اسلام˛Islam

ازواج مطھرات- ام المومنین حضرت خدیبہ الکبری رضی اللہ تعالی عنھا

Posted On اپریل 20, 2020 at 4:43 شام by / No Comments

ازواج مطھرات

ام المومنین حضرت خدیبہ الکبری رضی اللہ تعالی عنھا

نسب شریف:

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد عبد العزی بن قصی بن کلاب مرہ بن کعب بن لوی۔ آپ کا نسب حضور پر نور شافع یوم النشورﷺ کے نسب شریف سے قصی میں مل جاتا ہے۔ سیدہ رضی اللہ تعالی عنہا کی کنیت ام ہند ہے۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت زاہد ہ بن الاصم بن عامر بن لوی سے تھیں۔

اللہ تعالی کا سلام:

صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ بارگاہ رسالت میں جبرائیل علیہ السلام نے حاضر ہو کرعرض کیا اے محمد ﷺآپ کے پاس حضرت خدیجہؓ دستر خواں لا رہی ہیں جس میں کھانا پانی ہے جب وہ لائیں ان سے ان کے رب کا سلام فرمانا۔

افضل ترین جنتی عورتیں:

مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا‘ جنتی عورتوں میں سب سے افضل سیدہ خدیجہ بنت خویلد ؓ ‘ سیدہ فاطہ بنت محمد ﷺ ‘ حضرت مریم بنت عمران اور آسیہ امرہ فرعون ؓ ہیں۔
سیدہ رضی اللہ تعالی عنہا کی تجارت میں دونا نفع: سردار مکہ محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق حسنہ کا ہر جگہ چرچا تھا حتی کے مشرکین مکہ بھی انہیں الامین و الصادق سے یاد کرتے۔ سیدہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے کاروبار کے لیے یکتائے روزگار کو منتخب فرمایا اور سرکار ﷺ کی بارگاہ میں پیغام پہنچایا کہ آپ سیدہ ؓ کا مال تجارت لے کر شام جائیں اور منافع میں جو مناسب خیال فرمائیں لے لیں۔ حضور اقدس ﷺ نے اس پیشکش کو بامشورہ ابو طالب قبول فرما لیا۔ سیدہ ؓ نے اپنے غلام میسرہ کو بغرض خدمت حضور اقدس ﷺ کے ساتھ کر دیا حضور ﷺ نے اپنا مال بصرہ میں فروخت کر کے دونا نفع حاصل کیا نیز قافلے والوں کو آپ کی صحبت با برکت سے بہت نفع ہوا جب قافلہ واپس ہوا تو سیدہ ؓ نے دیکھا کہ دو فرشتے رحمت عالمیان ﷺ پر سایہ کناں ہیں نیزہ دوران سفر کے خوارق و کرامات کے واقعات نے سیدہ ؓ کو آپ کا گرویدہ کر دیا۔

سیدہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح:

سیدہ ؓ مالدار ہونے کے علاوہ فراخدل اور قریش کی عورتوں میں اشرف و انسب تھیں۔ بکثرت قریشی آپ سے نکاح کرنے پر آمادہ تھے لیکن آپ نے کسی کے پیغام کو قبول نہ فرمایا بلکہ سیدہ نے سرکار ابدقرار ﷺ کی بارگاہ میں نکاح کا پیغام بھیجا اور اپنے چچا عمرو بن اسد کو بلایا۔ سردار دو جہاں ﷺ بھی اپنے چچا ابو طالب‘ حضرت حمزہ ؓ ‘ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور دیگر روساء کے ساتھ سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان پر تشریف لائے۔ جناب ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا۔ ایک روایت کے مطابق سیدہ رضی اللہ تعالی عنہا کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ سونا تھا۔ (ایک اقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتا ہے( بوقت نکاح سیدہ رضی اللہ تعالی عنھا کی عمر چالیس برس اور آقائے دو جہاں ﷺ کی عمر شریف پچیس برس کی تھی۔ جب تک آپ حیات رہی آپ کی موجودگی میں پیارے آقا ﷺ نے کسی عورت سے نکاح نہ فرمایا۔

غم گسار بیوی:

غار حرا میں حضرت جبرائیل علیہ السلام بارگاہ رحمت العالمین ﷺ میں وحی لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا پڑھیے حضور ﷺ نے فرمایا کے ما انا بقاری میں پڑھنے والا نہیں یعنی کسی سے میں نے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا۔ اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے اپنی آغوش میں لیا اور پوری طاقت سے دبایا پھر جبرائیل علیہ السلام نے حضور اکرم ﷺ کو چھوڑ کر دوبارہ کہا پڑھیے۔ آپ نے کہا میں پڑھنے والا نہیں ۔ جبرائیل ؑ نے پھر آغوش میں لے کر بھینچا پھر چھوڑ کر کہا پڑھیے آپ نے کہا میں پڑھنے والا نہیں۔ تیسری مرتبہ پھر جبرائیل ؑ نے آغوش میں لیا اور بھینچا اور کہا۔(ترجمہ) پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔ آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔
اس پرمژدہ واقعہ سے آپ کی طبیعت بے حدمتاثر ہوئی گھر واپسی پر سیدہ ؓ سے فرمایا زملوانی زملوانی مجھے کمبل اڑھائو مجھے کمبل اڑھائو۔ سیدہ ؓ نے آپ ﷺ کے جسم انور پر کمبل ڈالا اور چہرہ انور پر سرد پانی کے چھینٹے دیئے تاکہ خشیت کی کیفیت دور ہو۔ پھر آپ ﷺ نے سیدہ ؓ سے سارا حال بیان فرمایا۔ سیدہ خدیجہؓ نے آپ ؐ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی آپؐ کے ساتھ اچھا ہی فرمائے گا۔ کیونکہ آپ صلہ رحمی فرماتے ‘ عیال کا بوجھ اٹھاتے‘ ریاضت و مجاھدہ کرتے‘ مہمان نوازی فرماتے‘ بے کسوں اور مجبوروں کی دستگیری کرتے‘ محتاجوں اور غریبوں کے ساتھ بھلائی کرتے لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے‘ لوگوں کی سچائی میں ان کی مدد اور ان کی برائی سے خذر فرماتے ہیں۔ یتیموں کو پناہ دیتے ہیں سچ بولتے ہیں اور امانتیں ادا فرماتے ہیں۔ سیدہ ؓ نے ان باتوں سے حضور ؐ کو تسلی و اطمینان دلایا ۔ کفار قریش کی تکذیب سے رحمت عالم ﷺ جو غم اٹھاتے تھے وہ سب سیدہ ؓ کو دیکھتے ہی جاتا رہتا تھا اور آپ ؐ خوش ہو جاتے تھے اور جب سرکار ابد قرار ﷺ تشریف لاتے تو وہ آپ ؐ کی خاطرمدارات فرماتیں جس سے ہر مشکل آسان ہو جاتی۔

سابق الایمان:

مذہب جمہور پر سب سے پہلے علی الاعلان ایمان لانے والی سیدہ خدیجہ ؓ ہیں۔ کیونکہ جب سرور دو جہاں ﷺ غار حرا سے تشریف لائے اور ان کو نزول وحی کی خبر دی تو وہ ایمان لائیں۔ بعض کہتے ہیں ان کے بعد سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ایمان لائے بعض کہتے ہیں سب سے پہلے سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالی ایمان لائے اس وقت آپ کی عمر شریف دس سال کی تھی۔ شیخ ابن الصلاح فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ محتاط اور موزوں تر یہ ہے کہ آزاد مردوں میں حضرت ابوبکر صدیقؓ ‘ بچوں اور نو عمروں میں حضرت علی ؓ عورتوں میں سیدنا خدیجہ ؓ اور موالی میں زہد بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ اور غلاموں میں سے حضرت بلال حبشی ؓ (بحوالہ مدارج النبوۃ)۔
سیدہ رضی اللہ تعالی عنھا کی فراخد لی: سیدہ رضی اللہ تعالی عنھا کے نکاح کے بعد حاسدین نے جناب سیدہ ؓ کی بارگاہ عالیہ میں نازیبا کلمات کی بوچھاڑ کر دی۔ کہنے لگے سیدہ ؓ نے مالدار ہونے کے باوجود والئی بیکساں ﷺ سے نکاح کر لیا۔ان کلمات نے سیدہ ؓ کو بے چین کر دیا۔ آپ نے تمام روسا کو بلا کر گواہ کیا کہ میں نے اپنا تمام مال مالک کونین ﷺ کے حضور پیش کر دیا ہے اب اگر مفلس ہوں تو میں ہوں اور یہ حضور ﷺ کا کرم ہو گا اگر وہ میری مفلسی پر راضی ہو جائیں۔ حاضرین مجلس بہت ہی حیران ہوئے اور کہنے لگے حضورﷺ بہت ہی مال والے ہیں اور حضرت خدیجہ ؓ اب مفلس ہو گئیں۔ حضرت خدیجہ ؓ نے جب یہ بات سنی تو آپ کو بہت بھلی معلوم ہوئے اور اس عار کو اپنے لئے فخر سمجھا۔ حضور ﷺ سیدہ رضی اللہ تعالی عنھا کی اس فراخدلی پر بہت خوش ہوئے اور دل میں سوچا کہ خدیجہ ؓ کی اس فراخدلی کا کیا صلہ دوں۔ اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اورعرض کیا خدیجہ ؓ کے اس جذبہ کا صلہ اللہ تعالی کے ذمہ ہے ۔
حضور ﷺ کا ارشادگرامی ہے کہ خدیجہ ؓ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جبکہ لوگ میری تکذیب کرتے تھے اور انھوں نے اپنے مال سے میری ایسے وقت مدد کی جبکہ لوگوں نے مجھے محروم کر رکھا تھا۔
اولادکرام: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد سیدہ خدیجہ ؓ کے بطن سے پیدا ہوئی۔ بجز حضرت ابراہیم ؓ کے جو سیدہ ماریہ قطبیہ ؓ سے پیدا ہوئے فرزندوں میں حضرت قاسم ؓ اور حضرت عبداللہ ؓ کے اسمائے گرامی مروی ہیں جبکہ دختران میں سیدہ زینب ‘ سیدہ رقیہ‘ سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ الزہراؓ ہیں۔
وصال: آپ رضی اللہ تعالی عنھا تقریباً پچیس سال حضور پر نور شافع یوم النشور ﷺ کی شریک حیات رہیں۔ آپ کا وصال بعثت کے دسویں سال ماہ رمضان میں ہوا۔ اور مقبر ہ حجون میں مدفون ہیں۔ حضور ؐ آپ کی قبر میں داخل ہوئے اور دعائے خیر فرمائی۔ نماز جنازہ اس قوت تک مشروع نہ ہوئی تھی۔ اس سانحہ پر رحمت عالم ؐ بہت زیادہ ملول و محزون ہوئے۔

ذکر خیر:

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنھا کا اکثر ذکر فرماتے رہتے تھے۔ بعض اوقات حضور ﷺ بکری ذبح فرماتے اور پھر اس کے گوشت کے ٹکڑے کر کے حضرت خدیجہ ؓ کی سہلیوں کے گھر بھیجتے صرف اس لئے کہ یہ حضرت خدیجہ ؓ کی سہلیاں تھیں۔

Umm Al-mu’minin Hazrat Khadiba al-Kabri (may Allaah have mercy on her
Most Heavenly Women,
Marriage of Sayyidah,
Wives of the Prophet,
Mother of Muslims,

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے