پہلوئوں کے بارے میں جانا جا سکتا ہے اور احکامات لگائے جا سکتے ہیں۔ اس مضمون میں علمِ نجوم کی مدد سے کسی بھی انسان کے لیے متوقع خوش قسمتی کے نمبروں کے استخراج کو بیان کیا جائے گا۔ جن کو آسان آمدنی کے حصول کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
زائچہ کا پہلا گھر جس کو طالع کہا جاتا ہے۔ یہ فرد کی ذات سے منسوب ہے۔ انسان کی ذات سب سے اہم ہوتی ہے۔ دوسرا گھر مال و دولت کو ظاہر کرتا ہے کہ انسان کے نصیب میں مال و دولت کے حصول کے حوالے سے خالقِ کائنات نے کیا لکھ ڈالا ہے۔ اسی طرح پانچواں گھر اتفاقی آمدنی ‘ ریس‘ جوا اور لاٹری وغیرہ سے آمدنی کو ظاہر کرتا ہے۔ گیارھواں گھر خوش قسمتی‘ کامیابی اور اُمیدوں کی تکمیل کے حوالے سے اشارات مہیا کرتا ہے۔ ان گھروں کے حاکم کواکب‘ ان میں موجود کواکب‘ ان گھروں کے حاکم کواکب کی دوسرے کواکب سے بننے والی نظرات‘ ان کواکب کا شرف و ہبوط‘ عروج و وبال‘ ترفع و تنزل اور اوج و حضیض کی حالت میں ہوناہمیں خوش قسمتی کے نمبروں کو معلوم کرنے کے حوالے سے مددگار ثابت ہو تا ہے۔
علم نجوم میں مختلف کواکب کی مختلف اعدادکے ساتھ خاص نسبت ہے۔ اس نسبت کو جاننے کے لیے ذیل کے جدول کی مدد لی جا سکتی ہے۔

 

کوکب عدد

شمس 1
قمر 2
مشتری 3
یورانس 4
عطارد 5
زہرہ 6
نیپچون 7
زحل 8
مریخ 9
پلوٹو 0
اب ہم ایک مثال سے اس بات کو سمجھیں گے کہ خوش قسمتی کے نمبروں کا استخراج کیسے کیا جاتا ہے۔بطور مثال ایک شخص 27-2-1976کو صبح 4:35 پر بمقام لاہور پیدا ہوا۔ زائچہ پیدائش یوں بنے گا۔

اوپر کے زائچہ میں دوسرے گھر برج دلوہے جس کا مالک زحل ہے۔ جو زائچہ کے ساتویں گھر برجِ سرطان میں براجمان ہے۔ اس کا منسوبی نمبر8ہے۔ زائچہ کے پانچویں گھر برج ثور ہے جس کا مالک زہرہ ہے اور اس کا منسوبی نمبر6ہے۔ زائچہ کے پہلے گھر میں برجِ جدی ہے جس کا مالک زحل ہے جو کہ ساتویں گھر برجِ سرطان میں موجود ہے۔ زائچہ کے گیارھویں گھر برجِ عقرب ہے کہ جس کا مالک پلوٹو ہے جو دسویں گھر برجِ میزان میں موجود ہے اور اس کا منسوبی نمبر 0ہے۔
زائچہ کے دوسرے گھر جو کہ برجِ دلو ہے اس میں تین کواکب براجمان ہیں۔ قمر عطارد اور زہرہ۔ قمر کا منسوبی نمبر2‘ عطارد کا منسوبی نمبر5اور زہرہ کا منسوبی نمبر 6ہے۔ زائچہ کے گیارھویں گھر میں یورانس براجمان ہے جس کا منسوبی نمبر4ہے۔
اس سے جو نمبر ہمیں حاصل ہوئے وہ ہیں5’4’2’0’6’8۔ اب اگر ہم ان نمبروں پر نجومی احکام لاگو کریں تو ہمارے سامنے کچھ اور نتائج آتے ہیں۔ پلوٹو جو کہ مالک ہے گیارھویں گھر کا وہ دسویں میں بیٹھ کر دوسرے کو سعد ناظر ہے تو نمبر حاصل ہوا0 ۔ زحل ساتویں میں بیٹھ کر پانچویں کے مالک سے ساقط النظر ہے تو لہذا زحل جو کہ مالک ہے دوسرے کا اور اس کا منسوبی نمبر 8 ہے اور پانچویں کا مالک کا نمبر6 ہے تو اس سے ہمیں نمبر حاصل ہوا6۔ قمر چونکہ ناقص النور ہے اور یوں اپنے ناقص النور ہونے کی وجہ سے قمر کے منسوبی نمبر2کو ہمیں خارج از بحث کرنا پڑے گا۔ یورانس جس کا منسوبی نمبر4ہے وہ دوسرے کے مالک جو کہ زحل ہے اور اس کا منسوبی نمبر8ہے کے ساتھ سعد ناظر ہے لہذا یہاں سے نمبر حاصل ہوا 4۔عطارد جو کہ دوسرے گھر میں براجمان ہے مالک ہے خانہ ششم اور نہم کا۔ خانہ نہم کا مالک ہونے کی وجہ سے سعد ہے اور گیارہویں گھر کے مالک کے ساتھ سعد ناظر ہے تو یہاں سے ہمیں حاصل ہوا نمبر5۔
سو صاحب زائچہ کے لیے دوسرے مرحلے میں جو نمبر استخراج ہوئے وہ ہیں5’6’4’0۔ اب ہم ان کو طاقت کے لحاظ سے درجات پر رکھیں گے۔ نجومی طاقت کے لحاظ سے سب سے طاقتور 6پھر 0 پھر4 اور پھر5آتے ہیں۔ تو یوں ہم نے صاحب زائچہ کے لیے خوش قسمتی کے نمبر استخراج کر دئیے ہیں جن کو استعمال میں لا کر وہ مختلف ذرائع سے آسان آمدن حاصل کر سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے