جواہرات کی خصوصیات

 

گارنیٹ

            یہ پتھربہت سے رنگوں میںملتا ہے۔ عام طور پر اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ یہ پتھر بڑا ہی دلکش‘ دل فریب اور خوش نما ہوتا ہے۔ انگریزی میں گارنیٹGarnet جبکہ دیگر مختلف زبانوں میں پلک‘ کریسنٹ‘ گرے نیٹوکہتے ہیں۔ اس پتھر کا رنگ سیاہی مائل سرخ‘ زردی مائل سرخ‘ ارغوانی گہرا کتھئی‘ چمکدار بلوری شکل میں قدرے سخت ہوتا ہے۔ یہ پتھر زرد سے سرخ رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے نوکیلے اور تیز کنارے بلوری شفاف حالت میں ہوتے ہیں۔ قدرتی طور پر اس میں ابرق و سلیٹ اور لہر دار پتھر کے اجزاء شامل ہیں۔ توڑنے سے اس کے ٹکڑے علیحدہ علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ آسانی سے تراشنے میں مدد دیتے ہیں۔ زیورات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اثرات اور خواص بہت حد تک بلور سے ملتے جلتے ہیںلیکن رنگ کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے۔

خصوصیات

            پاکیزہ خیالات اور تزکیہ نفس کی جانب مائل کرتا ہے۔ تخلیقی کاموں میں ممدو معاون ہے۔ حادثوں سے بچاتا ہے۔ راستے کی ہر رکاوٹ کو دور کرتا ہے۔ غربت کو ختم کر کے خوشحالی لاتا ہے۔ خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ طبعی خصوصیات میں یہ ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے‘ خونی بواسیر سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔ پیسنے اور منہ کی بدبو دور کرتا ہے‘ بینائی کو تیز کرتا ہے۔ مالیخولیا‘ کنٹھ مالا اور ورم طحال میں مفید ہے۔ رات میں سوتے میں ڈرانے والے بچوں کو اس عذاب سے نجات دلاتا ہے۔ پریشان کن خوابوں سے نجات ملتی ہے۔

            جادو کے اثرات کو دفع کرتا ہے۔ شہرت و ناموری کے لیے اچھا پتھر ہے۔گلے میں بطور لاکٹ استعمال کرنے سے پرانے زکام کے لیے فائدہ رساں ہے۔ خاص طور پر امریکہ‘  مڈغاسکر‘ ناروے اور ہندوستان میں دستیاب ہے۔

ترملین

            اس پتھر کا رنگ زرد‘ سفید‘ گلابی‘ سرخ‘ سبز‘ بھورا‘ ہلکا سیاہ اور خاکستر ہوتا ہے۔ یہ بلوری چمک کا خوشمنا پتھر ہے۔ اسے انگریزی میں ترمیلن Tourmaline کہتے ہیں۔ لفظ ترمیلن ہستالی زبان سے اخذ شدہ ہے۔ اور اس کے معنی رنگین پتھر کے ہیں۔ ترمیلن بھی قدرت کا عجیب و غریب شاہکار پتھر ہے۔ یہ اپنے خوب صورت اور منفرد دلکش رنگوں کی وجہ سے جواہرات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ترمیلن ایک ایسا جواہر ہے جو عمدہ رنگوں اور بہت ہی عمدہ قسموں میں پایا جاتا ہے۔ اس میں آپ کو جواہرات کا ہر ممکن رنگ اور ہر ممکن انداز ملے گا۔ ترمیلن میں ایسے پتھر بھی جن میں ایک سے زیادہ رنگ پائے جاتے ہیں اور ایسے ترمیلن بھی پائے جاتے ہیں جن کے اندر کیٹس آئی (لہنسہ) کا اثر بالکل نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ بعض پتھروں کے رنگ لہریں مارتے اور حرکت کرتے ہوئے ایک سرے سے دوسرے سرے تک واضح یا غیر واضح طور پر تبدیل ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یا پھر دو مختلف رنگ متوازی لائنوں کی صورت میں بھی نظر آتے ہیں۔یہ مختلف امراض اور حصول دولت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پکھراج

            پکھراج کو قیمتی پتھروں میں ایک انتہائی اونچا مقام حاصل ہے۔ اصلی پکھراج کی چمک شیشے کی مانند ہوتی ہے اور زیادہ تر قیمتی پتھروں کو یہ نام دیا گیا تھا۔ یہ زہرہ کی موجودگی میں اپنی رنگت تبدیل کر لیتے ہیں۔ جس طرح لعل بیماری کی موجودگی میں اپنی رنگت تبدیل کر لیتا ہے۔یہ سفید‘ زرد‘ ہلکا نارنجی‘ ہلکا گلابی‘ پیازی اور ہلکا نیلا رنگ کا چمکدار پتھر ہے۔ پکھراج قدیم نام ہے۔ مزا ترش اور مزاج سرد ہے۔ یہ پتھر بہت حد تک سخت اور اس کی چمک شفاف بلور جیسی ہوتی ہے۔ تراش کا طرز ہیرے جیسا ہو تو زیادہ چمک دیتا ہے۔ سفید و زرد رنگ کا پکھراج خوشنمااور قیمتی ہوتا ہے۔ جواہرات میں شامل ہے۔

خصوصیات

            جسم کی قوت و طاقت اور عقل و عمر اس پتھر کو پہننے سے بڑھتی ہے۔ قوت ارادی بلند کرتا ہے‘ فراخدلی بڑھاتا اور کاروباری الجھنوں کو صاف کرتا ہے۔ غم و غصہ کو دور کرتا ہے۔ مزاج میں بھی خوشی و خودداری پیدا کرتا ہے۔ جائز حق کے حصول میں معاون ہے۔ تقویت قلب و حافظہ بڑھاتا ہے۔ اس میں یہ خاص خوبی ہے کہ اس کے پہننے سے انسان بہت خوشگوار عادات کا عادی ہو جاتا ہے اور سچی محبت کا حامی ہو جاتا ہے۔

            تندرستی کے لیے اس کے اثرات اچھے رہتے ہیں۔ زندگی میں حسب منشاء مواقع فراہم کرنے میں بڑا معاون ہے۔ اس پتھر کی انگوٹھی بائیں ہاتھ کی انگلی میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ پکھراج جسم کی حرارت کوبڑھاتا‘ مرض جذام‘ خرابی‘ خون اور زہر کے اثرات کو دفع کرتا اور مرض بواسیر میں مفید ہے۔ یہ وزنی اور مضبوط پتھر ہے۔ ہندوستان کے قدیم بادشاہوں کی تلوار اور خنجروں میں اعلیٰ قسم کے پکھراج جڑے ہوتے تھے۔ وہ اب بھی قومی اور ملکی عجائب گھر کی زینت ہیں۔ پانی میں کام کرنے والے یا سمندری ملازمت پیشہ افراد کے لیے اچھا پتھر ہے۔ اس میں موسمی اور فضائی آلودگی کا اثر نہیں ہوتا۔

            عمدہ قسم کا پتھر سیلونا‘ برازیل‘ روکش‘ چین‘ جاپان‘ آسٹریلیا‘ سائبریا‘ شمالی نائجیریا‘ جنوبی افریقہ‘ امریکہ اور ایران میں پایا جاتا ہے۔ ہلکے رنگ کا پاکستان میں دستیاب ہے۔

ایکومرین

            اس پتھر کا رنگ ہلکا پیلا‘ سبز‘ سمندری نیلا‘ آسمانی نیلا اور سفید ہوتا ہے۔ خوشنما بلوری رنگت والا یہ پتھر منکوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس کی مالائیں اور تسبیحاں بھی بنائی جاتی ہیں۔ یہ زیادہ قیمتی نہیں ہوتا۔ بلوری و خوشنمائی اور چمکدار ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ زیورات میں جڑواتے ہیں۔خواص کسی حد بلور سے ملتے جلتے ہیں۔ لیکن مختلف رنگوں کی وجہ سے اثرات میں اہمیت ہے۔

خصوصیات

            ایکومیرین پتھر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو پہننے والا خوشحال‘ نیک اور فراخ دل ہوتا ہے۔ غربت کو ختم کر دیتا ہے اور مذہب میں استقامت بخشتا ہے۔ ایسے حالات جو مذہب کی نفی کرتے ہوں‘ دل سے نکال باہر کرتا ہے۔ ہر قسم کی عیاشی اور بے راہ روی سے روکتا ہے۔ کفایت شعاری کی طرف مائل کرتا ہے۔ بلند حوصلگی‘ عزم و استقلال اور سکون و اطمینان مہیا کرتا ہے۔

            اس کی طبعی خصوصیات میں جلد کے ہر مرض مثلاً چنبل‘ داد‘ ناسور‘ گھمبیر وغیرہ کا شافعی علاج ہے۔ جگر اور معدے کے علاج کے لیے مفید ہے۔ پیاس ختم کرتا ہے۔ آنکھوں کی بیماریوں کوختم کرتا ہے۔ بصارت میں اضافہ کرتا ہے۔ درد زہ کو کم کرتا ہے۔ نیند میں ڈرنے والے کو اگر اس کا تعویذ پہنایا جائے تو ان کا ڈرا اور خوف ختم ہو جاتا ہے۔مراق نسیاں کے لیے تیر بہ ہدف ہے۔ طاعون اور ہیضے سے شفا دیتا ہے۔

            ایکومیرین زمانہ قدیم میں چاقو‘ خنجر اور تلوار کے دستوں میں آویزاں کیا جاتا تھا۔ یورپ کے ممالک میں اس کا استعمال زیادہ ہے۔ اعلی قسم کا ایکومیرین سیلون‘ ملایا‘ روس‘ جنوبی افریقہ‘ برازیل‘ بھارت اور پاکستان میں دستیاب ہے۔

لعل

            جواہرات کی دنیا میں سب سے افضل ہے۔ مشہور چمک دار سرخ پتھر یاقوت کی اعلی اور بہترین قسم کا نام لعل ہے۔ یہ سخت اور وزنی ہوتا ہے۔ اس کے مختلف نام اور اقسام ہیں۔ رنگ کے لحاظ سے اس کو ارغوانی‘ رمانی‘ پیازی‘ لقمی‘ دوشابی‘ پلکانی‘ عقربی اور قطبی وغیرہ کا نام دیتے ہیں۔ سنسکرت میں مانکیہ اور انگریزی میں اسے روبیRuby کہتے ہیں۔ مزا کڑوا ہوتا ہے۔ یہ پتھر بہت قیمتی ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس پتھر میں بہت سے نقائص بھی ہوتے ہیں۔ نقص والے پتھر کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ نقص سے پاک لعل دنیا کا انتہائی مہنگا پتھر ہوتا ہے۔

پہچان

            لعل کو ہیرے سے کاٹا جا سکتا ہے۔ سرخ شعاعیں دیتا ہے۔ املی کے پانی سے صاف کیا جاتا ہے۔ زیتون کے تیل سے بھی صاف ہو جاتا ہے۔ بدبودار پسینہ اور دھواںاسے خراب کر دیتا ہے۔ چیلسی کلر فلٹر سے اگر شعاعین پار ہو جائیں تو نقلی ہے یہ کلر فلٹر عام طور پر عینک سازوں کے پاس دستیاب ہے۔

خصوصیات

            یہ پتھر اُصول پرست بناتا ہے۔ اس کی انگوٹھی طبعیت کو خوش رکھتی ہے۔ ازدواجی زندگی خوشگوار ‘ خود اعتمادی میں اضافہ‘ روزگار میں ترقی نصیب ہوتی ہے۔ اعصاب کوقوت دیتا ہے۔ اچھے ذرائع پیدا کرتا ہے۔ دشمن زیر‘ حوصلہ اور قوت ارادی میں اضافہ کرتا ہے۔ الیکٹرک شاک اور پانی میں ڈوبنے سے بچتا ہے مختلف مرض سے بچوں کو بچاتا ہے۔ قدرو منزلت‘ محبت‘ دوستی‘ وفاداری کا معاون ہے۔ غم و غصہ کو دور کرتا ہے۔ معرفت کا علم ہے۔ اگر اس پتھر کا رنگ کم ہو جائے تو کچھ اہم تبدیلی کے امکانات ہو جاتے ہیں مثلاً اس کا نگینہ پیلا رنگ اختیار کرے تو لڑائی کا اندیشہ رہتا ہے۔ یہ جگر کی خرابی کو دور کرتا ہے۔ لعل کے متعلق ایک انگریز نے لکھا ہے کہ اگر لعل کو کسی باغ کے چاروں کونوں سے چھوا دیا جائے تو اس جگہ کی تمام فصل‘ بجلی‘ طوفان‘ آندھی اور کیڑوں سے ایک سال تک محفوظ رہے گی۔ مزید یہ کہ خواب پریشان اور احتلام سے محفوظ رکھتا ہے۔ غم اور فکر دور کرتا ہے۔ واضح رہے کہ لعل‘ یاقوت‘ ہیرا وغیرہ قیمتی جواہرات کے متعلق سائنسی طریقہ پر کان کنی سے پتا چلا کہ یہ سب پتھر ایک قسم کے جواہرات ہیں۔ رنگوں کے لحاظ سے نام اور اثرات مختلف ہوں گے۔

لاجورد

            یہ پتھر گہرا و ہلکا‘ میلا‘ زردی مائل اور آسمانی رنگ کا ہوتا ہے۔ یہ لفظ انگریزی میں ایک مرکب لفظ ہے۔ اس کے نام کا ماخذ قرون وسطی کا زمانہ ہے۔ لیپس Lapis کے معنی پتھر کے ہیں۔ لیزولLazuliعربی لفظ ہے۔ جس کے معنی نیلے رنگ کے ہیں۔ اس کی نیلگوں چمکدار رنگت نے اسے جواہرات کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ اس پتھر میں رگیں نہیں ہوتیں۔ صرف نقطہ ظاہر ہوتے ہیں۔ اس پر سفید اور سنہری داغ ہوتے ہیں۔ ماہرین سائنس کا کہنا ہے کہ یہ پتھر تانبہ اور کوئلہ کی گیس سے بنتا ہے۔ سونے یاچاندی کے کس کا عمدہ ہوتا ہے۔ مزہ پھیکا‘ مزاج گرم و خشک اور دھلا ہوا سرد و خشک ہوجاتا ہے۔

خصوصیات

            ارسطونے ایک جگہ تحریر کیا ہے کہ جس کے پاس یہ پتھر رہے گا۔ چشم خلائق میں عزت پائے گا محفل میں وقار بلندکرتا ہے۔دوسروں کی نگاہوں میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ اس کو نیلم سے تشبیہ دی گئی ہے۔

            لاجورد کی انگوٹھی پہننے سے جسم کے مسے دور ہوجاتے ہیں اورلاجورد کی مالا گلے میں پہننے سے نیند آتی ہے اور بے خوابی دور ہو جاتی ہے۔شیخ الرئیس نے بھی اس پتھر کو مالیخولیا کے لیے مفید لکھا ہے۔ یہ پتھر بے خوابی کو دور کرتا ہے‘ دل کو تسکین دیتا ہے۔ نیند نہ آنے کے مرض میں مفید ہے۔ اس پتھر کے پہننے والے پر جادو کا اثر نہیں ہوتا۔ اس کا سرمہ آنکھوں کے لیے مفید اور پلکوں کے گرنے کو روکتا ہے۔ لاجورد کو سرکے میں بھگو کر مرض برض کے سفید داغوں پرلگانے سے سفید داغ کے دھبے ختم ہونے کا امکان رہتا ہے۔ شورہ کے ساتھ اسے گرمی پہنچائی جائے تو عمدہ رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کی شہرت اور مقبولیت کی خاص وجہ اس کا گہرا جامنی نیلا رنگ ہے۔ آج بھی لاجورد کی نیلگوں رنگت میں بہت ہی خوب صورت زیور بڑے شوق سے پہنے جاتے ہیں۔ اس کے ایئر رنگ‘ ٹاپس‘ گلو بند اور نیکلس بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پتھر سے زیورات کے علاوہ بھی اور بہت سے شو پیس بنائے جاتے ہیں۔ عمدہ قسم کا لاجورد پاکستان میں بکثرت ملتا ہے۔ اسی لیے یہاں سے باہر ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔

لہسنیا

            بلی کی آنکھوں سے مشابہ اس پتھر کو انگریزی میں کیٹس آئی‘ عربی میں عین الہریرہ‘ فارسی میں گریہ چشم‘ سنسکرت میں لینوزن کہتے ہیں اور اردو میں لہسنیا کہتے ہیں۔ یہ پتھر بلی کی آنکھ کے مانند بلوری چمک کا ہوتا ہے۔ یہ ایک سخت قسم کا پتھر ہوتا ہے۔ مختلف رنگوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن پیلے یا گلابی رنگ کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ اس کا رنگ کسی قسم کا بھی ہو لیکن ہر پتھر میں ایک سفید دھاری مثل ڈورے کے ہوتی ہے۔ جوہری اس کو سوت کہتے ہیں جو کہ آفتاب کی روشنی میں دیکھنے سے چمکیلی نظر آتی ہے۔ یہ دھاری ہمیشہ سفید رنگ میں ہوتی ہے۔ اس پتھر کی یہ چمکیلی دھاریں‘ لہریں مارتی نظر آتی ہیں۔

خصوصیات

            یہ پتھر آفت اور مصیبت سے بچاتا ہے نظر بد سے بچاتا ہے۔ میدان جنگ میں کامیابی کا ضامن ہے۔ بدروحوں سے بچاتا ہے۔ فتح و کامرانی کی نوید ہے۔ محبت میں کامیابی بھی۔ تحفہ عالم شاہی میں اس پتھر کے متعلق تحریر ہے کہ دشمن کو زیر کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص میدان جنگ میں بھی ہو تو اس پتھر کو پہننے والا شخص دشمنوں سے محفوظ رہے گا۔ یہاں تک کہ جنگ و جدل میں گھر جانے پر کشتوں میں لیٹ رہے تو مخالفین کو یہ شخص خون آلود دکھائی دے گا۔ اس کی طبعی خصوصیات میں بچوں کے گلے میں ڈالنے سے نظر بد‘ ٹونہ اور امراض بلغمی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کو پہننے سے خواب بد نظر نہیں آتے۔ مالی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ سرمہ بنا کر آنکھوں میں لگانے سے آنکھوں کی جملہ بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ اس کا منجن دانتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ خناق‘ فالج‘ رعشہ‘ اعصاب کی کمزوری اور تشنج جیسی بیماریوں سے نجات دلاتا ہے۔

            اس پتھر کے اثرات کچھ نیلم سے ملتے جلتے ہیں۔ اسرائیلی باشندے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ایک نایاب اور نادر لہسنیا بابو تھان سنگھ مرشد آباد (بنگال) کے پاس تھا۔ یہ بھارت‘ برازیل اور امریکہ میں پایا جاتا ہے۔

زمرد

            سبز رنگ کے پتھر میں افضل پتھر زمرد ہے۔ اس نگینہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر اس کو زبان کے نیچے رکھا جائے تو مزاج میںدرویش جیسی صفت پیدا ہوجاتی ہے۔ زمرد مشہور چمک دار اور قیمتی ہے۔ ہندی میں اس کو پنہ‘ سنسکرت میں مرکت اور انگریزی میں امرالڈEmeraldکہتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے یہ پتھر زیورات کی زینت بنتا چلا آ رہا ہے۔ کیونکہ یہ پتھر اپنی آب و تاب اور چمک دمک میںثانی نہیں رکھتا اور اس کے متعلق مشہور ہے کہ سانپ اسے دیکھتے ہی اندھا ہو جاتا ہے۔

خصوصیات

            بہت سی خاصیتوں کے حامل سبز رنگ کے اس نگینے کے متعلق حضر ت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اس کو پہننے سے ڈرائونے خواب پریشان نہیں کرتے حکیم افلاطون نے لکھا ہے کہ سبز رنگ کا زمرد استعمال کرنے والا دشمن پر فتح پاتا ہے اور درد جگر سے محفوظ رہتا ہے۔ تمام نباتات میں سبز رنگ کا غلبہ ہے۔ جس کے دیکھنے سے طبیعت میں اعتدال ہو کرافسردگی ختم اور بشاشت و خوشگواری آتی ہے۔ اس کی انگوٹھی غم و غصہ اور موتیا بند و آنکھ کا جالا دفع کرتی ہے۔ اس کا رنگ آنکھ کی بصارت بڑھاتا ہے۔ مزاج میں خوشی‘ محبت اوروفاداری پیدا ہوتی ہے۔ سخاوت و ملنساری پیدا کرتا ہے۔ دشمنوں کو مغلوب کرتا ہے۔ مخالفوں پر ہیبت طاری کرتا ہے۔ طبیعت میں نرمی پیدا کرتا ہے۔ باعث اطمینان و سکون ہے۔ یہ پتھر آفت اور سخت مصیبت کے وقت ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ زمرد دل کے امراض میں مفید ہے۔معدہ میں قوت ہاضمہ بڑھتی ہے۔ جگر کے امراض کو دفع کرتا ہے۔ اس کی انگوٹھی خونی اسہال اور مرض سل کو دفع کرتی ہے اور مشکل کام میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ اس پتھر کو سر میں باندھنے سے درد سر جاتا رہتا ہے۔

            روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’انگوٹھی زمرد ہر مشکل کو آسان کرتی ہے‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں پھینکنے کے لیے انتظام کیا گیا تو پروردگار عالم نے حضرت جبرائیل کے ذریعے زمرد کی انگشتری حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے بھیجی تھی جس پر کندہ تھا۔

            لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ولاحول ولا قوۃ الا باللہ فوضت امری الی اللہ اسندت ظہری الی اللہ حسبی اللہ۔

            حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ انگشتری استعمال کی اور آگ بحکم اللہ سرد ہو کر گلزار میں تبدیل ہو گئی۔

            مرض اختلاج میں مفید ہے۔ یہ نگینہ روح کو تقویت دیتا ہے۔ مقوی معدہ ہے۔ شہرت دیتا اور نامور بناتا ہے۔ پریشانی دورکرتا ہے۔ معاون عقل مندی ہے۔ زمرد کا نگینہ مرض طاعون سے محفوظ رکھتا ہے اچھا اور عمدہ زمرد رنگ میں مثل طوطے کے پر اور بالکل ہری گھاس کی مانند ہوتا ہے۔ زمانہ قدیم میں اس پتھر کے متعلق عام خیال تھا کہ اگر کوئی شخص عہد شکنی کرے تو زمرد اس کے ہاتھ میں اپنا رنگ تبدیل کر لیا کرتا تھا۔

زرقون

            اس پتھرکو انگریزی زبان میں زرقون Zircon‘ اُردو میں گومیہ‘ ہندی میں گومیدہ‘ سنسکرت میں گومیدگ اور عربی زبان میں لعل کہتے ہیں۔ یہ چمک دار قدیمی پتھر ہے۔ زرقون اور الماس ایک دوسرے سے اس قدر مشابہہ ہوتے ہیں کہ ان کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے۔ اس کی صرف ایک ہی پہچان ہے کہ زرقون حجم میں الماس سے وزنی ہوتا ہے۔ زمانہ قدیم کی بہ نسبت آج کل اسے زیورات میں کم استعمال کیا جارہا ہے۔ اس پتھر میں کچھ ایسے ذرے ہوتے ہیں جو اس کی چمک اور آب کو روکتے ہیں۔ سب سے عمدہ نارنجی اور شربتی رنگ کا ہوتا ہے۔

خصوصیات

            اس پتھر کی انگوٹھی پہننے سے عزت و وقار اور ترقی حاصل ہوتی ہے۔ محبت اور روزگار میں ترقی ہوتی ہے۔معاون حصول علم‘ سمندری طوفانوں سے بچائو کے لیے جہاز رانوں کا دوست ہے۔

            یہ پتھر بدروح کے اثرات کو ضائع کرتا ہے۔ فالج زدہ مریض کے جسم میں گرمی پیدا کرتا ہے۔ اس کی انگوٹھی سے نیند گہری آتی ہے۔ طبی طریقہ میں اس کا کشتہ فالج میں مریض کے لیے مفید ہے۔ اس کی ایک ادنی اور معمولی قسم مثل کہربا کے ہوتی ہے۔ لکنت کو بھی دور کرتا ہے۔ زرقون ایٹمی ری ایکٹر میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ سپارک پلگ اور فوٹو گرافی کے سموک فلش پائوڈر میں استعمال ہوتاہے‘ پلاٹینم کا نعم البدل ہے۔ داغ والا زرقون‘ شگاف والا زرقون اور چہرے والا زرقون عیب دار ہوتے ہیں۔ زرقون برما‘ فرانس‘ امریکہ‘ ناروے‘ سیلون اور پاکستان میں پایا جاتا ہے۔

ایمے تھسٹ

            اس پتھر کا تعلق بھی عقیق کی ایک قسم سے ہے۔ یہ پتھر بھی انگریزی زبان کے لفظ یعنی ایمے تھسٹ کے نام سے مشہور ہے اور زیادہ تر اسی نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس پتھر کا رنگ ارغوانی ہے اور اسے ارغوانی رنگ کا بھیکہم بھی کہتے ہیں۔سونے میں اس کی جڑت بہت ہوتی ہے۔ اس پر نقش کا کام بھی ہوتا ہے۔ اس پتھر کا ذکر آسمانی صحیفوں مثلاً انجیل‘ توریت اور زبور میں بھی ملتا ہے۔

خصوصیات

            اس پتھر کو پہننے والا اپنے اندر ایک نئی زندگی محسوس کرتا ہے۔ اس پتھر کا ذہن سے بہت تعلق ہے۔ اس پتھر کو پہننے سے انسان اپنے آپ کو پہچاننے لگتا ہے۔ مستقبل میں اعلی مناصب و مرتبہ حاصل کرتا ہے۔ یہ پتھر انسان کے لاشعور میں چھپی باتوںکو سیکنڈوں میں شعورمیں لاتا ہے۔ یوگا کی قوت حیات کو بیدار کرنے کے لیے ایٹم کی صلاحیت رکھتا ہے اور انسان کے اندر چھپے ہوئے جذبات، خیالات اور تصورات کی تطہیر کرتا ہے۔

            طبی خواص میں یہ پتھر بچوں کے لیے بہت مفید ہے۔ ان کو پولیو سے بچاتا ہے۔ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔ کیلشیم اور فاسفورس کی کمی کو دور کرتا ہے۔ پیاس کو ختم کرتا ہے۔

            کساح جیسے امراض سے بچاتا ہے چونکہ رنگوں کا بھی انسانی رندگی سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ مثلاً سرخ، زندگی کی کمی سے بھوک کی کمی، سستی کاہلی، نیند آنا (زیادہ)، ناخنوں کا میلا ہونا وغیرہ سرخ نیلگوں ایمے تھسٹ اس کمی کو دور کرتا ہے۔

            نیلے رنگ کی کمی سے ناخن سفید، آنکھیں گلابی، مزاج میں چڑچڑاپن وغیرہ۔ سرخی مائل زرد ایمے تھسٹ جسم میں نیلے رنگ کی کمی کو دور کرتا ہے۔

حجر الیہود

            اس کے متعلق کتب میں تحریر ہے کہ حجر الیہود ایک قسم کے بیر کا درخت تھا۔ قدیم زمانے میں ایک باغ میں درختوں پر بیر لگے ہوئے تھے ۔ ایک فقیر کا گزر ہوا۔ اس نے چند بیر اُٹھا لیے۔ مالی نے برا مناتے ہوئے فقیر کو طعنہ دیا کہ ’’پرایا مال اس طرح اُٹھاتے ہو گویا کہ یہ پتھر ہیں‘‘۔فقیر یہ کہہ کر چلا گیا کہ ’’یہ پتھر ہی ہوں گے‘‘۔

            دوسرے دن مالی نے دیکھا تو درختوں پر بیر کی جگہ پتھر ہی لٹک رہے تھے۔ حجر الیہود کے متعلق یہی کہا گیا ہے کہ یہ وہی پتھر ہیں۔ ان کا رنگ مومی ہوتا ہے، جس پر مختلف رنگوں کی دھاریاں بھی ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ سفید اور سرخ رنگ میںبھی پایا جاتا ہے۔ اس کا سائز بیر جتنا ہی ہوتا ہے۔ اس پتھر کو ہندی میں استوان اور فارسی میں یہودان بھی کہتے ہیں۔ یہ پتھر نر اور مادہ دو قسم میں ہوتا ہے۔ مادہ پتھر نر سے چھوٹا ہوتا ہے مادہ پتھر عورت کے لیے اور نر مرد کے لیے بے حد مفید ہے۔

خصوصیات

            یہ پتھر جس کو راس آ جائے وہ ایک کامیاب ترین انسان ہوتا ہے۔ اس میں منصوبہ بندی اور عمل درآمد اور کاروباری حلقوں میں میل جول اور ہر ماحول سے سمجھوتے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگ خوب سے خوب تر کی تلاش میں اور اپنے کاروبار کو وسیع کرنے کے لیے سمندر پار کے سفر سے بھی استفاد کرتے ہیں۔ اس کے پہننے سے دلی مرادیں بھی پوری ہوتی ہیں۔ روحانی قوت بڑھتی ہے غرض کہ یہ پتھر باعث و برکت ہے۔

            طبی افعال و خواص میں مثانہ و گردہ کی پتھر کو توڑ کر نکال دیتا ہے اور مرض سوزاک میں فائدہ رسال ہے لگی ہوئی چوٹ میں آدھا ماشا کھرل میں باریک پیس کر کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ کھرل میں آسانی سے پس جاتا ہے۔چمگادڑ کے خون کے ساتھ رگڑ کر لگانے سے پلکوں کے گرے ہوئے بالوں کو پیدا کرتا ے۔ شوگرکی بیماری سے نجات دلاتا ہے۔ یہ پتھر کوریا، بیروت اور قوس میں پایا جاتا ہے۔

حجر القمر

            پتھروں پر سائنسی تحقیقات کرنے والے ایک ماہر نے لکھا ہے کہ چاند گرہن میں اگر حجر القمر کو دیکھیں تو لگتا ہے جیسے اس میں سے پانی ٹپک رہا ہو گویا اس پتھر کا چاند سے بڑاگہرا تعلق ہے۔ یہ پتھر رات کو بڑا چمکتا ہے۔ عروج ماہ میں اس میں بڑی چمک آ جاتی ہے۔ زوال ماہ میں اس کی روشنی کم ہوجاتی ہے۔ اس کارنگ سفید، ہلکا بلوری چمک کا شفاف پتھر ہے۔ اس کے گرد آفتاب کی طرح روشنی کا ایک حلقہ ہوتا ہے اور اندر بھی سفیدی پائی جاتی ہے۔

خصوصیات

            سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس پتھر کی عمر ڈھائی سے تین ارب سال تک ہے۔ اس کو درخت پر باندھنے سے پھل زیادہ آتے ہیں۔ یہ پتھر جنوں، خفقان، نسیان، مالیخولیا، جذام، برض کے لیے بے حد مفید ہے۔ اس کے اثر سے کوڑھی شفا پاتے ہیں۔یہ رات کے وقت بہت تابندہ ہوتا ہے۔ خوش بختی کی علامت ہے۔ سچے دوستانہ جذبات پیدا کرتا ہے۔تنگدستی دور کرتا ہے۔ خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔

اوپل

            یہ سفید رنگ کا دودھیا پتھر ہے۔ جسے اوپلو، انگریزی میں اوپل Opal اور عربی میں حجر الابیض کہتے ہیں۔ اس میں مختلف خوب صورت رنگ کے معمولی نشانات اور ستاروں کی طرح گہری چمک دکھائی دیتی ہے۔مزاج خوش اور بشاش رکھنے میں اچھا پتھر ہے۔ اس کو پہننے سے طبیعت میں سادگی اور سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ تجارت کی طرف رحجان پیدا کرتا ہے۔ محبت کرنے والوں کے لیے خوش قسمتی کا باعث ہے۔ ازدواجی زندگی میں یہ پتھر خاص طور پر معاون ہے۔ اس پتھر میں اچھی خواہشات کی علامت پائی جاتی ہے۔ اوپل جس قدر خوب صورت ہے، یہ اتنا ہی ناپائیدار ہے۔ اس کی زندگی غیر یقینی ہے۔ ذرا سی چوٹ سے بھی ٹوٹ جاتا ہے یا دراڑ پڑ جاتی ہے۔ تیز دھوپ، ہلکی گرمی بھی اس کے لیے بعض اوقات نقصان کا سبب بنتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں سختی نہیں ہے۔ اسے پہننے کے لیے بہت احتیاط برتنی پڑتی ہے۔ اوپل کو اس کی رنگت کی بنیاد پر چار قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کالا، سفید، آتشی اور آبی اوپل۔

            ان مندرجہ بالاچار اقسام کے علاوہ اور بہت سی اقسام کے اوپل پائے جاتے ہیں اور مختلف قسموں کی مناسبت سے ان کے نام بھی مختلف ہیں۔یہ پتھر زیادہ گرمی سے چٹخ جاتا ہے۔اس کے لیے بہتر ہے کہ اسے کبھی کبھار رات کو پانی میں ڈال کر رکھ دیں اور صبح نکال لیں۔ اس سے اس کی زندگی میں اضافہ ہو گا اس پتھر کو پانی کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔ اوپل کے بارے میں بہت سی روایات مشہور ہیں۔ مختلف رنگوں کو خوش قسمتی اور بدقسمتی کے لیے تصور کیا جاتا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود اس پتھر کو آج بڑی کثرت سے استعمال کیاجاتا ہے۔

رداکھ

            عقیق کی قسم کا یہ پتھر سرخ، برائون اور پیلے رنگ میں مشہور ہے۔ اس پتھر کو سنسکرت میں رداکھ، انگریزی میں کارنیلائن اور عربی میں سارو کہتے ہیں۔ یہ گلابی، کالا، سفید اور نیلے رنگ میں بھی ہوتا ہے مگر ان تمام رنگوں میں پیلے رنگ کی آمیزش ہوتی ہے۔

خصوصیات

            اس پتھر کا مزاج خشک سردہے۔ مرگی کے عارضے میں گلے میں لٹکائیں۔ بھوت پریت اور بلائوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ دشمن کو زیر کرتا ہے۔مقدمات میں کامیابی کے لیے مفید ہے۔ اس پر تعویذ اور طلسم بھی کندہ کیے جاتے ہیں۔

            یہ پتھر مرض برص میں مفید ہے۔ نکسیر ختم کرتا ہے۔ پھوڑے میں سے تمام گندہ مواد خارج کر کے مکمل علاج بہم پہنچاتا ہے۔ لمبی عمر اور صحت مند زندگی کے لیے راس پہننا چاہیے۔

بلڈ اسٹون

            اس پتھر کا رنگ سبز ہوتا ہے اوراس پر خون کے دھبے ہوتے ہیں جیسے اس پر تازہ خون گرایا گیا ہو۔ اس مناسبت سے اس کو بلڈ اسٹون کہتے ہیں۔ عربی زبان میں اس کو حجرالدم بھی کہا جاتا ہے۔یہ پتھر حضرت عیسی علیہ السلام سے منسوب ہے جس وقت آپ کو صلیب پر لٹکایا گیا تھا تو اس صلیب کے نیچے سے یہ پتھر ملا تھا۔ جس پر خون کے قطرے گرے ہوئے تھے۔ بلڈ اسٹون کی شکل اس پتھر کی مانند ہوتی ہے۔ عیسائی اس پتھر کی صلیب بنا کر تعویذ کی طرح پہنتے ہیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے مجسمے بھی اس پتھر سے تراشے جاتے ہیں۔

            ماہر فلکیات کے مطابق سورج گرہن کے اثرات اس پتھر پر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ اس پتھر میں سورج گرہن نظر بھی آ سکتا ہے۔

            یہ خون آلودہ چھینٹوں والا گہرے سبز رنگ کا پتھر ہوتا ہے۔ ایک پتھر سرخ قسم کا بھی ہوتا ہے۔ لیکن آج کل وہ بہت کم ملتا ہے، بلکہ نایاب ہے۔

خصوصیات

            اس پتھر کو پہننے والا دلیر، جری اور بہادر ہوتا ہے۔ میدان جنگ میں پہننے والا حفاظت میں رہتا ہے۔ اس پتھر کو پہننے سے ہر قسم کا خوف دور ہوجاتا ہے۔ محبت میں کامیابی کی دلیل ہے۔ اس پتھر پر نقش کندہ کروا کے بطور تعویذ استعمال کرنے والا ہر بیماری سے محفوظ رہتا ہے۔

            دوران خون کو دوسرت رکھتا ہے۔ خون کو پتلا رکھتاہے۔ گاڑھا اور منجمد نہیں ہونے دیتا ناسور معدہ کے لیے اکسیر ہے۔ جریان خون کو روکتا ہے۔ معدے کو تقویت دیتا ہے۔

            یہ پتھر (بلڈاسٹون یا حجر الدم)افریقہ، برازیل، پاکستان اور مصر میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں اس پتھر کے بہت ذخائر ہیں۔

حجر عقابی

            یہ پتھر عقاب پرندہ کے آشیانے سے دستیاب ہوتا ہے۔ اس پتھر کو متحرک کرنے سے کٹ کھٹاہٹ کی آواز سنائی دیتی ہے لیکن اس کو توڑنے پر اندر سے کچھ برآمد نہیں ہوتا۔ عقاب جب انڈوں پر بیٹھا ہوتا ہے ،کوئی شخص اگر اس کے آشیانے کی طرف رخ کرتا ہے تو یہ پرندہ اسی پتھر کے سنگریزوں کو اپنی چونچ سے آدمی کی طرف پھینکتا ہے(گویا پتھر مارتا ہے)۔اس کی شکل اور بناوٹ املی سے مشابہ ہوتی ہے۔

خصوصیات

            اس پتھر کو زیر زبان رکھ کر مخالف شخص سے گفتگو میں فتح حاصل ہوتی ہے۔ یہ آشیانہ کرگس میں بھی دستیاب ہوتا ہے۔ اس کے اثرات میں یہ خاص خوبی ہے کہ دردزہ میں سنگ عقابی مشکلات کے لیے بھی پہننا بہتر ہے۔

حجرالسیم

            اس کو سنگ سیم بھی کہتے ہیں۔ اس کا رنگ، ذرا سبزی اور سفیدی مائل ہوتا ہے لیکن بعض کا رنگ گہرا رہتا ہے۔ اس کی چمک بلوری سخت قسم کا پتھر ہے۔سنگ جیڈ کی ایک قسم ہے۔ اس پتھر کو قدرت نے یہ صفت عطا کی ہے کہ کسی شخص کے پاس اگر زہرہو اور وہ شخص اس پتھر کے قریب ہو جائے تو یہ پتھر حرکت میں آ جاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں اس کی بڑی قدرو قیمت تھی۔ بادشاہوں کے دسترخوان یا بازو بند میں رہتا تھا۔ اب یہ نایاب ہے۔ وزیر نظام الملک حسن بن علی نے سیرالملوک میں تحریر کیا ہے کہ سلیمان بن عبدالملک نے ایک روز کہا’’میری سلطنت حضرت سلیمان علیہ السلام سے کم نہیں۔ میرے پاس جس قدر مال اور ہتھیار ہیں، وہ کسی بادشاہ کو نصیب نہیں ہوئے‘‘۔اس وقت حاضرین دربارمیں سے ایک شخص نے بادشاہ سے عرض کیا کہ’’میرے پاس ایک ایسی نایاب اور نادر چیز محفوظ ہے جو فرمانروا کے پاس نہیں‘‘۔ بادشاہ نے کہا’’وہ کیا چیز ہو سکتی ہے جو میرے پاس نہیں؟‘‘

            اس شخص نے حجرالسیم کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ’’قدرت نے اس پتھر میں یہ خاص صفت اور اثر عطا کیا ہے‘‘۔ بادشاہ نے اس پتھر کا تجربہ کیا اور اپنے غرور کے الفاظ پر نادم ہو کر حجر السیم کو اس شخص سے خرید لیا۔ زمانہ قدیم میں اس کے برتن تیار کیے جاتے تھے۔ چین کے علاقے میں دستیاب ہے۔

حجر الشمس

            اس کو انگریزی میں سن اسٹون کہتے ہیں جبکہ اس کے مختلف نام میلے کٹ، میلے اسٹون پروفری، اڈولیریا ہیں۔ اس کا رنگ سفید مائل ذرا بھورا، چمک میں بلور سے ملتا جلتا ہے۔

خصوصیات

            یہ پتھر چاندنی کو اپنے میں جذب کرتا ہے۔ اس کی انگوٹھی جنون اور خفقان میں مفید ہے۔ کمر میں باندھنے سے خوف ڈر دفع کرتا ہے۔ حکمائے سابقین نے لکھا ہے کہ اس پتھر کو درخت خرما میں باندھنے سے پھل زیادہ آتے ہیں۔

حجر الصفر

            ارسطو نے اس پتھر کی خصوصیت میں لکھا ہے کہ اس کو اپنے پاس رکھنے سے مطلوب تابع ہوتا ہے جب تک یہ پتھر پاس رہے گا۔ مطلوب جدا نہ ہو گا، یہ خلوص اور محبت بڑھاتا ہے۔

حجرالاحمر

            یہ پتھر سرخ رنگ کا چمکدار ہوتا ہے لیکن اس کے تراشنے میں اس کا برادہ سفید رنگ کا ہو تو اس پتھر کی انگوٹھی استعمال کرنے والا ہر کام میں کامیاب رہتا ہے۔ اگر سیاہ برادے والا نگینہ استعمال میں لایا جائے تو گم شدہ چیز جلد حاصل ہوتی ہے۔

خصوصیات

            زردرنگ کے برادے والا نگینہ بازو پر باندھنے سے خلق خدا کی نگاہوں میں عزیز رہتا ہے اور عزت بڑھتی ہے۔ سبز رنگ کے برادے والی نگینہ کی انگوٹھی کا استعمال دشمن کے حملے کو دفع کرتا ہے۔

موتی

            موتی سمندر سے سیپ کے پیٹ میں پیدا ہو کر نکلتا ہے اسے دوسرے پتھروں کی طرح تراشا نہیں جا سکتا۔ بلکہ قدرتی تراش خراش اور بے داغ وچمکدار ہوتا ہے۔ اسے فارسی میں مروارید، عربی میں لولو کہتے ہیں۔ جو موتی انتہائی خوب صورت و صاف اور بغیر آمیزش کا ہو، اس کو درخوشاب کہتے ہیں۔ یہ خشخاش کے دانوں سے لے کر کبوتر کے انڈوں کے برابر تک ہوتا ہے۔ سمندری موتی عمدہ اور معیاری ہوتا ہے۔ میٹھے پانی کا موتی بہترین نہیں ہوتا۔

            انسان چھ ہزار سال سے اپنی زیبائش کے لیے موتی استعمال کررہا ہے۔ موتیوں کی تلاش میں غوطہ خوری کی تاریخ بہت ہی قدیم ہے۔ اس کی عزت اور قدر زمانہ قدیم سے چلی آ رہی ہے۔ پرل، رنگ میں سفید آبدار مثل دودھ عمدہ خیال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہلکا گلابی، سیاہی مائل، بھورا اور خاکی بھی ہوتے ہیں۔ قیمتی اور گوہری چمکدار ہوتا ہے۔ اس کی شکل گول یا صراحی دار ہوتی ہے۔ اس موتی سے مراد سچا موتی ہے۔ عمدہ موتی کو معتدل جگہ پر رکھنا بہتر رہتا ہے۔ ہر چھ ماہ بعد ہوا دینا ضروری ہے۔ اصلی موتی میں دھنک(قوس و قزح) کی طرح ہلکے رنگ جھلکتے محسوس ہوتے ہیں۔ سرکہ و نوشادر میں گھل جاتا ہے سچے موتی کو اصلی شراب کاٹ دیتی ہے لیکن اس کے لیے کئی ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ مزا اس کا پھیکا، مزاج سرد و خشک ہے۔

            واضح رہے کہ آفتاب جس زمانہ میں برج حمل میں رہتا ہے۔ اس زمانے کی بارش کو آب نسیاں کہتے ہیں۔ یہ کیڑا آب نسیاں کا قطرہ لے کر پانی کی تہہ میں چلا جاتا ہے۔ اس بارش کے پانی کا موتی عمدہ رہتا ہے۔

            سیاہ رنگ کا موتی جوہریوں میں کاکاباس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ہلکا سیاہ اور سرخی مائل بھی ہوتا ہے۔ نظر بد اور دفع مرض بطور لاکٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ اصلی موتی کارنگ بدبودار اور خراب پسینے، چربی اور دھوئیں سے خراب ہو جاتا ہے۔ ارسطوکا کہنا ہے کہ اس کے استعمال کرنے والے کی شادی کامیاب رہتی ہے اور زندگی خوشگوار بسر ہوتی ہے۔

            موتی مزاج میں پارسائی پیدا کرتا ہے۔ مقوی روح ہے، اس کا اثر تمام جسم میں سرایت کر کے صبر و استقلال پیدا کرتا ہے۔جسم کو قوت دیتا ہے، مفرح ہے، وہم و خفقان کو دفع کرتا ہے۔ سرمئی موتی صرف آنکھ کے لیے بہترین رہتا ہے۔ اس کا سرمہ آنکھ کی سفیدی اور کمزوری کو دور کرتا ہے۔ زمانہ شاہی میں اس کا چونا پان میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کا کشتہ مقوی قلب و مقوی دل و دماغ ہے۔ کشتہ کو قدرے معمولی طور پر شربت بنا کر پیا جائے تو آنکھ سے پانی بہنے کو بند کرتا ہے۔ موتی کو ریزہ ریزہ کر کے چالیس روز تک شیر خوار بچے کو کھلانے سے بچہ خسرہ سے محفوظ رہتا ہے۔ عرق گلاب میں اس کا سفوف حل کر کے چہرے پر ملنے سے چہرہ روشن رہتا ہے۔

            بادامی شکل کے موتی خوب صورت ہوتے ہیں۔ ان کو ہار یا مالا کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض داغدار موتیوں کا خراب حصہ کاٹ کر کلپ، بروچ اور انگوٹھی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ طبی طریقہ سے منہ سے خون آنے کو بند کر دیتا ہے۔ وافع امراض جگر و بواسیر اور دل و گردہ ہے۔

            قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مرجان کے ساتھ موتی کو اپنی خاص نعمتوں میں شمار کیا ہے۔موتی جنت کی نعمت ہے۔

            امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ باب تزوحِ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ایک مرتبہ حضرت جبرائیل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف فرمائے تھے کہ حضرت خدیجہ  ؓ تشریف لائیں تو حضرت جبرائیل نے فرمایا کہ ان کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت سنا دیجیے، جو موتی کا ہو گا‘‘۔

نیلم

            نیلم کواعلی درجے کے جواہرات میں شمار کیا جاتاہے۔ نیلے رنگ کے اس بیش قیمت پتھر کو فارسی میں یاقوت، کیود، سنسکرت میں سوری تن، انگریزی میں سیفائرSapphireاور ہندی میں نیلم کہتے ہیں۔ اس کا مز پھیکا، مزاج سرد و خشک ہے۔جسم و آنکھ کو طاقت دیتا ہے۔ ملین طبع ہے اس کی انگوٹھی جسم کو جلدی امراض سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس کا نیلا رنگ علامت و خلق حسنہ پیدا کرتا ہے۔ زردی مائل نیلا اور کیود رنگ لیکن مثل مور کی گردن کا نیلا رنگ کا اچھا اور قیمتی ہوتا ہے۔ہر شخص کے موافق نہیں آتا، جس کی موافقت کرتا ہے اس کو ترقی اور مالا مال کر دیتا ہے۔ ورنہ سخت نقصان پہنچاتا ہے۔

احتیاط

            نیلم اور اوپل کی خاصیت تقریباً ایک جیسی ہے۔یہ پتھر اگر کسی کو راس نہ آئے تو اسے کسی بھی صورت میں نہیں پہننا چاہیے، کیونکہ راس نہ آنے کی صورت میں اس پتھر کے پاس سوائے بربادی اور تباہی کے کچھ نہیں۔ یہ پتھر دنوں میں شاہ سے گدا بنا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ تختہ دار تک لے جاتا ہے۔ کوئی بھی عیب دار نگینہ پہننے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ جوہر شناسوں کے تجربہ اور نظر میں یہ ایک بدشگونی کی علامت ہے۔ اسی طرح عیب دار نیلم پہننے سے مندرجہ ذیل حقائق کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

-1         سفید داغ والا نیلم جلا وطنی کا موجب بن سکتا ہے۔

-2         جس نیلم کے اندر پتھر کاعلیحدہ ٹکڑا نظر آئے ، وہ کسی حادثہ میں موت کا سبب بن سکتا ہے۔

-3         جھائیوں والا اور چٹخا ہوا نیلم پہننے والاجانوروں اور درندوں کی خوارک بن سکتا ہے۔

-4         وہ نیلم جس کا رنگ ایک جگہ بالکل شیشے کی مانند سفید اور دوسری جگہ کوئی ہیرا رنگ ہو، تو باعث مقدمہ بازی ہے۔

-5         جس نیلم کے اوپر والے حصہ میں بادل کی سی چمک ہو، وہ دولت اور عمر کا دشمن ہے۔

-6         بدرنگ(ایک سے زیادہ رنگوں والا نیلم) پہننے سے انسان غصیلا، جھگڑالو ہو جاتا ہے۔

-7         نیلم میں کسی جگہ نیلے رنگ کی زیادتی یا دودھیان پن کاروبار میںنقصان کی علامت ہے۔

-8         ریشے یا دھبے والا نیلم باعث ذلت و خواری ہے۔

-9         مٹیالے رنگ کا نیلم دائمی امراض پیدا کرتا ہے۔

خصوصیات

            عام طور پر تین رتی سے زیادہ وزن کا نگینہ زود اثر ہوتا ہے۔ اس نگینے کی انگوٹھی، پہننے والے کے مزاج میں سختی پیدا کرتی ہے۔ کمزور آدمی خود میں قوت اور طاقت محسوس کرتا ہے۔ جفاکش اور استعمال کی طرف طبیعت راغب ہوتی ہے۔ صاحب انگشتری کو اپنی شہرت بہت عزیز رہتی ہے۔ یہ پتھر صحت اور تندرستی رکھنے میں بڑا معاون خیال کیا جاتا ہے۔ دلی تمنائوں میں معاون اور محبت بڑھاتا ہے۔

            حکیم افلاطون نے لکھا ہے کہ نیلگون نیلم استمال کرنے سے دوستوں کی نگاہ میں انسان عزیز رہتا ہے۔ ہمت و حوصلہ بڑھتا ہے اور آسمانی رنگ کا نیلم کسی فن میں کامل کرتا ہے۔ نیلم پہننے سے ہر مقصد میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ عزت، شہرت اور وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ آئیڈیل محبوب کے حصول میں ممدومعاون ہے۔ یہ نگینہ پہننے والے کے علاوہ اس کی اولاد پر بھی اثر ڈالتا ہے اور ان کی قدر و منزلت بڑھاتا ہے۔ تحمل، سکون، بربادی، ثابت قدمی اور بلند حوصلگی پیدا کرتا ہے۔ شخصیت کو پُرکشش بناتا ہے۔

            طبی نقطہ نگاہ سے، نیلم کا سرمہ آنکھوں کی جملہ بیماریوں سے نجات دلاتا ہے اور بصارت کو تیز کرتا ہے اس کا کشتہ زہرہ کے لیے تریاق ہے۔ دافع آسیب ہے۔ دل و دماغ کو طاقت دیتا ہے اور ان کی تمام بیماریوں کے لیے اکسیرہے۔ خون کی تمام بیماریوں کو دور کرتا ہے۔نکسیر پھوٹنے سے روکتا ہے۔ بخار کی شدت کو کم کرتا ہے۔

تاریخی حیثیت

-1         حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک تخت نیلم کا تھا۔

-2         حضرت موسی علیہ السلام پر جو دس احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیے گئے، نیلم کی سلوں پر کندہ کیے گئے۔

-3         ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی پر اس کے تاج کی زینت بنا اور ملک کو راس آیا۔

-4         واٹر لو کی جنگ میں نپولین کی شکست کا باعث بنا۔

-5         برطانیہ کے نیشنل میوزیم میں گوتم بدھ کا ایک مجسمہ ہے جو نیلم سے تراشا ہوا ہے۔

-6         پیرس کے عجائب گھر لودر میں ۹۱۳قیراط وزنی کتھئی رنگ کانیلم جو برما سے برآمد ہوا تھا، موجود ہے۔

-7         امریکہ کے نیشنل میوزیم میں ۵۶۴ قیراط وزنی نایاب نیلم موجود ہے۔

            نیلم سیلون، لنکا، برما، سیام اور آسٹریلیا سے دستیاب ہوتا ہے۔ اچھے قسم کا نیلم کشمیر میں بھی پایا جاتا ہے۔ لنکا جواہرات کی ایک بڑی منڈی ہے۔ سیام کے جنوبی مشرقی حصے میں بھی نیلم پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس کے ذخائر دریافت ہوئے۔ لیکن ابھی اس کے نکالنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

فیروزہ

            روغنی چمک کا مشہور پتھر ہے۔ جواہرات کی دنیا میں دوسرے نمبر پر پائے جانے والے اس نگینہ کا ذائقہ پھیکا ہوتا ہے۔ زرد خشک مزاج کے اس پتھر کو سنسکرت میں بیرج، فارسی میں فیروز اور انگریزی میں ٹرکوئس اور لڑ کہنا بھی کہتے ہیں۔ اس کا رنگ سبز اور سبزی مائل ہلکا و گہرا سفید ی مائل آسمانی رنگ کا ہوتا ہے۔ بعض فیروزے نیلے رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔ سب سے اعلی قسم فیروزی رنگ کا ہے۔

پہچان

            اس پر تیزات اثر نہیں کرتا۔ آگ میں پگھلتا نہیں بلکہ رنگت میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔ پختہ اور اچھے فیروزے کا رنگ مستقل قائم رہتا ہے۔ ایسے نگینے کی چمک اور آب زیادہ ہوتی ہے۔ بعض کا رنگ خراب ہو جاتا ہے۔ اس کو کچا فیروزہ کہتے ہیں۔ اس پتھر کے فوائد زیادہ اور نقصان کم ہوتے ہیں۔

خصوصیات

            پختہ اور اچھے فیروزہ میں یہ خاص صفت ہے کہ صاف اور اچھی ہوا و فضا میں اس کا رنگ اور صاف ہو جاتا ہے۔ مکدر و خراب ہوا میں رنگ کم رہتا ہے۔مزاج میں محبت اور ملنساری پیدا کرتا ہے۔ بقول ارسطو اس پتھر کے پہننے سے دل میں رحم اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ دشمن کو زیر کرتا ہے۔ سانپ اور بچھو فیروزہ کو دیکھ کر بھاگتے ہیں۔ خوشحالی لاتا ہے، مفلسی اور محتاجی کو بھگاتا ہے۔ دافع بلا ہے۔کسی آفت یا حادثے سے قبل از وقت آگاہی دلاتا ہے اور فوراً چٹخ جاتا ہے۔ چٹخا ہوا فیروزہ فوراً اتار دینا چاہیے، نہیں تو باعث نحوست ہو گا۔ چٹخا ہوا نگینہ انگلی سے فوراً نکال دینا بہتر ہے۔ ورنہ نقصان اور نحوست پیدا کرتا ہے۔ وہ انگوٹھی جس کا نگینہ گر گیا ہو، قطعی نہ پہننا چاہیے کیونکہ یہ مصیبت اور پریشانی کا سبب بنتی ہے۔

            فیروزہ بگڑے کام سنوراتا ہے،بری نظر سے بچاتا ہے۔ ساتھیوں اور احباب میں عزیز رکھتا ہے فیروزہ مفلسی اور محتاجی دور کرتا ہے۔ اس نگینے کو صبح و شام دیکھنے والا خوشی میں رندگی بسر کرتا ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا ہے کہ ’’پروددگار عالم ارشاد فرماتا ہے کہ جس ہاتھ میں فیروزے کی انگوٹھی ہو، وہ میرے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلائے تو میں اسے ناکام واپس نہیں کرتا‘‘۔

            فیروزہ مفرح، مقوی نظر و معدہ ہے۔ دماغ کو تقویت دیتا ہے۔ امراض دل مثلاً خفقان اختلاج وغیرہ میں فائدہ مند ہے۔ طبی طریقہ میں واضع اسہال و سنگ گروہ، امراض چشم و امراض میں مفید ہے۔ اس کا سرمہ مقوی بصر ہے۔

            بازو پر باندھنے سے ڈر اور خوف دور ہوتا ہے۔ دشمن کے مقابلے میں کامیاب کرتا ہے۔ اس پتھر کو گھسنے سے برقی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ افغانستان میں اس کی بڑی قدر ہوتی ہے۔ مشہد میں اس کے تراشنے کے کارخانے ہیں۔ سب سے عمدہ فیروزہ نیشاپور، مشہد، کرمان(ایران) کا مانا گیا ہے۔ یہ پتھر نیپال، تبت، امریکہ اور افغانستان میں بھی پایا جاتا ہے۔

جالب النوم

            یہ پتھر بہت سرخ رنگ میں صاف چمکدار ہوتا ہے۔ سورج کی روشنی میں دور سے اس کو دیکھا جائے تو دھواں سا نکلتا معلوم ہوتا ہے لیکن رات میں یہ ایسی روشنی دیتا ہے کہ اس پتھرکے قریب کی اشیاء صاف نظر آتی ہیں۔ قدرت نے اس پتھر میں خاص صفت عطا کی ہے کہ اگر کسی سوئے ہوئے انسان کے سرہانے رکھ دیا جائے تو جب تک اس کو سرہانے سے علیحدہ نہ کر لیں ہر گز بیدار نہ ہو سکے گا۔ یہ پتھر شب کے وقت صحرا میں پیدل سفر کرنے والے حضرات کے لیے پریشانی کا باعث رہتا ہے۔

ہیرا

            سب پتھروں سے زیادہ قیمتی ہے۔ زیادہ چمکدار و شفاف بلوری رنگ اور روشنی میں قوس و قزح کی سی شعاعین دینے والے اس پتھر کو عربی میں الماس، سنسکرت میں ہیرکم اور انگریزی میں ڈائمنڈ کہتے ہیں۔ یہ انگریزی نام یونانی ہے، جس کے معنی بہت زیادہ سخت اور مضبوط ہیں۔ اس کو ڈایامنٹ، آیڈی مس، الماہین، چونسیاک اور بجرم بھی کہتے ہیں۔ عظیم القدر جواہر ہے۔ اصلی اور خالص ہیرا بے رنگ ہوتا ہے۔ جمادات میں سب سے زیادہ چمکدار ہوتا ہے۔ مزاج سرد و خشک ہے۔ یہ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ تقریباً تین ہزار سال قبل مسیح کی قدیم داستانوں میں اس کا ذکر آیا ہے۔ عہد قدیم میں لوگ اس کی آب و چمک اور روشنی کی وجہ سے آگ والا پتھر کہتے تھے۔ اس میں یہ خاص صفت ہے کہ روشنی کی شعاعین اس سے ٹکرا کر واپس ہو جاتی ہیں۔ اگر سفید ہیرے کے کناروں پر موم لگا کر آفتاب کے سامنے رکھیں تو قوس و قزح جیسا رنگ معلوم ہوتا ہے۔ بڑے ہیرے میں اکثر چہرہ الٹا نظر آتا ہے۔ شاہی پتھر کی حیثیت سے اس کی اہمیت اور قدر تھی۔ شروع زمانے میں ہیرے کی پیدائش کو راز میں رکھا جاتا تھا۔ شہنشاہوں کے خزانوں میں بے نظیر اور نادر ہیرے محفوظ رکھے جاتے تھے۔ اس میں چمک کے ساتھ تڑپ بھی ہوتی ہے۔

            دنیا میں سب سے نایاب، قیمتی اور خوبصورت چیزوں کو ہیرے سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ یہ تمام جواہرات میں سخت اور کڑا ہے۔ اس کی چھ مشہور قسمیں ہیں۔

-1         بلوری ، یہ صاف اور شفاف چمکدار ہوتا ہے۔

-2         سیمابی، اس میںپارے جیسی جھلک ہوتی ہے۔

-3         زاغی، یہ معمویل سیاہی برق والا ہوتا ہے۔         

-4         حبشی، اس میں سیاہی رہتی ہے۔

-5         نباتی، یہ معمولی شربتی رنگ کا ہوتا ہے۔ لیکن رنگین ہیرے، نوادرات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ تمام پرانے ریکارڈ اور کتابیں اس معاملے میں خاموش ہیں۔ ہیرے کو تیز سے تیز دھات بھی نہیں کاٹ سکتی۔ اسے صرف اسی(ہیرے) سے ہی کاٹا اور تراشا جاتا ہے۔

خوبیاں

            ہیرے میں سے الٹراوائلٹ ریز کراس نہیں کر سکتیں۔

            ہیرے کو ہارڈ اسٹون بھی کہتے ہیںکیونکہ اس میں کسی قسم کی لکیر اور بال نہیں آ سکتا۔

            سورج سے شعاعین جذب کر کے اندھیرے میں زیادہ چمکتا ہے۔

            یاقوت، نیلم اور شیشے کو ہیرے سے کاٹا جا سکتا ہے۔

خصوصیات

            ہیرا قوت ارادی بلند کرتا ہے۔ تکان اور سستی پیدا نہیں ہونے دیتا۔ بمقالبہ یاقوت یہ پتھر بہت قوی ہے۔ ڈرا اور خوف سے محفوظ رکھتا ہے۔تحفہ، عالم شاہی میں تحریر ہے کہ ہیرے کو پاس رکھنے سے انسان آسمانی بجلی سے محفوظ رہتا ہے۔ طبیعت میں تیزی، فطرت اور عقل بڑھاتا اور سوچ سمجھ میں معاون ہے۔ اس پر سورج کا خاص اثر رہتا ہے۔ مشغول و مصروف حضرات کے لیے اچھا پتھر ہے۔ ازدواجی تعلقات میں معاون ہے اور محبت بڑھاتا ہے۔ ذہنی اور قلبی پریشانی کو دور کرتا ہے۔

            طبی طریقہ کار میں ہیرا خود زہرہے۔ لیکن زہرکا اثر زائل کرنے میں مفید ہے۔ اس کا کشتہ کیمیا میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ پارے کو قائم کر دیتا ہے(یہ ایک علیحدہ فن ہے)ہیرے کوجلانے سے اس کے شعلے کا رنگ نیلا مائل سفید ہوتا ہے۔ زمانہ قدیم میں ہیرے کو جادو، سحر و اسیب دفع کرنے کے لیے خاص طور سے پہنتے تھے۔ اس کو پیٹ پر باندھنے سے خرابی پیٹ دفع کرتا ہے اور معدہ کو تقویت دیتا ہے۔ ہیرا تندرستی پر اچھا اثر ڈالتا ہے اور بحث و مباحثہ کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ داغدار ہیرا نحس اور سرخ دھبے والا خونی ہوتا ہے۔ ہیرے کو منہ میں رکھنے سے دانت کمزور ہو جاتے ہیں۔ ہیرا شوگر کو کنٹرول کرتا ہے۔ انسولین کی کمی دور کرتا ہے۔ متعدد جسمانی عارضوں میں مثلاً فالج، لقوہ، مرگی، گٹھیا، مراق، تبخیر معدہ اور نقرس کے لیے اکسیر ہے۔ ہضم کو دور کر کے سانس کی بند نالیوں کو کھولتا ہے۔

            معمولی ہیرے کی کنی(ہیرے کا زیرہ ) بھی اگر کوئی کھالے تو مشکل ہی سے بچتا ہے۔ عہد قدیم میں فوج کے اعلی افسرکو ہیرے کی انگوٹھی دی جاتی تھی تاکہ جنگ میں فوج کے پسپا ہونے پر افسر دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہو جائے تو بادشاہ کی ہدایت تھی کہ ہیرا انگوٹھی سے نکال کر کھا لیا جائے۔ اس طرح دشمن کے قبضہ میں فوجی افسر زندہ نہیں جا پاتا تھا اور فوجی راز محفوظ رہتے تھے۔ یہ جگر کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ اگر اس کو فوراً ہی چند کھٹمل پانی میں پیس کر دودھ کے ساتھ پلائیں یا بکرے کا کچا جگر کھلا دیں تو قے سے نکل جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تازہ گرم دودھ اور گائے کا گھی پلانے سے استفراغ کرایا جائے تاکہ کل ہیرا خارج ہو جائے بعد یخنی روغن دار پلانا سود مند ہے۔

            اصلی ہیرا بکرے کے خون میںڈال کر خوب پکانے سے وزن کم ہو جاتا ہے۔ یہ روشنی کو منعطف کرتا ہے۔

عقیق

            عقیق پتھر دنیا میں بہترین سمجھا جاتا ہے۔ اسے فارسی میں عقیق، سنسکرت میں ہلیک اور انگریزی میں کارنے لین کہتے ہیں۔ اس کے اور مختلف نام ایگیٹ، کورز، واگٹس ہیں۔ سرخ سفید زرد دودھیا، کلیجی رنگ، بھورا رنگ کاچمکدار پتھر ہے۔بہ نسبت عقیق یمنی کھمباتی عقیق بہترین شمار نہیں ہوتا۔ یہ کھمباتی عقیق بمبئی سے قریب کھمبات (بھارت) سے مختلف رنگوں اور سائز میں دستیاب ہے۔ یہ بھی اچھے تاثرات کا حامل ہے۔ بشرطیکہ صاف اور بہتر ہو لیکن مزاج میں غصہ اور اُمور میں اُلجھنیں پیدا کرتا ہے۔ عقیق یمنی میں چار رنگ مثل کلیجی(قہوی، جگری) زرد، سفید اور مثل پختہ اینٹ کا افضلیت میں شمار کیے گئے ہیں۔مزا پھیکا، مزاج سرد و خشک ہے۔ مفرح قلب و مقوی نظر ہے۔ گلے میں پہننے سے غم اور غصہ دور ہوتا ہے۔ منہ سے خون آنا اور چوٹ سے خون جاری ہونے کو بند کرتا ہے۔ اس کا شمار مذہبی پتھروں میں کیا جاتا ہے۔ اس کو بزرگان دین نے زیادہ اپنایا۔صوفیاء کرام، درویش اور جوگی اپنے استعمال میں زیادہ رکھتے ہیں۔یہ انتہائی قدیم پتھر ہے۔ بارہ سو قبل مسیح سے استعمال میں آ رہا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلے عقیق کی انگوٹھی حضرت آدم علیہ السلام کے ہاتھ میں تھی۔

            سب سے اعلی اور بہتر عقیق یمنی ہے۔ یہ پتھر شعاعیں اخذکر کے صاحب انگشتری کے جسم میں منتقل کرتا ہے۔ اس کی ریز(عکس) جسم میں بہت جلد سرایت کرتی ہیں۔ صحت و تندرستی کے لیے اچھے اثرات رکھتا ہے۔

            اس کی انگوٹھی عصمت و شہادت کی طرف طبیعت کو راغب کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم میں صوفیانہ طرز کے حضرات اس پتھر کی مالا استعمال کرتے تھے۔ اس کے نگینے کی انگوٹھی مزاج میں چڑچڑے پن کودفع کرتی ہے۔ دنیاوی اُمور کے لیے بڑا معاون نگینہ ہے۔ کام کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اپنے پرعدم اعتماد غیر مستقل مزاجی اور حوصلہ شکنی جاتی رہتی ہے۔ عقیق کو گلے میں بطور لاکٹ استعمال کرنے سے اختلاج قلب اور دھڑکن دور ہوتی ہے۔ دافع خفقان ہے ۔ عقیق پر کندہ الفاظ ہمیشہ اپنی اصلی حالت میں ظاہر ہوتے ہیں۔

            سرخ عقیق میں جہاں اور بہت سے اثرات ہیں۔ یہ خاص صفت ہے کہ دل سے کینہ و نفاق دور کرتا ہے۔ اس کی بہت سی قسمیں ہیں۔ سب سے اعلی اور بہتر عقیق یمنی ہے۔ اس کے پہننے سے مزاج میں سنجیدگی پیدا ہوتی ہے اور یہ پتھر شیاطین کے مکرو فریب کو دور کرتا ہے۔ دشمنوں کو زیر کرتا ہے۔ عقیق بزدلی کو دور کر کے دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ کمزوریوں کا دفعیہ کامیابی کو روشن و قریب کر دیتا ہے۔ اس کے استعمال کرنے والے، مایوسی، خوف و ملال سے محفوظ رہتے ہیں۔ سیاہ عقیق بچے کے گلے میں بطور لاکٹ ڈالنے سے بچہ نظر بد سے محفوظ رہتا ہے۔ یہی عقیق درد سر کے لیے مفید ہے۔ بعض عقیق میں ابرک کی طرح پر ہوتے ہیں اور بڑے پتھر میں رگیں نمایاں نظر آتی ہیں۔

            طبی طریقہ کار سے اس کا سرمہ آنکھ کی بصارت کے لیے مفید ہے۔ اور اس کا منجن پائیریا میں اکسیر ہے۔ لیکن اس کو کھانے سے معدہ میں مختلف قسم کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔ جو شخص کافور و مشک کے ساتھ قدرے چنبیلی کے تیل میں عقیق کو گھس کر ماتھے پر لگا کر حاکم کے سامنے جائے، حاکم مہربان ہو جائے گا۔

            حضرت امام موسی کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’مومن کو پانچ چیزیں پاس رکھنا چاہیں‘‘۔

            (1)انگشتری  (2)مسواک  (3)تسبیح  (4)سجادہ  (5)کنگھی۔

            عقیق کی تسبیح پھرانے اور ذکر خدا کرنے سے بعوض ہر دانہ کے چالیس حسنہ اس کے نامہ اعمال میں از جانب پروردگار عالم لکھے جاتے ہیں۔

            ارشاد رسول اللہ ہے کہ ’’العقیق نیفی الفقر‘‘  یعنی عقیق پہننا فقیری کو دود کرتا ہے۔ برکت اور خوشی میں زندگی بسر ہوتی ہے۔عقیق کے منکوں کی مالا بنا کر پہننے کار واج بہت قدیم ہے۔ اس سے غم اور غصہ دفع ہوتا ہے اور پروردگار عالم کی طرف عبادت کا رحجان بڑھتا ہے۔ یہ پتھر عبادت گزاروں میں ہمیشہ سے بہت مقبول رہا ہے۔ انتہائی سرخ عقیق قبولیت دعا کا سہارا ہے۔

            ارشاد حضرت ختم المرسلین علیہ الصلوۃ وآلہ وسلم ہے کہ ’’میرے لیے بہشت سے حضرت جبرائیل علیہ السلام عقیق سرخ لائے تھے۔ مجھے اس کو پہننے کے لیے کہا تھا اور میری امت کو بھی اس کے پہننے کے لیے ارشاد فرمایا تھا‘‘۔

            حضرت محمد صلی اللہعلیہ وسلم سے ایک شخص نے چوروں کی شکایت کی کہ مجھے راستے میں لوٹ لیا۔ آپ نے فرمایا کہ ’’عقیق کی انگوٹھی کیوں نہیں پہنتا؟ شر سے محفوظ رہے گا‘‘ اور فرمایاکہ ’’عقیق کی انگوٹھی اندوہ غم سے محفوظ رکھتی ہے‘‘۔ آئمہ معصومین کا ارشاد ہے کہ ’’عقیق سفر میں جمیع بلائوں کی نگہبانی کرتا ہے‘‘۔

            حضرت جبرائیل بحکم رب العالمین حضرت رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ عرض کیا’’خداوند عالم بعد تحفہ درود و سلام فرماتا ہے کہ اسے رسول  ﷺ تم انگشتری عقیق دست راست میں پہنو اوراپنے پسر عم سے بھی یہی کہہ دو‘‘۔

            حضرت علی سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ایک پہاڑ ملک یمن میں ہے۔ اس نے اقرار وحدانیت رب العزت، میری رسالت و تمہارے اولاد کی امامت کا اعتراف کیا ہے۔ تمہارے دوستوں کو بہشت میں اور تمہارے دشمنوں کو جہنم میں داخل ہونے کا مقر رہوا ہے۔ جس کی وجہ سے قدرت نے اس کے استعمال میں بہت سے فوائد رکھے ہیں‘‘۔

            عقیق کے نگینے کی احادیث میں بکثرت فضیلتیں ہیں۔ یہ تمام نگینوں سے افضلیت رکھتا ہے۔

            جن چیزوں سے انسان ڈرتا ہے، خوفزدہ ہوتا ہے، ان سے امان پائے گا۔ ایک کتاب میں حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے ارشاد فرمایا کہ ’’انگوٹھی دست راست میں پہننے والا مقربان خدا میں داخل ہوتا ہے‘‘۔ حضرت علی نے عرض کیا کہ ’’مقربان کون ہیں؟‘‘ آنحضرت نے فرمایا کہ ’’جبرائیل اور میکائیل‘‘ آپ  ﷺ نے نگینہ سرخ پہننے کی زیادہ تعریف فرمائی ہے۔

            ابوطاہر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت امام حسن سے عرض کیا کہ ’’آپ سوائے عقیق کے اور نگینوں کو کیوں نہیں اختیار فرماتے‘‘ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ ’’عقیق کی فضیلت زیادہ ہے‘‘۔

            ایک اور واقعہ کتاب میں نظر سے گزرا ۔ حضرت امام جعفر صادق بہ ہمراہی چند اشخاص تشریف لے جا رہے تھے۔ ایک غیر آبادمقام پر کسی شخص کی لاش ٹکڑے ٹکڑے کیے ہوئے پڑی تھی۔ حضرت نے وہاں قیام فرمایا اور ایک شخص کو یہ دیکھنے کے لیے حکم دیا کہ اس میت کے ہاتھ میں انگوٹھی ہے یا نہیں؟ معلوم ہوا کہ عقیق کی انگوٹھی داہنے ہاتھ میں ہے۔ حضرت نے اس نگینے سے دریافت فرمایا کہ تو نے اس شخص کی حفاظت کیوں نہیں کی؟ نگینہ نے بہ تعمیل حکم عرض کیا کہ ’’مولایہ شخص نجس تھا۔ قزاقوںنے اس کو ہلاک کیا لیکن میں نے اس کا دست راست اور بالائی حصہ جسم ٹکڑے کیے جانے سے محفوظ رکھا‘‘۔

            حضرت امام رضا نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس شخص کے ہاتھ میں عقیق کی انگوٹھی ہو، ہ صبح جاگتے ہی کسی چیز پرنظر کرنے سے پہلے انگوٹھی کا نگینہ اپنی ہتھیلی کی طرف پھیر کر اس کو دیکھے اور سورہ انا انزلہ پڑھے تو پروردگار عالم اس شخص کو تمام دن آفات اوربلائوں سے محفوظ رکھے گا‘‘۔

            اچھا عقیق یمن، مصر، افغانستان، عرب، برازیل اوردریائے روم کے کنارے سے دستیاب ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ کھمباتی عقیق بھارت میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ملنے کا امکان ہے۔

 

پتھروں کے مثبت و منفی اثرات

            سورج روشنی کا منبع اس کی شعاعین انسان کی عادات و اطوار قوت احساس اور شعور پر اثر انداز ہوتی ہیں۔دوسرے سیارگان سورج سے شعاعین لے کر موافق رنگوں کو اخذ کرنے کے بعد دوسرے رنگوں کو دوسرے سیاروں پر منعکس کرتے ہیں۔ اسی طرح سورج اور ستاروں کی شعاعین کسی پتھر پر اثر انداز ہوتی ہیں تو وہ پتھر ان کا  سمک شعاعوں سے موافق رنگ جذب کر لیتے ہیں۔ بعد میں یہ پتھر جب انسان کے استعمال میں آتا ہے تو وہ ان رنگوںسے قدرتی طور پر اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ جدید تحقیق میں کا  سمک شعاعین اور انفراریڈ شعاعیں آج کل بے شمار امراض کے علاج میں استعمال ہو رہی ہیں۔ چاند کی شعاعوں سے دماغی امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔ نومولود بچے پر گرہن کے اثرات سے سبھی واقف ہیں۔ اس لیے ان پتھروں سے نکلتی شعاعوں کے اثرات سے بھی پہلو تہی نہیں کی جا سکتی۔ پتھروں کو استعمال کرنے سے پہلے اس کے اثرات، ہیت، سیارہ، برج اچھی طرح معلوم کر لینا چاہیے اور صحیح مریض کی تشخیص کے اصول کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ جس طرح غلط دوا کھانے سے انسانی جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسی طرح غلط پتھر پہننے سے بھی نقصانات کا اندیشہ ہے۔ ذیل کے چارٹ میں تاریخ پیدائش کے حساب سے ستارہ اور برج کو واضح کیا گیا ہے۔ اس کی مدد سے آپ اپنے نگینے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

            اگر کسی شخص کو اپنی تاریخ پیدائش یاد نہیں تو وہ اپنے نام کے پہلے حرف کی مدد سے اپنا ستارہ اور برج معلوم کر کے اپنے نگینہ کا انتخاب کر سکتا ہے۔ ذیل میں دئیے گئے نقش کی مددسے اپنا برج اور ستارہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔

تاریخ پیدائش

برج

سیارہ

21اپریل تا21مئی

ثور

زہرہ

22مئی تا21جون

جوزا

عطارد

22جون تا23جولائی

سرطان

قمر

24جولائی تا23اگست

اسد

شمس

24اگست تا23ستمبر

سنبلہ

عطارد

24ستمبر تا22اکتوبر

میزان

زہرہ

23اکتوبر تا22نومبر

عقرب

مریخ

23نومبرتا22دسمبر

قوس

مشتری

23دسمبر تا19جنوری

جدی

زحل

21جنوری تا19فروری

دلو

زحل

20فروری تا 20مارچ

حوت

مشتری

21مارچ تا20اپریل

حمل

مریخ

 

نام کے ابتدائی حروف

برج

سیارہ

ا۔چ۔ل۔ع

حمل

مریخ

ا۔او۔ای۔ب۔و

ثور

زہرہ

ک۔ق۔حا۔ح

جوزا

عطارد

ہی۔ح۔حو۔ڈ

سرطان

قمر

ما۔می۔م۔ٹ

اسد

شمس

پ۔پا

سنبلہ

عطارد

ا۔ت۔ط

میزان

سیارہ

نا۔ک۔یا۔ی

عقرب

مریخ

یو۔ف۔فا

قوس

مشتری

ج۔ح۔ز۔ذ۔ظ

جدی

زحل

س۔ت

دلو

زحل

د۔دا۔دی

حوت

مشتری

            جس طرح انسان اپنی فطرت کے مطابق کچھ دوست بناتا ہے۔کچھ اس کے دشمن ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیںجو اسے جانتے بھی نہیں۔ اسی طرح نظام کائنات میں سیارگان بھی اپنے کچھ دوست اور کچھ دشمن رکھتے ہیں۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ شمس کی دشمنی مشتری سے ہے تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ شمس کی شعاعین مشتری پر ناموافق پڑ رہی ہیں۔ اس شمس کی شعاعین مشتری پر نحس اثرات ڈالتی ہیں۔ جس سے نگینہ پہننے والوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ شمس مشتری کا دوست ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ شمس مشتری پر موافقانہ شعاعین ڈال رہا ہے۔ اس لیے نگینہ پہننے والوں کے لیے بھی درست ثابت ہوتا ہے۔ نگنیہ پہنتے وقت اپنے ستارے سے نیچے دئیے ہوئے نقشے کے مطابق نگینے کا انتخاب کریں تو انشاء اللہ ہر مقصد میں کامیابی ہو گی اگر نگینہ کا انتخاب غلط ہو جائے تو فائدے کی بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔

سنگ ستارہ

            اس کو سنسکرت میں سورنا مکھی، انگریزی میںChrysopraseاور مختلف زبانوں میں سورنا گلی، کرسیوپرہیرن سٹین کہتے ہیں۔

نام سیارہ

برج

دوست

دشمن

غیرجانبدار

نگینہ

شمس

اسد

قمر، مریخ، مشتری

زحل، زہرہ

 

سن اسٹون، کہربا، الیگزرائٹ

قمر

سرطان

شمس

عطارد

مریخ، مشتری، زحل

مروارید، کارنڈم، اوپل، حجر القمر، درنجف، دہانہ رنگ

مریخ

حمل، عقرب

مشتری، شمس، قمر

عطار

زحل، زہرہ

یاقوت، مرجان، لعل، عقیق

عطارد

جوزا، سنبلہ

شمس،زہرہ

قمر

زحل، مریخ، مشتری

حجر الدم، مونا زائٹ،پکھراج، زرقون، پریڈٹ، سٹرین، رواکھ، کالی ڈانی

مشتری

قوس، حوت

شمس، قمر، مریخ

عطارد،زہرہ،   زحل

زحل

زرد اکوامرین، ایمے تھسٹ، فیروزہ، لاجورد، سنگ یشب، سنگ سیم، زبرجد، ایپی ڈوت

زہرہ

ثور، میزان

عطارد، زحل

قمر، شمس

مریخ، مشتری

ہیرا، لہسنیا، زبرجد، کنزرائٹ، نیلم، ترمری

زحل

جدی،دلو

زہرہ، عطارد

قمر، مریخ، شمس

مشتری

گارنیٹ، سنگ ستارہ، سنگ حدید

            یہ بھورے اور برائون رنگ کا خوشنما اور ریشمی چمکدار پتھر ہے۔ اس میں بہت چھوٹے چھوٹے ذرات ستاروں کی طرح چمکتے ہیں۔

            اس کا سنہرا رنگ معرفت الہی پیدا کرتا ہے۔ اس کے افعال و خواص لہسنیا سے ملتے جلتے ہیں۔ سنگ ستارہ کو گھسنے سے اس میں برقی طاقت پیدا ہوتی ہے۔

            زمانہ قدیم میں چاندی اور سونے کی ڈبیوں کے خوب صورت ڈھکنے تیار ہوتے تھے۔ یہ پتھر جاپان میں عمدہ پایا جاتا ہے۔ اصلی مشکل سے دستیاب ہوتا ہے۔

خصوصیات

            عشق و محبت میں کامیابی، قدرو منزلت میں اضافہ، مصیبت و مشکل میں مددگار ہوتا ہے۔ دشمن کو سرنگوں کرتا ہے خواب بد سے بچاتا ہے۔ بچوں کو نظر بد سے بچاتا ہے۔ جن، بھوت، جادو، ٹونہ وغیرہ کا بہترین علاج ہے۔

            دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں، دانتوں میں خون آنا وغیرہ پر اس کا منجن استعمال کریں۔ بلغمی امراض کے لیے مفید ہے۔ اس کا سرمہ لگانے سے آنکھوں کی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔

سنگ مرمر

            عربی میں حجر الابیض اور انگریزی میں Marble(ماربل) کہتے ہیں۔ غالباً اسی کو حجر النبی کہتے ہیں۔ مزا پھیکا، مزاج گرم و خشک ہے۔ طبی طریقہ کار میں دافع ہیضہ ہے۔ یہ پتھر ہر قسم کے غم کو دفع کرتا ہے۔مارگزیدہ کے مقام پر رکھنے سے زہر چوس لیتا ہے۔ اس کا منجن دانتوں کے جملہ امراض میںمفید ہے۔زعفران اور کشنیر سبز( دھنیے کے سبز پتے) کے پانی کے ساتھ ملا کر گرم لیپ کرنے سے ورم تحلیل کرتا ہے۔ ہمراہ گلاب دافع طاعون ہے۔ سنگ مرمر کا ایک ٹکڑا جس پر کسی کے انتقال کی تاریخ تحریر ہو، عشق و محبت ختم کرنے کی نیت سے اس پتھر کو دھو کر اس کا پانی بہ نیت جدائی عاشق کو پلائیں، نہایت جلد اثر ہوتا ہے۔ یہ عمل چاند کی مخصوص تاریخوں میں زود اثر رہتا ہے۔ یہ پتھر پانی میں مکمل حل نہیں ہوتا۔ عمارتیں، سڑکیں، چونا، شیشہ اور سوڈا وغیرہ بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ آفتاب کی تیز کرنوں سے بھی گرم نہیں ہوتا۔ پہلے رنگین پتھر کمیاب تھا۔

            اس کا استعمال زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔ اس پتھر پر آرٹ کا کام خاص طور پر مصر کی قدیم مساجد میں نظر آئے گا۔ مصریوں نے سنگ مرمر پر رنگین پتھروں سے جو نقش و نگار کیے ہیں، وہ نایاب زمانہ ہیں۔ مشتری دیوتا کا ایک عمدہ مجسمہ سنگ مرمر، سونے اور ہاتھی دانت سے 43قبل مسیح اولمپیا کے میدان میں تعمیر کیا گیا۔ خانہ کعبہ کا فرش سنگ مرمر کا ہے۔

            سنگ مرمر پر نمک رگڑ کر پانی سے دھو ڈالیں تو بالکل شفاف و آبدار ہو جاتا ہے۔ یہ پتھر ضلع مردان، کوئٹہ اور راجستھان (بھارت) میں عمدہ دستیاب ہوتا ہے۔

مرجان سرخ

             فارسی میںبسد، سنسکرت میں پروال، انگریزی میںکورلCoral ، عربی میں عقیق البحر(سمندری) عقیق اور کوریم پروالہ، پگالم، سادھوچی اور تاڑا کہتے ہیں۔ اس کو مونگا بھی کہتے ہیں۔ عمدہ قسم کا گہرا سرخ ہوتا ہے۔ مزا پھیکا، مزاج سرد و خشک ہے۔ یہ سرخ، گلابی، بھورا، ہلکا زرد اور سفید ہوتا ہے۔ یہ کیلشیم کاربونیٹ اور آئرن کا مرکب ہے۔ مشہور چیز ہے۔

            کلام پاک میں سورہ رحمن میں پروردگار عالم نے اپنی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے آیت 22 میں مرجان کا تذکرہ کر کے بتا دیا کہ یہ خاص نعمت ہے اس کا رنگ دیدہ زیب، افعال و خواص اور اثرات بہت سبک ہیں۔

            قرآن پاک میں نام آنے کی وجہ سے اس کی تسبیح کا رواج زمانہ قدیم سے ہے۔ بعض جواہر پتھر میں جبکہ مرجان پانی میں نمود حاصل کرتا ہے۔ یہ سمندر کی تہہ میں پتھر سے چمٹا ہوا شہد کے چھتہ کی مانند سوراخ دار سرخ رنگ کی لکڑی ہے، پتھر سے اُگتا ہے۔ اس کی جڑ بھی ہوتی ہے۔ اس کی شاخوں میں پھل اور پتے نہیں ہوتے۔

            طبی طریقہ میں مرض لقوہ و فالج کودفع کرتا ہے بدن کے رعشہ میں مفید ہے۔ مقوی معدہ و جگر ہے۔ اس کا لاکٹ مفید ہے۔ بچوں کے گلے میں ڈالنے سے جادو، ٹونہ،سحر، رونا و بچوں کی کھانسی اور ڈرائونے خواب سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کی انگوٹھی تنگدستی کو دفع کرتی ہے۔ مرگی والے مریض کے لیے جس شمس و قمر میں اتحا د ہو اور زہرہ سے قربت نہ ہو، اس وقت سونا و چاندی ہم وزن کی انگوٹھی پر مرجان لگوا کر استعمال کریں۔مرض مرگی میں انتہائی مفید ہے۔ یہ انگوٹھی مرض گٹھیا کو بھی دفع کرتی ہے۔ (صرف صاحب علم ہی سے انگوٹھی تیار کروائی جائے)۔ اختلاج قلب و دل کی دھڑکن میںفائدہ پہنچاتا ہے۔ جالینوس نے لکھا ہے کہ بہتے خون کی جگہ پر مرجان کا سفوف چھڑکنے سے خون کا بہنا رک جاتا ہے۔ شکم پر باندھنے سے پیٹ کی تمام بیماریاں دور ہوتی ہیں۔

            فیضی آرٹ گیلری (کراچی) میں زمانہ قدیم کے مرجان سے مزین لباس محفوظ ہے۔ اس لباس میں عمدہ قسم کے مرجان کی شاخوں سے خوب صورت درخت بنایا گیا ہے۔ چھری کانٹوں کے دستے بھی بنائے جاتے ہیں۔

            عمدہ مرجان، بحرہند، خلیج فارس، بحر روم اور افریقہ کے مقام مرشی جاپان اور کراچی سے قریب سمندر میں بھی بعض جگہ کہیں کہیں سے دستیاب ہوتا ہے۔

بلور

            عربی میں حجر البلور، انگریزی میں کرسٹلCrystal کہتے ہیں۔ یہ مشہور سفید براق اور روغنی چمک کا چمکدار شفاف پتھر ہے۔ مزا پھیکا اور مزاج سرد و خشک ہے۔ تراشنے سے قبل اس کی صفائی اور چمک نمک کے مانند ہوتی ہے۔ بعض میں ہلکا گلابی، نیلا اور زدر رنگ معلوم ہوتا ہے۔

            طبی طریقہ میں اس کا نہایت باریک سفوف آنکھ کا جالا کاٹتا ہے۔ اس پتھر کو گھسنے سے اس کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔ جو بچے رات کو سوتے میں دانت بجاتے اور چونکتے ہیں ان کے گلے میں پہنانے سے ڈرنا موقوف ہو جاتا ہے۔ بلور مرض رعشہ، بچے کا ڈرنا اور ڈرائونے خواب دفع کرتا ہے۔ پاس رکھنے سے درد دندان دور کرتا ہے۔

            اس پتھر کے ساتھ پھٹکری سرہانے رکھ کر سونے سے پریشان کن خواب آنا بالکل بند ہو جاتے ہیں۔ اس کی انگوٹھی مرض عسر البول میں مفید ہے۔ بکری کے دودھ میں بھگونے سے شفاف اور چمکدار ہو جاتا ہے۔ اس کی مختلف شعاعوں میں مختلف اثرات ہوتے ہیں۔

            بعض مذاہب نے اس پتھر کو بڑی اہمیت دی۔یورپ کے انومیکرٹیس مشہور نامی گرامی پادری نے 1458ء میں اعلان کیا کہ جو شخص شفاف پوشاک کے ساتھ بلور کو ہاتھ میں لے کر عبادت گاہ جائے گا۔ اس کی دعا ضرور قبول ہو گی۔ زمانہ قدیم میں بلور کے پیالے، جھاڑ فانوس، دوربین اور عینک کے تال بنائے جاتے تھے۔ تھوڑی روئی رکھ کر آفتاب کے رخ اس کو رکھنے سے روئی میں آگ لگ جاتی ہے یہ پتھر آگ پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال میں آتا تھا۔اچھا بلور شفاف اور بے داغ، ایک رنگ میں سفید ہوتا ہے۔ بے عیب چمکدار بلور مختلف ڈیزائنوں کے لیے بہت مناسب اور موزوں ہے۔ اس پر کوئی بھی سین یا منظر کشی پیش کی جاتی ہے۔شاہی زمانے میں بادشاہوں کے دسترخوان پر اس کے خوب صورت اور نقش و نگار سے مزین برتن ہوا کرتے تھے۔

            اسکاٹ لینڈ کے باشندے اس پتھر کو زیادہ استعمال کرتے تھے۔ 1943ء میںامریکی صدر روزویلٹ کی طرف سے شہنشاہ ایران کو ایک بلور کا افسانوی پیالہ بطور تحفہ پیش کیا گیا۔ اس پیالے کا ڈیزائن ایک ممتازامریکی مجسمہ ساز سڈنی واہ نے تیار کیا تھا۔اس پر مقبول ترین امریکی عوامی گیتوں سے متعلق نقوش کندہ تھے۔

            ایک تراشیدہ بلوری ہار اور انگشتری اور اسی پتھر کے بندے فیضی آرٹ گیلری (کراچی) اور قوی عجائب گھر پاکستان(کراچی) میں ایک بڑا طرز کا سفید بلور محفوظ ہے۔ یہ تقریباً نو سو سال قدیم ہے۔

            اچھا بلور عموماً آزاد حالت میں قلمی اور غیر قلمی دونوں طریقوں سے پتھر کی شکل میں کشمیر، بندھیا چل اور پاکستان کے پہاڑی علاقوں کی چٹانوں میں دستیاب ہے۔

حجرالاسود

            یہ مبارک پتھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقدس ہاتھوں کا نصب کردہ ہے۔ حضرت ابراہیم اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل نے مل کر بیت اللہ کی تعمیر شروع کی۔ یہ تعمیر حجر الاسود تک پہنچی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی راہنمائی فرمائی کہ سامنے ایک پہاڑی پر جنت کا یہ پتھر حجر الاسود ہے۔ طوفان نوح کے وقت سے یہ یہیں رکھا ہے۔ جبل ابوقبیس نے کہا کہ مجاہد کہتے تھے کہ دنیا بھر کے پہاڑوں میں سے اللہ تعالی نے سب سے پہلے اس کو خلق کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اٹھا کر اس مقام پر نصب کر دیا۔ جب بیت اللہ مکمل ہو گیا تو اللہ تعالی نے فرمایا ’’یہ تمام لوگوں کا قبلہ اور جھکنے کی جگہ ہے‘‘۔

            قدرت نے تمام پتھروں کو پست کر کے حجر الاسود کو جس کی نسبت اپنی طرف کی تھی۔ دنیا کی توجہ اس مقدس پتھر کی طرف کرا دی کہ اس کو بوسہ دو۔ شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی نے اپنی کتاب سیرۃ النبی 134صفحہ کے زیر حاشیہ جو ایک حدیث کی طرف تلمیح ہے، تحریر فرمایا ہے کہ ’’میں حجر الاسود، نبوت کی عمار ت کا آخری پتھر ہوں۔‘‘ اس پتھر کا رنگ خانہ کعبہ کے رنگ سے منسوب ہے اور خانہ کعبہ میں زمین سے کچھ زیادہ بلند دیوار میں نصب ہے۔ اس کو رکن سود، بھی کہتے ہیں۔

            طواف کرنے والے اس سے چمٹ کر دعائیں مانگتے ہیں۔ اس کا مس کرنا باعث دور ہونے گناہ کے ہے۔ طواف کی ابتداء حجر الاسود کو چوم کر کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس پتھر کو بوسہ دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ’’روز قیامت یہ پتھر آئے گا اور اس شخص کی گواہی دے گا جس نے توحید کے ساتھ اسے بوسہ دیا۔ اس دن حجر الاسود کی گویائی بحکم اللہ بہت تیز ہو گی‘‘۔

            اگر اژدہام کی وجہ سے بوسہ نہ دے سکے تو ہاتھ سے چھو کر مس کرے اور اپنے ہاتھ کو بوسہ دے لے۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو حجر الاسود کے سامنے دونوں ہاتھ کرنے کے بعد اپنے ہاتھ چوم لے۔ اس پتھر کو پروردگار عالم نے بنی آدم کے عہدو پیمان ودیعت کیے ہیں۔ یہ پتھر روز محشر ان لوگوں کی گواہی دے گا جن حضرات نے اس کی زیارت کی۔ اس پتھر کو غیر معصوم اس کی جگہ نصب نہ کر سکے۔ ایک کتاب میںحجر الاسود کے متعلق تحریر ہے کہ یہ پتھر شروع میں بہت روشن تھا اور اس پتھر کو حضرت جبرائیل علیہ السلام جنت سے لائے تھے۔ حجر الاسود کی عزت و احترام ہر ایک پر فرض ہے۔

خصوصیات

            اس پتھر کے متعلق ارسطو نے لکھا ہے کہ اس کو پاس رکھنے سے عقل بڑھتی ہے اور تندرستی کے لیے بڑا معاون پتھر ہے۔ایک قسم اس کی زرد رنگ کی بھی ہے۔ یہ زہر کے اثرات کو زائل کرتا ہے۔ ارسطو کا کہنا ہے کہ سنگ اسود جس مکان میںہو، وہاں کے مکین صحت و تندرستی اور باعزت زندگی بسر کریں گے۔

            حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص خانہ کعبہ میں حجر الاسود کے پاس دعا کرتا ہے ، اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور یہ بھی کہ حجر الاسود کو ہاتھ سے مس کرنا گویا مصافحہ کرنا ہوا اور بیعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوئی، جو کوئی بیمار شخص طلب شفا اور تندرستی کے لیے حجر الاسود کو مس کرتا ہے، شفا پاتا ہے۔

درنجف  

            یہ پتھر سفید رنگ کا بلوری چمکدار ہوتا ہے۔ نجف اشرف میں پایا جاتا ہے جو مقام عرف عام میں داخل نجف ہے۔ اسی زمین کو اس دربے بہا کے لیے افضلیت و شرف حاصل ہے۔ اس کی فضیلت کتب میں بہت مندرج ہے۔ زیر زمین یہ پتھر بہت دستیاب ہے۔ نجف اشرف کے بازار میں نگینہ ساز دو قسم کے درنجف بری و بحری فروخت کرتے ہیں۔ بحر در نجف، نہایت سفید و براق ہوتاہے اور بری میں چمک کم ہوتی ہے۔

دھانہ فرنک

            فارسی میںی زرنگار فرنگی یا زرنگار معدنی، عربی میں حجر ذہنج اور انگریزی میں کڈنی اسٹون Kidney Stoneکہتے ہیں۔ اس کا رنگ نیلا، سبز و سفیداور دودھیا ملا جلا ہوتا ہے۔ اس پتھر سے اکثر رنگ بنتے ہیں۔ یہ پتھر سونا چاندی، تانبہ اور لوہے کی کان سے نکلتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا کس بھی جس قسم کی کان سے نکالا ہوا ہو، اسی دھات کا رنگ دیتا ہے۔طلائی اور نقرئی کس کا پتھر عمدہ ہوتا ہے۔ اس کا مزا پھیکا، مزاج سرد و خشک اور گرم و خشک ہے۔ اکثر زہروں کا تریاق ہے۔ یہ سبز رنگ کا ہوتا ہے۔ تانبے کے کس کا لیموں کے رس میں گھس کر کھلانے سے افیون کھائے ہوئے شخص کا زہر دافع ہوتا ہے۔ لیکن اس کو کسی اور زہر کے دفع کرنے میں میں ہرگزنہ کھانا چاہیے۔ درد اور تکلیف میں فوری سکون دیتا ہے۔

            اس پتھر کو منہ میں رکھ کر لعاب اور تھوک نگلنابھی نقصان دہ ہے۔ چاقو یا لوہے کی کسی چیز پر لیموں کا رس ڈال کر دہانہ فرنک کو اس پر ملنے سے اس لوہے پر پیتل کا رنگ ظاہر ہوتا ہے۔

            دہانہ فرنک نگینہ کی انگوٹھی جو سونا یا چاندی کے کس کی ہو، درد گردہ حوائی گردہ اور درد پتہ والے مریض کے لیے مفید ہے۔ انگوٹھی اس طرز پر بنوائی جائے کہ نگینہ انگلی سے مس ہوتا رہے۔

روپ مکھی

            اس کور وپا مکھی بھی کہتے ہیں، سنسکرت میں تارا مکھی، چاندی کی کان سے یہ پتھر نکلتا ہے۔ اس میں چمک نہیں ہوتی، رنگ سفید، مزا پھیکا، مزاج گرم و خشک ہے۔ یہ زہر ہے۔ اس کا کھانا سخت منع ہے۔بچے کی گردن میں لٹکانے سے خوف اور ڈر دور ہوتا ہے۔ طبی طریقہ کار میں اس کا سرمہ آنکھوں کی پیپ کو دفع کرتا ہے ہمراہ ہڑتال اس پتھر کو پیس کر لگانا خراب گوشت کو کاٹ کر عمدہ گوشت پیدا کرتا ہے۔ مرض برص اور منہ کی جھائیوں کے داغ دفع کرتا ہے۔

روپاڑہ

            اس کو کچا بلور بھی کہتے ہیں۔ بغیر آب و چمک کا سفید، نرم، قدرے گہرے رنگ میں ملتا ہے۔ اس پر مختلف مصنوعی رنگ مثلاً ہرا، گلابی، سفید اور یاقوتی وغیرہ باآسانی چڑھائے جا سکتے ہیں۔ بھارت میں خوب دستیاب ہے۔

زبرجد

            زبرجد لفظ عربی کا ہے۔ سنسکرت میں پامدی بھدر، انگریزی میں بیرلBerylاور مختلف زبانوں میں پاری، امرینہ کہتے ہیں۔ مزاج سرد و خشک، مزا تلخ ہے۔ اس میںتانبہ کے اجزاء بھی شامل ہیں۔ اس کے متعلق سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ جب ہوا کی حرارت اور زمین کے بخارات تانبے کو اس کی کان میں پکاتے ہیں تو تانبے سے بھی بخارات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بخارات گندھک سے متاثر ہو کر اور موسم کی تبدیلی سے ایک جگہ جمع ہو کر زبرجد بناتے ہیں۔ ہوا کی صفائی سے یہ پتھر مصفیٰ ہو کر سبزی کی جھلک دکھاتا ہے۔ از قسم جواہر ہے۔ یہ مثل زمرد کے سبزی مائل ہے۔ اس کی ایک قسم زردی مائل بھی ہوتی ہے۔ یہ بلوری چمک کا ہوتا ہے۔ اور زمرد کی کان کا ادنی پتھر ہے۔

            اس کی انگوٹھی آنکھ و نظر کے لیے مفید ہے۔ طبی طریقے میں مرض کھانسی میں فائدہ رسال ہے دمہ کو دفع کرتا ہے۔ پتھر توڑ کر نکالتا ہے۔ سرکے میں گھس کر داد کی جگہ لگانے سے شفا ہوتی ہے۔ مرگی کے دورے نہیں پڑتے۔ مزاج میں سخاوت پیدا ہوتی ہے۔ زبرجدپر اگر سانپ کی نظر پڑ جائے تو اندھا ہو جانے کا امکان ہے۔

            یہ پتھر برے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ مشکلات سے نجات اور دماغی اُلجھنیں دفع کرتا ہے۔ سفر کا ساتھی ہے۔ اکثر تانبے کی کان سے بھی دستیاب ہے۔ اس کا منجن دانتوں کی تمام بیماریوں میںمفید ہے۔

            یہ پتھر پاکستان، مصر، اسکاٹ لینڈ، امریکہ اور برازیل میں پایا جاتا ہے۔

جزع یمانی

            مثل عقیق سلیمانی ہوتا ہے۔ اس میں مختلف رنگ کا جال یا لکیریں معلوم ہوتی ہیں۔ بعض میں سلیٹ کی طرح متوازی پرت بھی رہتی ہے۔ سفید شربتی، سیاہ اور بھورے رنگ کا پتھر ہے۔ اکثر نگینوں میں دھاریاں نمایاں نظر آتی ہیں۔یہ ذوق عبادت بڑھاتا ہے۔ قدیم چینی باشندے اس کو ناپسند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ پاس رکھنا بھی اچھا نہیں خیال کرتے۔

            جزاع یمانی شیاطین کے مکر و فریب کو دفع کرتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے گلے میں بطور لاکٹ ڈالنا رال کثرت سے جاری کرتا ہے۔ ارشاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ’’اس نگینے کو داہنے ہاتھ کی انگلی میں پہن کر نماز پڑھنا ستر نمازوں کے برابر ہے‘‘۔

            یہ نگینہ تسبیح و استغفار کرتا رہتا ہے۔ اس کا ثواب انگوٹھی پہننے والے کے لیے لکھا جاتا ہے۔

            یہ یمن و چین میں اچھا دستیاب ہے۔

حدید

            اس پر مقناطیس کا اثر نہیں ہوتا۔ عربی میں حجر خماہان، فارسی میں سلطان مہرہ یا صندل حدیدی کہتے ہیں۔ یہ نرو مادہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ مزاج سرد و خشک، رنگ بھورا اور سیاہ ہوتا ہے۔ طبی اُصول میں حکماء کے خیال کے بموجب کمزور عضو پر پیس کر لگانا عضو کو قوی کرتا ہے۔ اس پتھر کو گھس کر جانور کے پر سے ورم، سوزش اور ٹیس کے مقام پر لگایا جائے تو فائدہ رسال ہے۔ اس میں لوہے کی آمیزش زیادہ ہوتی ہے۔

            خفقان دفع کرتا ہے۔ خارش اور پلکوں کی سوزش میں بھی گھس کر لگانا بہت سود مند ہے۔