عمومی مضامین˛Mixed essay

صفات اسمائے الہی

Posted On مارچ 5, 2020 at 1:31 شام by / No Comments

 

صفات اسمائے الہی

یہ مضمون قبل از آزادی کے عظیم عالم دین شمس العلما مولوی (ڈپٹی) نذیر احمد صاحب کا تحریر کردہ ہے۔

 

اقوام روزگار میں دوسری قومیں اللہ کے بارے میں جیسے کچھ خیالات رکھتی ہوں وہ جانیں اور اُن کی عقلیں۔ ہم کو بڑا خیال مسلمانوں کا ہے کہ اُن کے ہاں بڑا زور توحید پر ہے‘ مگر عملاًاُنہوں نے مشرکوں کی کوئی ادا نہ چھوڑی جس کی نقل نہ کی ہو۔ الا ماشاء اللہ وقلیل ما ھم وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون اس کو ہر شخص اپنی جگہ سمجھ لے۔ معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ یعلم خائنۃ الاعین وما نخفی الصدور۔

اللہ کے بارے میں اسلامی عقیدہ ایسا سیدھا اور صاف ہے کہ اس سے زیادہ سیدھا اور صاف عقیدہ ہو نہیں سکتا۔اسلام مخلوقات سے اللہ کی ذات و صفات کا پتہ چلاتا ہے‘ اور یہی وہ رستہ ہے جسے موصل الی المطلوب کہہ سکتے ہیں۔ مخلوقات سے ہم کو اتنی بات کا پتہ چلتا ہے کہ کارخانہ عالم کو بنانے والا اور سنبھالنے والا کوئی ہے ۔ او ر وہ کوئی ان چیزوں میں سے نہیں جن کو ہم معلوم کر سکتے ہیں۔ بس سوائے اس کے ہم اللہ کی ذات کے بارے میں اور کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ اور عقل انسانی کی رسائی یہیں تک ہے۔

اب رہیں صفات‘ تو کارخانہ عالم اور اس کے انتظام سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اُس کا بنانے والا اور اس کے انتظام کا چلانے والا ان صفتوں سے متصف ہو‘ یعنی اُس میں وہ کمالات ہوں جو اس کے صفاتی ناموں ے ظاہر ہوتے ہیں۔ اللہ کے ننانوے نام ہیں جو نو دو نہ نام کر کے مشہور ہیں۔ ان میں سے ایک نام اللہ اسم ذات مان لیا گیا ہے۔ اگرچہ معبود ہونے کی حیثیت سے اللہ کو بھی اسم صفت کہہ سکتے ہیں مگر آخر اتنے سارے صفاتی نام ہوں تو کوئی اسم ذات بھی ہونا چاہیے ‘ اور وہ اللہ ہے۔ باقی رہے اٹھانوے نام‘ وہ کسی نہ کسی صفت پر دلالت کرتے ہیں۔ اسمائے صفاتی کے بارے میں بھی ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ صفتیں بھی اللہ میں ہونی ضرور ہیں بس اس سے زیادہ ہم اس کے صفات کی توضیح نہیں کر سکتے۔ مثلا ہم کہتے ہیں کہ اللہ سمیع ہے‘ سب کی سُنتا ہے۔ تو اس کے یہ معنی ہیں کہ جو علم ہم بنی آدم کو حاشہ سمع کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے وہ علم علٰی وجہ الکمال اللہ کو بھی ہے۔ نہ یہ کہ ہماری طرح کے اس کے کان ہیں۔ ہمارے سُننے کا تو یہ حال ہے کہ بولنے والا آواز کے ذریعہ سے ہوا میں تموّج پیدا کرتا ہے اور وہ تموج کان کے پردے سے ٹکراتا ہے‘ اور ہم کو آواز کا علم ہو جاتا ہے۔ اللہ اس طرح کا علم تو رکھتا ہے مگر وہ بے نیاز کان کا‘ اور ہوا کے تموّج کا محتاج نہیں۔ اور اسی طرح پر اللہ کی دوسری صنعتوں کو قیاس کر لو۔ یہ صفتیں ہم نے اپنے اُوپر قیاس کر کے اللہ میں مان لی ہیں۔ مگر ہماری صفات ناقص ہیں۔ اللہ کی کامل و اکمل۔ جیسے ذرّے کی چمک اور آفتاب کی جگمگاہٹ۔ مزید توضیح کے لیے اسماء الحسنیٰ کے تین نقشے درجِ کتا ب ہوتے ہیں۔

ان نقشوں کے ذریعے سے اللہ کے اسماء ذاتی و صفاتی معلوم ہوں گے‘ اور یہ بھی کہ اللہ کے کون کون اسماء ایسے ہیں جو قرآن میں بعینہ تومذکور نہیں‘ مگر اُن کے مادے اور مشتقات مذکور ہیں۔ اور نیز اسماء کے تراجم اُردو بھی معلوم ہوں گے۔

نمبر شمار اسماء عربی ترجمہ اُردو کیفیت
1 اللہ خدا۔ معبود اگرچہ لفظ اللہ میں وصفی معنے موجود ہیں اور اس اعتبار سے اس کو بھی اسماء صفاتی میں ہونا چاہیے‘ مگر سب نے اجماع کر کے اس کو اسم ذات قرار دیا ہے۔
2 الرحمن نہایت رحم والا دونوں مبالغے کے وزن ہیں‘ مگر رحمن بلغ ہے۔ کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں کی رحمت کو شامل اور صرف خدا کی مقدس ذات کے ساتھ مخصوص ہے۔
3 الرحیم بہت مہربان ایضا
4 الملک باد شاہ ملک راحض اور ابلغ ہے مالک سے۔ یعنی دونوں میں عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ہر ملک کو مالک تو کہہ سکتے ہیں مگر ہر مالک کو مَلِک نہیں کہہ سکتے۔
5 القدوس تمام عیبوں سے پاک ۔
6 السلام تمام نقصانات سے محفوظ یہ اصل میں مصدر ہے بمعنی سلامت۔ مگر یہاں سالم کے معنی میں ہے۔ یعنی وہ جس کی ذات ہر طرح کے عیب اور نقصان سے سالم اور محفوظ ہے۔
7 المومن اپنے وعدہ میں سچا یا اپنے عذاب سے امن دینے والا لفظ مومن کا اخذ امن و امان ہے یا ایمان۔ اگر امن و امان ہی تو مومن کے معنی ہوئے امن دینے والا‘ یعنی دنیا میں اسباب امن کا مہیا کرنے والا یا عقبیٰ میں نیکو کاروں کو عذاب سے امان میں رکھنے والا۔ اور اگر ماخذ ایمان ہے تو مومن کے معنی ہوئے مصدق یعنی ایمانداروں کے ایمان کو باور کرنے والا۔
8 المھیمن نگہبان یا گواہ المھیمن کا لفظ وہی المومن ہے۔ المومن باب افعال سے ہے اور المہیمن باب مفاعلہ سے تو المہیمن اصل میں المومن تھا۔ دوسرے ہمزے میں قاعدہ تلیئین جاری کر کے اُسے یے سے بدل لیا اور پہلے ہمزے کو ہے سے۔ معناً المومن و المہیمن ایک ہیں۔
9 العزیز غالب ‘ قوی ‘ قاہر اصل میں عزیز اُسے کہتے ہیں جس کی بارگاہ میں بہ آسانی پہنچنا ممکن نہ ہو۔
10 الجبار بڑا دبائو والا جبار مبالغے کا صیغہ ہے جبر سے مشتق اور جبر کے اصل معنی ہیںٹوٹے ہوئے کو جوڑنا اور کسی کے حال کی اصلاح کرنا اور کسی کو زورو غلبہ سے کسی کام پر آمادہ کرنا پہلی صورت میں یہ اسم جمالی ہو گا اور دوسری میں جلالی۔
11 المتکبر بڑی عظمت و بزرگی والا تکبر اور استکبار کہتے ہیں گردن کشی کرنے اور بزرگی کرنے کو۔ اور ایک لفظ ہے کبریا جس کے معنی ہیں بزرگی۔ یہاں متکبر سے مراد ہے کمال بزرگی والا۔
12 الخالق ہر چیز کا پیدا کرنے والا خالق اور باری اور مصور تینوں مترادف المعنی ہیں تینوں کے معنی ہیں پیدا کرنا‘ احتراع کرنا۔ مگر باعتبار استعمال ہر ایک کے ساتھ ایک خصوصیت جداگانہ ہے۔ مثلا خلق مستعمل ہوتا ہے۔ کسی چیز کے وجود میں لانے سے پیشتر اُس کے اندازہ کرنے میں اور برئہ ایجاد و پیدا کرنے میں اور تصویر صورت بنانے اور ہیت بخشنے میں۔ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جو چیز عدم سے وجود میں آتی ہو وہ محتاج ہوتی ہو۔ اولاً اندازہ کرنے کی‘ ثانیاً پیدا کرنے کی‘ ثالثاً صورت بنانے کی۔
13 الباری ہر چیز کا موجد بمطابق نمبر شمار12
14 المصور تمام مخلوقات کی طرح طرح کی صورتیں بنانے والا بمطابق نمبر شمار12
15 الغفار بہت بخشنے والا مبالغہ ہے غافر کا اور ایک ہی غفور۔ یہ بھی مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس میں غفار کی بہ نسبت مبالغہ زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے دونوں کا الگ الگ ذکر کیا گیا۔ غفار کیا گیا ہے۔ غفران اور مغفرت سے جس کے معنی ہیں بخشنا مگر کبھی غفر بمعنے ستر بھی آتا ہے۔ اُس وقت اُس کے معنے ہوں گے گناہوں کا چھپانے والا۔
16 القھار زبردست یا غلبہ رکھنے والا ۔
17 الوھاب بخشش اور عطا کرنے والا وہب اور ہبہ کہتے ہیں بخشنے اور عطا کرنے کو۔ موہبت بخشش۔ وہاں مبالغہ ہے بغیر کثیر الہیہ و اتم العطا۔
18 الرزاق مخلوقات کو روزی پہنچانے والا یہ بھی رازق کا مبالغہ ہے یعنی اللہ تعالی تمام مخلوق کو مناسب حال اور موافق حکمت رزق پہنچاتا ہے۔ رزق کی دو قسمیں ہیں۔ محسوس اور معقول۔ محسوس ابادن کے لیے‘ اور معقول ارواح کے واسطے۔
19 الفتاح مشکل کُشا یا بندوں میں حکم کرنے والا فتح کے معنی کھولنے اور حکم کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالی اپنی مخلوقات پر رحمت کے دروازے کھولتا ہے اور وہ خلائق میں حاکم علی الاطلاق ہے۔
20 العلیم بہت جاننے والا مبالغہ ہے عالم کا‘ یعنی اللہ تعالی ظاہر و پوشیدہ بلکہ خطرات دل کا جاننے والا ہے۔
21 القابض بندوں کی روزی محدود یعنی نپی تلی کرنے والا قبض و بسط دونوں باہم ضدیکدلر ہیں۔ قبض کہتے ہیں تنگی و گرفتگی کو اور بسط فراخی و کشائش کو۔ یعنی اللہ جس کی روزی چاہتا ہے تنگ کرتا اور جس طرح کی چاہتا فراخ کرتا ہے۔
22 الباسط بندوں کی روزی فراخ کرنے والا قبض و بسط کے یہ معنی بھی ہیں کہ سوتے میں لوگوں کی روحین قبض کرتا اور بیداری کے وقت بسط کرتا ہے۔
23 الخافص نافرمانوں کو پست کرنے والا خفض مند ہے رفع کی۔ کیونکہ خفض کہتے ہیں پست کرنے کو اور رفع بلند کرنے کو۔ اللہ کے خافض و رافع ہونے کی یہ معنی ہیں کہ وہ اپنے فرمانبرداروں  کو قرب کی دولت عطا فرما کر اُنہیں بلند کرتا‘ اور نافرمانوں کو بارگاہ عالی سے دور کر کے پستی میں ڈالتا ہے۔
24 الرافع فرماں برداروں کو بلند کرنے والا بمطابق نمبر شمار23
25 المعز عزت دینے والا اعزاز کہتے ہیں عزیز کرنے کو‘ اور اذلال خوار و ذلیل کرنے کو۔ یعنی اللہ جسے چاہتا  عزیز کرتا ‘ دنیا میں توفیق طاعت دے کر اور عقبی میں علُّو مرتبت اور نعیم جنت عطا فرما کر۔ اور جسے چاہتا ذلیل کرتا‘ دنیا میں توفیق طاعت سلب کر کے اور آخرت میں اسفل السافلین میں داخل کر کے۔ امام غزالی کا قول ہے کہ ان لفظوں کے معنی یہ ہیں کہ جسے چاہتا ملک دیتا اور جس سے چاہتا چھین لیتا ہے۔
26 المذل ذلیل کرنے والا بمطابق نمبر شمار25
27 السمیع بہت سُننے والا ۔
28 البصیر بہت دیکھنے والا ۔
29 الحکم مخلوقات کا حاکم ۔
30 العدل منصف یعنی فیصلے میں ظلم نہ کرنے والا یہ ضد ہے ظلم کی‘ اور کبھی استقامت اور اعتدال اور ایک چیز کو ایک چیز کے برابر کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ جوروظلم سے منزہ ہے کیونکہ ملک غیر میں تصرف کرنے کو ظلم کہتے ہیں اور عالم میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اُس کی ملک سے خارج ہو۔
31 اللطیف باریک بین لُطف کہتے ہیں کسی کام میں نرمی کرنے کو اور کبھی نیکی کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔
32 الخبیر آگاہ‘ دانا‘ عالم‘ عارف مشتق ہے خبر سے‘ اور خبر کے مغنی ہیں آگاہی کے۔ خبیر آگاہ اور دانا۔ یعنی ملک ملکوت میں کوئی چیزمتحرک و ساکن نہیں ہوتی اور زمین و آسمان میں کاوئی ذرہ مضطرب و مطمئن نہیں ہوتا‘ اور کون و مکان میں کوئی سانس نہیں لیتا مگر خدائے تعالی جس سے خبردار ہوتا ہے۔
33 الحلیم بُردبار علم آہستگی اور بُردباری۔ حلیم اُسے کہتے ہیں جو مغلوب الغضب نہ ہو اور انتقام لینے میں جلدی نہ کرے‘ بلکہ باوجود اقتدار کے عفو و درگزر سے کام لے۔ اللہ کو حلیم اس لیے کہا کہ وہ گنہگار بندوں کی تادیبب و تعذیب میں جاری نہیں کرتا۔
34 العظیم بزرگ ‘ بڑا عظیم و عظمتہ بزرگ ہونا خواہ کسی اعتبار سے بھی ہو۔
35 الغفور بہت بخشنے والا غفار کے معنی میں ہے‘ اور دونوں مبالغے کے صیغے ہیں‘ مگر غفور میں زیادہ مبالغہ ہے یعنی جو بڑے بڑے گناہ بخشے اور اس کی بخشش اتم و اکمل ہو۔دوسرے معنی یہ ہیں کہ بندوں کے گناہ اعمال ناموں سے خود کرے یعنی حساب نہ لے۔ یا دنیا میں پردہ فاش نہ کرے کیونکہ غفر کے معنے مٹانے اور چُھپانے کے بھی آیا کرتے ہیں۔
36 الشکور بڑا قدرشناس ۔
37 العلی بہت اُونچا مشتق ہے علو سے۔ اور علو کہتے ہیں بلندی کو اور جگہ کے بلند ہونے کو‘ اور کبھی بلندی پر چڑھنے اور کبھی چیز کے اوپر ہونے کو بھی علو کہتے ہیں۔ اور اس کی دو قسمیں ہیں۔ حسی اور عقلی ۔ حسی جیسے ایک جسم کا دوسرے جسم پر ہونا۔ اور عقلی جیسے ایک چیز کا دوسری چیز سے فوق المرتبہ ہونا۔ اللہ تعالی چونکہ سب سے بلند ہے اور مرتبے میں سب سے بالاتر اس لیے اُسے علی کہتے ہیں۔
38 الکبیر بڑا‘ بزرگ ۔
39 الحفیظ نگہبان حفظ کہتے ہیں نگاہ رکھنے والے کو۔ اور اللہ تعالی چونکہ تمام مخلوق کو آفت و بلا سے محفوظ رکھتا ہے اس لیے اُسے حفیظ کہتے ہیں۔
40 المقیت مخلوق کو قوت یعنی روزی پہنچانے والا ماخوذ ہے قوت سے اور قوت کہتے ہیں اُس خورش کو کو جو بدن انسان کے قیام کا باعث ہو اور اقامت کے معنی قوت دنیا اور کبھی مقیت توانا اور گواہ اور حاضر اور نگاہ رکھنے والے کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔
41 الحسیب کافی معنی میں ہے محسب کے اور احساب کہتے ہیں کسی چیزکا کافی ہونا۔ بولا کرتے ہیں احسبنی الشیء یعنی مجھے یہ چیزکافی ہوئی۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ معنی میں ہے محاسب کے‘ جیسے جلیس معنی ہیں مجالس کے اور ندیم مناد کے۔ یعنی اللہ تعالی قیامت کے روز ساری مخلوق کا حساب لے گا۔
42 الجلیل بزرگ قدر جلال اور جلالت کہتے ہیں بزرگ قدر ہونے اور نیز بزرگی کو پھر اصطلاح قوم میں صفات قہر سے کے ظہور آثار کو جلال کہتے ہیں۔ اور صفات لطیفہ کے ظہور آثار کو جمال۔ اور بولنے میںآتا ہے کہ فلاں اسماء جلالی ہیں اور فلاں جمالی۔
43 الکریم بزرگ اس کے معنی ہیں بزرگ اور عزیز۔ کہتے ہیں کریم وہ ہے کہ قادر ہو تو معاف کر دے‘ اور دے تو اُمید سے زیادہ دے‘ اور کوئی اُس کی طرف التجا لے جائے تو اُسے ضائع نہ ہونے دے۔ کبھی مکرم اور جواد کے معنی میں بھی آتا ہے۔
44 الرقیب نگہبان رقیب ‘ نگہبان اور موکل اور نگران۔ کذافی الصرح۔
45 المجیب دعا قبول کرنے والا اجابت کہتے ہیں جو اب دینے اور اجابت دعا کرنے کو۔ یعنی جو شخص اللہ کو بلاتا ہے وہ اُسے جواب دیتا اور دعا کو قبول کرتا ہے‘ سوال کو رد نہیں کرتا۔
46 الواسع وسیع المعلومات ماخودذ ہے سعتہ سے‘ اور سعتہ کہتے ہیں فراخی اور فراخ کرنے اور گھیر لینے کو پھر اس کی اضافت کبھی تو علم کی طرف ہوتی ہے اور کہتے ہیں اللہ کا علم وسیع محیط ہے‘ معلومات کو۔ اور کبھی احسان کی طرف بولا کرتے ہیں ‘ اُس کا آسمان وسیع ہے۔
47 الحکیم حقائق اشیاء کا عالم مشتق ہے حکمت سے۔اور حکمت عبادت ہے کمال علم اور حسنِ عمل اور ایقان اور احکام علم و عمل سے۔ بعضے کہتے ہیں حکیم مبالغہ ہے حاکم کا۔ اور حکیم وہ ہے جو حقائق اشیاء کا عالم ہو اور صناعات کے وقائق کو خوب جانتا ہو۔
48 الودود نیک بندوں کو دوست رکھنے والا مبالغے کا صیغہ ہے وزن پر مفول کے۔ودود(بفتح وائو) وِواد(بکسر وائو‘  اور مودت تینوں کے معنوں ہیں۔ دوست رکھنے کے۔ یعنی اللہ تعالی نیک بندوں کو دوست رکھتا ہے۔
49 المجید بزرگ‘ شریف ماجد کا مبالغہ ہے۔اور ماجد مجلہ سے لیا گیا ہے۔ مجد بزرگی مجید بزرگی کذانی الصراح۔ بعضے کہتے ہیں مجیدوہ ہے جس کی ذات شریف‘ افعال جمیل‘ عطا جزیل ہو۔ اور جب یہ ہے تو مجید جامع ہے اسم جلیل اور وہاب و کریم کو۔
50 الباعث مُردوں کو مرے پیچھے اُٹھا کھڑا کرنے والا بعثت کہتے ہیں مُردوں کو قبروں سے اُٹھا کر کھڑا کرنے کو‘ اور کبھی سوتے کو گانے اورکسی کو کسی کام کے لیے بھیجنے کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے۔
51 الشھید حاضر شہود سے مشتق ہے یا شہادت سے اگر شہود سے ہے تو اس کے معنی حاضر و مطلع کے‘ کیونکہ شہود کے لغوی معنی ہیں حاضر ہونے کے۔ اور شہادت سے ہے تو معنی گواہی دینے والے کے۔ کیونکہ شہادت کہتے ہیں گواہی دینے کو خدا کو شہید معنی کر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ظاہر و باطن اور غیب شہادت پر مطلع ہے۔ اور دوسرے معنی یہ کہ قیامت کے روز بندوں کے اعمال و احوال کی گواہی دے گا۔
52 الحق ثابت حق کے معنی ہیں ثابت اور ہست کے۔ اس کی ضد ہے باطل معنی نیست و ناچیز۔ کبھی صدف اور راستی اور درستی کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے۔
53 الوکیل کارساز وکیل وہ ہے جسے اپنا کام سپرد کریں اور تمام تصرف کی باگ اس کے ہاتھ میں دے دیں۔ چونکہ خدائے تعالی نے اپنے فضل و مہربانی سے بندوں کے تمام مہتم بالشان کام رزق وغیرہ اپنے ذمے لے لگیے ہیں اس لیے اُسے وکیل کہتے ہیں۔
54 القوی توانا‘ تام القدرت قوی‘ توانا‘ متین‘ استوار۔امام غزالی کہتے ہیں قوت دلالت کرتی ہے قدرت کاملہ بالغہ پر۔ اور متانت شدتِ قوت پر۔ اللہ تعالی قوی ہے اس لیے کہ قدرت کاملہ بالغہ رکھتا ہے۔ متین ہے اس لیے کہ شدید القوت ہے۔
55 المتین استوار بامطابق نمبر شمار55
56 الولی محب‘ مددگار ولی کہتے ہیں محب و ناصر کو۔ اور اللہ تعالی پرہیز گار ایمانداروں کا محب ہے۔ اور انہیں مد دو نصرت دیتا ہے۔ ولی متولی کے معنی میں بھی آیا ہے۔ اور حق تعالی نیکوکاروں کے اُمور کا متولی ہے۔ اور قریب کے معنے میں بھی یعنی اس کی رحمت نیکوکاروں کے لیے قریب ہے۔
57 الحمید متحق حمد سزاوارِ حمد و ثناء۔
58 المحصی ہر چیزکو احاطہ علم میں کرنے والا احصار شمار کرنا اور بطریق استقصاء کسی چیزکو جاننا ۔ اللہ محصیِ خلق ہے کہ اشیاء کے حقائق و دقائق کو جانتا ہے اور ذرات عالم کو اس کا علم محیط ہے۔
59 المبدی ابتداً پیدا کرنے والا المبدی ماخود ہے ابداء سے‘ ابدا کہتے ہیں ابتداء کرنے اور نیا پیدا کرنے کو۔ المعید لیا گیا ہے عادت سے جس کے معنی ہیں لوٹانے اور عدم کے بعد ایجاد کرنے کے۔اللہ مبدی ہے اس معنی کہ کہ وہ اول بار پیدا کرتا ہے‘ اور معید ہے اس معنے کہ قیامت میں دوبارہ پیدا کرے گا‘ یا معید مثلا اس اعتبار سے کہ رات دن کا چکر باندھ رکھا ہے۔
60 المعید دوبارہ پیدا کرنے والا بامطابق نمبر شمار60
61 المحیی مخلوق کو زندہ رکھنے والا المحیی۔ احیاء کا اسم فاعل ہے۔ اور احیاء کہتے ہیں جسم میں حیات پیدا کرنے کو۔
62 الممیت مارنے والا اور الممیت لیا گیا ہے اماتتہ سے جس کے معنی ہیں حیات پیدا کرنے کو۔
63 الحی زندہ ۔
64 القیوم کارخانہ عالم کا سنبھالنے والا قائم بذات خود اور زندہ رکھنے والا۔ اپنے غیر کو یا یوں کہو کہ قیوم مبالغہ قیتم کا اور قیتم کہتے ہیں مصلح اُمور کو۔
65 الواجد غنی مشتق ہے وجود سے‘ اور وجود کہتے ہیں ہستی اور مقصد پر کامیاب ہونے کو۔ یا مشتق ہے موجد اورجدۃ سے جن کے معنی تونگر ہونے کے۔
66 الماجد بزرگی والا معنی میں ہے مجید کے۔ جس طرح عالم معنی میں علیم کے۔ مگر مجید میں مبالغہ اور تاکید ہے۔ یہ لیا گیا ہے مجد سے اور مجد کہتے ہیں بزرگی کو۔
67 الواحد تنہا‘ یگانہ وحدت سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں ایک اور یگانہ ہونا۔ عرف میں واحد کا استعمال دو معنی میں ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ متجزی اور متبحض ہو یعنی اس کے اجزاء اور حصص نہ ہوں‘ جیسے جوہر فرد۔ دوسرے یہ کہ بے مثل و بے مانند ہو۔ واحد و راحد میں وہ فرق ہے جو ہماری زبان میںاکیلا اور ایک میں۔
68 الصمد بے نیاز صمد کے اصلی معنی ہیں قصد کے۔ چونکہ آدمی اپنے تمام مطالب میں بارگاہِ اللہ کا قصد کرتے ہیں‘ اس لیے اُسے صمد کہتے ہیں۔ غرض  صمد مراد ف ہے ‘ مرجع و آب کا۔
69 القادر قدرت والا قدر اور قدرت اور اقتدار اور مقدرت سب کے معنی ہیں توانائی کے۔ تو قادر و مقتدر کے معنی ہوئے صاحب قدرت۔
70 المقتدر صاحب مقدرت بامطابق نمبر شمار69مگر مقتدر میں مبالغہ ہے۔
71 المقدم اپنے دوستوں کو بارگاہ عزت کی طرف بڑھانیوالا مقدم دال کے کسری کے ساتھ تقدیم سے مشتق ہے۔ اور تقدیم کہتے ہیں آگے کرنے کو۔ اسی طرح موخر خے کے کسرے سے تاخیر سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں پیچھے ہٹانا۔ یعنی اللہ تعالی  فرمانبرداروں کو راہِ قرب میں آگے بڑھاتا‘ اور نافرمانوں کو درگاہ عزت سے دور کرتا اور پیچھے ہٹاتا ہے یا دنیا کے کاموں میں لو تو حصولِ مطلب میں تقدیم و تاخیر اللہ کے کرنے سے ہوتی ہے۔
72 الموخر دشمنوں کو اپنے لطف سے پیچھے ہٹانے والا بامطابق نمبر شمار71
73 الاول سب سے پہلا اول ہے‘ یعنی ازلی ہے‘ کہ اُس کے وجود کی ابتداء اور ہستی کا آغاز نہیں۔
74 الاخر سب سے پچھلا آخریعنی دائمی ابدی ہے کہ اُس کی بقا کے لیے نہایت اور دوام کے لیے نقصان نہیں۔
75 الظاہر آشکار ا ہی بلحاظ قدرت اللہ ظاہر ہے ۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ اُس کا وجود‘ اُس کی ہستی‘ اُن آیات و دلائل سے ظاہر ہے جو آسمان و زمین میں ہر صاحب بصیرت کو دکھائی دیتے ہیں اور اللہ کے باطن ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اُس کی کُنو ذات حجاب جلال میں محتجب و پوشید ہ ہے۔
76 الباطن پوشیدہ ہے باعتبار ذات بامطابق نمبر شمار75
77 الوالی تمام اُمور کا متولی ولایت بکسر وائو سے مشتق ہے‘ جس کے معنے تصرف کرنے اور قابو پانے کے ہیں اور ایک ہے ولایت بفتح دائو جس کے معنی مدد کرنے اور حکمرانی کرنے کے ہیں بعضے کہتے ہیں کہ ولایت بفتح وائو مصدر اور بکسر وائو اسم ‘ والی وہ جو سب کا مالک اور تمام کاموں کا متولی ہو۔
78 المتعالی مخلوقات کی صفات سے منزہ تمام حکمرانوں اور وُلات سے بلند قدر‘ یا تمام نقائص و آفات سے عالی شان۔
79 البر اپنے لطف سے بندوں کے ساتھ نیکی کرنے والا بّر۔ بفتح باسام فاعل ‘ بمعنی نیکی کرنے والا۔
80 التواب گنہگاروں کی توبہ قبول کرنے والا تّواب مبالغہ ہے تائب کا۔ اور تائب ماخوذ ہے توبہ سے۔ توبہ کے اصلی معنی ہیں رجوع کرنے کے۔ پھر جب اُس کی نسبت بندے کی طرف ہوتی ہے تو گناہ سے رجوع کرنا مراد ہوتا ہے اور اللہ کی طرف ہموتی ہے تو رحمت کے ساتھ رجوع کرنا‘ یعنی بندہ توبہ کرے تو اللہ اپنی عادت کے مطابق مہربانی کرنے لگتا ہے۔
81 المنتقم نافرمانوں سے بدلہ لینے والا انتقام کہتے ہیں بدلہ لینے کو یعنی اللہ تعالی کافروں سے اپنی نافرمانی کا بدلہ لینے والا اور اُن کے تمرد و سرکشی کی سزا دینے والا۔
82 العفو گناہوں کا مٹانے والا ۔
83 الروف بہت شفقت کرنے والا زافت کہتے ہیں شدت ِ رحمت کو اور یہ مبالغہ کا صیغہ ہے—– اور شکور
84 مالک الملک ملک کا ملک ۔
85 ذوالجلال والاکرام بزرگی وعزت والا ۔
86 المقسط عادل منصف اس کا مادہ ہے قسوط اور قسوط کہتے ہیں جوروظلم کو۔ لیکن جب اُسے باب افعال میں لے گئے تو معنی ہوئے جوردظلم کے ازالہ کرنے کے‘ اور ازالہ جوروظلم کا نام ہے انصاف۔ تو مقسط کے معنی ہو منصف‘ عادل۔
87 الجامع تمام مخلوقات کو جمع کرنے والا قیامت میں اللہ لوگوں کو جمع کرے گا‘ یا دنیا میں بچھڑے ہوئوں کو جمع کرتا ہے۔
88 الغنی بے پروا غنی مشتق ہے غنٰی سے ‘ اور غنی کہتے ہیں بے نیاز ہونے کو۔ یعنی اللہ تعالی سب سے بے نیاز ہے۔ اور معنی لیا گیا ہے اِغنآ سے جس کے معنی ہیں بے نیاز کرنا‘ یعنی وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے بے نیاز کرتا ہے کہ وہ اپنے ہم جنسوں کی طرف حاجت نہیں لے جاتا۔ غنی جو مالدار کے معنی میں مشہور ہے وہ بھی بے نیاز کی ایک شاخ ہے۔
89 المغنی لوگوں کو بے پروا کرنے والا بامطابق نمبر شمار88
90 المعطی عطاکرنے والا معطی دینے والا۔ اور مانع روک رکھنے والا۔ جسے چاہے اور جو چاہے دیتا ۔ اور جسے چاہے نہیں دیتا۔
91 المانع اپنے دوستوں سے تکلیف روکنے والا بامطابق نمبر شمار90
92 الضار ضرروشرکا خالق یعنی اللہ خالقِ خیر و شر ‘ اور نفع و ضرر ہے۔اور درد و دوا۔ رنج و شقا۔ گرمی سردی و خشکی و تری سب پیدا کی ہوئی اُس کی ہیں۔
93 النافع نفع و خیر کا پیدا کرنے والا بامطابق نمبر شمار92
94 النور روشن کرنے والا عرف عام میں نور کہتے ہیں روشنی کو۔ اللہ پر نور کا اطلاق اس سے کیا گیا کہ زمین و آسمان میں اُسی کا چاندنا اور اُسی کا ظہور ہے۔
95 البدیع موجد بدیع بے مثل اور بے مانند کبھی معنی میں مبدع یعنی موجود کے بھی آتا ہے۔ بے نمونہ دیکھے از خود اختراع کرے۔ تو اس معنی کو بھی اللہ بدیع ہے کہ اُس نے جہان کے بنانے میں کسی کی تقلید نہیں کی۔
96 الباقی باقی رہنے والا دائم الوجود‘ جو کبھی فنا نہیں ہوتا۔
97 الوارث فنائے موجودات کے بعد باقی رہنے والا اس سے مراد ہے فنائے موجودات کے بعد باقی رہنے والا۔ گویا تمام مرنے والوں کی میراث اُس کو پہنچتی ہے۔
98 الرشید صاحب رشد رُشد ضد ہے غی کی ‘ اور غی کے معنی ہیں گمراہی۔ تو رشید کے معنی ہوئے صاحب رشد۔ اور اللہ کو رشید اُس معنی کر کہا گیا کہ طریق اسلام اس کو پسند ہے اور وہی صراط مستقیم ہے۔ اس اعتبار سے کہ جو صفات کمالیہ اللہ میں ہونی چاہیں وہ اس میں ہیں۔
99 الصبور بڑا صبر کرنے والا اصل میں صبرکے معنی تحمل اور برد اشت کرنے کے ہیں اور چونکہ اللہ تعالی بندوں کی گستاخیوں اور نافرمانیوں کی برداشت کرتا ارو انتقام اور مواخذے میں جلدی نہیں کرتا اس لیے اس کا نام صبور رکھا گیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے