عمومی مضامین˛Mixed essay

آپ کا سوال : کالا جادو کیا ہے؟ اور کیا یہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟

Posted On مارچ 5, 2020 at 11:56 شام by / No Comments

از: خالد اسحاق راٹھور۔
سوال:

کالا جادو کیا ہے؟ اور کیا یہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟

جواب:
جادو یا کالے جادو کا موضوع اپنے اندر کافی زیادہ طوالت لیے ہوئے ہے۔ کالے جادو کو سمجھنے کے لیے ہمیں کچھ پیچھے جانا ہو گا۔ ہمارے ہاں عام طور پر عملیات کے حوالے سے دو اصطلاحات مروج ہیں۔

اول: نوری
دوم: کالا

کالا علم ہی دراصل جادو یا صرف جادو یا شیطانی علم یا ہندوں یا عیسائیوں کے نام سے بھی مروج ہے۔ ان علوم کی یہ تشریح مکمل درستگی کی حامل نہیں ہے۔اُردو کی طرح انگلش میں بھی جادو کے حوالے سے بھی دو اصطلاحات مروج ہیں۔

اول: وائٹ میجک( سفید /نوری علم)White Magic

دوم: بلیک میجک( کالا جادو)Black Magic

اگر ہم عمومی حوالے سے نوری یا کالے علم کی تعریف کریں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی مذہب کے پیر و کار نوری علم یا وائٹ میجک اُس روحانی علم کو کہتے ہیں جو ان کے مذہب یا عقیدے کے مطابق درست ہو اور مروجہ مذہبی تعلیمات کے برعکس یاکسی بھی طور پراُن کی نفی کرتی ہوئی بات نہ ہو تو ایسا روحانی علم اُس مذہب کے ماننے والے کے نزدیک نوری یا وائٹ میجک کہلائے گا۔ اسی طرح وہ روحانی علم جو ایسے اصول و قواعد یا اعمال پر مبنی ہو جو مروجہ مذہب اور اُس کی تعلیمات کے برخلاف یا ٹکرائو کے حامل ہوں تووہ علم کالاعلم یا بلیک میجک کہلائے گا۔
دراصل کالا علم یا بلیک میجک میں جو الفاظ( کالا/Black) استعمال ہوا ہے وہ اندھیرے اور تاریکی کا نمائندہ ہے۔ یعنی تاریکی کو منفی‘ نحس اور برا خیال کرتے ہوئے منفی جادو کو اس سے منسوب کر دیا گیا ہے حالانکہ تاریکی یا اندھیربذات خود نہ تو نحس ہیں نہ بُرے۔ رات اور دن و تاریکی اور اُجالا یہ سب اللہ تعالی کی تخلیق ہیں اور کیوں کہ فی النفس بُرے ہوسکتے ہیں۔ روحانی حوالے سے دیکھیں تو ارتکاز توجہ و مراقبہ اور تفکر کے لیے رات کوہی بیٹھنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اور اگر مذہب اسلام کو دیکھیں تو خصوصی عبادت یعنی تہجد کے لیے رات کا تعین خود اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں کیا ہے۔ مطلب یہ کہ ہم اندھیر سے جو کالے علم کو تعبیر کرتے ہیں یہ بھی غلط ہے۔کوئی بھی علم ہو ذاتی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس کا حقیقی کردار اس کے طریقہ استعمال ہی سے ظاہرہوتا ہے۔ سو کالے علم کو حقیقی معانی میں سمجھنے کے لیے اس کے نام میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ یعنی کالے علم کی اصطلاح کی بجائے اس کا نام منفی علم یا نقصان پہنچانے والا علم ہونا چاہیے۔ دراصل کالا علم صرف وہ نہیں ہے جس میں شیطان یا جن بھوت یا کسی دیوی ‘ دیوتا وغیرہ سے مدد لی جائے بلکہ ہر وہ عمل جو منفی مقاصد کے لیے یا کسی کو کسی بھی طرح کی تکلیف پہنچانے یا نقصان پہنچانے یا اُس کے جائز حق میں محروم کرنے کے لیے کیا جائے دراصل کالے علم کے احاطہ کار میں آتا ہے یعنی حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ عمل جس کے پیچھے بدنیتی کارفرما ہو وہ اپنی اصل میں نوری علم یا وائٹ میجک کہلانے کی بجائے کالا علم یا بلیک میجک کہلائے گا۔
یعنی ایسے اعمال جو اپنی اصل میں خلاف مذہب ہوں اور ان میں غیر اللہ‘ شیطان کسی انسان یا کسی دیوی یا دیوتا سے مدد مانگی گئی ہو یا اُسے ہی کام ہونے کی وجہ قرار دیا گیا ہو کالے علم میں آتے ہیں۔بلکہ وہ تمام اعمال بھی جن میں خلاف شریعت کاموں کے لیے روحانی اعمال تیار کیے جائیں وہ بھی کالے علم میں ہی آتے ہیں۔کیونکہ جس کام کی مذہب یا شریعت اجازت نہ دے اُس کا کرنا درست نہ ہو گا اور جو کام درست نہیں ظاہر ہے وہ غلط ہے اور جو غلط ہے وہ نور یا روشنی نہیں ہو سکتا۔
جہاں تک آپ کے اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا کالا علم جائز ہے یعنی اسے کرنا چاہیے کہ نہیں۔ ہمارے یہاں مروجہ کالا علم کرنے والے ہندئوں کی دیوی اور دیوتائوں کے نام کے چِلے اور وظیفے کرتے ہیں جو شرعاً درست نہیں۔ اسی طرح عیسائی عامل کہلانے والے بھی غیر اللہ اور شیطانی اعمال کے ہی علمبردار ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ بات آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے تحریر کرتا چلوں کہ یہاں جو عامل عیسائی علم کرتے ہیں اور اپنے آپ کو بہت بڑا عیسائی عامل کہتے ہیں ان میں سے شاید ہی کوئی عیسائی ہو ان کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہے صرف عیسائی کا لفظ استعمال کر کے یہ دوسروں کے مذہب کو بھی بدنام کرتے ہیں۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے