عمومی مضامین˛Mixed essay

آپ کا سوال . بعض بزرگ تصوف کے لیے اسلامی تصوف کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ یہ کس حد تک درست ہے؟

Posted On مارچ 5, 2020 at 5:00 شام by / No Comments

آپ کا سوال

سوال: بعض بزرگ تصوف کے لیے اسلامی تصوف کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ یہ کس حد تک درست ہے؟

جواب: یہ کائنات اور اس میں پھیلے ہوئے علوم کے چشمے بہت قدیم ہے۔ اسلام آخری الہامی مذہب ہے اور عمومی روایتوں کے مطابق سوا لاکھ پیغمبر اس زمین پر اپنے اپنے زمانوں میں احکام الہی کی تبلیغ کے لیے اللہ کی طرف سے مقرر ہوئے۔
یعنی اسلام کی آمد سے بہت عرصہ قبل سے اللہ کی طرف سے مخلوق کو تعلیم دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج موجودہ علوم کی ایک بہت بڑی تعداد دراصل اسلام کے ظہور سے قبل اپنی خاص اشکال اختیار کر چکی تھیں۔
تصوف بھی اِن علوم میں سے جو اسلام سے بہت قدیم ہیں۔ یونانی قوم تصوف کے اثرات سے بہت زیادہ متاثر تھی۔ ان سے یہ علم یہودیوں میں آیا۔ تاہم یہودیوں میں ہی زیادہ نفوذ حاصل نہ کر سکاصرف ایک حد تک ہی جگہ پا سکا۔یہودیوں سے یہ عیسائیوں میں آیا اور یہاں خوب ترقی پائی۔ پولوس عیسائی مذہب میں اس کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ جس نے باقاعدہ طور پر تصوف کو ایک مستند شکل دی۔
عیسائیوں سے یہ مسلمانوں میں داخل ہوا۔ تاہم اسلام میں تمام اصحاب علم کی سند نہ پاسکا۔ بہت سے علماء نے اس کی نفی کی‘ بہت سو نے اِن کو درستگی کی سند دی اور کئی ایک اس بارے میں خاموش بھی رہے۔
بہرحال باقاعدہ طور پر تیسری صدی ہجری میں یہ اسلامی لبادہ لیے ہوئے اسلام میں داخل ہوا۔(امام قشتری کے خیال میں تصوف دوسری صدی ہجری میں اسلام میں داخل ہو چکا تھا)۔
کشف الظنون کے مطابق جو پہلا شخص صوفی کے لقب سے پکارا گیا وہ ابو ہاشم تھا۔ اسلام میں باقاعدہ تعلیم تصوف کی ذوالنوان مصری نے دی۔
تصوف کیونکہ ایک دوسرے مذہب سے اسلام میں داخل ہوا سو تصوف کے نظریات کی اصطلاح یا اسلام سے متصادم نظریات سے دور رہنے کے لیے اسلامی تصوف کی اصطلاح مروج ہوئی۔
گو کہ تصوف اسلام میں کسی بھی صورت میں دوسری صدی ہجری سے پہلے نہ تھا۔ تاہم پھر بھی اس کا تعلق یا سر چشمہ آنحضرت ﷺ کی ذات کو بتایا جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت علی ؓ سے منسوب کرتے ہوئے یہ سلمان فارسی اور حسن بصری کے سلسلوں سے آج ہمارے تک پہنچانا خیال کیا جاتا ہے۔
اسلامی تصوف کی اصطلاح اس لیے بھی بعض بزرگوں نے استعمال کی کہ پہلے
شریعت اور طریقت
یعنی دین اور تصوف
الگ الگ نہ تھے۔ تاہم رفتار زمانہ سے یہ الگ ہو گئے اور تصوف میں ایسی باتوں کا اضافہ ہونے لگا جو اصل روح اسلام کے خلاف تھیں۔ سو جو بزرگ تصوف اور اسلام کو ساتھ رکھنا چاہتے تھے لیکن وہ اس بات کے بھی خواہش مند تھے کہ تصوف میں غیر اسلامی مزاج کی آمیزش نہ ہوتو انہوں نے غیر اسلامی یا اسلام سے متصادم نظریات کی روک تھام کے لیے اسلامی تصوف کے نظریہ کو فروغ دیا تاکہ تصوف کو غیر اسلامی نظریات سے پاک اور محفوظ رکھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے